اغواء تشدد برہنہ تصاویر وائرل کرنے والے پانچ مجرموں کو سزائے موت

123-164.jpg

گلگت(بیورو رپورٹ)گلگت کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نوجوان کو اغوا کے بعد تشدد اور برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر پانچ ملوث مجرموں کو سزائے موت اور قید کے ساتھ جائیداد ضبطی کی سزائیں سنا دی ۔ دنیور تھانے میں 13 اپریل 2020 کو علی احمد نامی شخص کی درخواست پر اغوا اور انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت دنیور تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ جس میں درخواست گزار نے اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور برہنہ کرکے بنائی جانے والی تصاویر کو سوشل میڈیا میں وائرل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے عدالت میں ڈیڑھ سال تک سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر انسداد دہشتگردی کورٹ کے جج رحمت شاہ نے پانچوں مجرموں ساجد حسین ،مقبول حسین ،نعمان علی ،ناصر عباس اور حسنین حسین کو سزائے موت سنا دی۔اور بعض دفعات کے تحت چار مجرموں کو 17 ،17 سال جبکہ ایک مجرم ساجد حسین کو 24 سال قید کی سزائیں بھی سنادی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام مجرموں کی جائدادیں اور اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ضبطی کا بھی حکم دیا ۔

شیئر کریں

Top