ایف بی آر نے گزشتہ دو ماہ کے دوران 850 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا،

712815_9171977_fbr_akhbar.jpg

پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی صحت ڈاکٹر نوشین حامد کا ٹویٹ
اسلام آباد(یواین پی)پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے گزشتہ دو ماہ کے دوران 850 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا۔بدھ کو اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے گزشتہ دو ماہ میں جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ مقررہ ہدف سے 23 فیصد زیادہ ہے۔ ٹیکس وصولی کی اسی شرح سے 5 ہزار 829 ارب روپے کا سالانہ ٹیکس ہدف ان شاء اللہ حاصل ہو جائے گا۔
پاکستان نے افغان سرحد سے باڑ ہٹانے کا طالبان کا مطالبہ مسترد کردیا
افغان طالبان کا پاک افغان سرحد سے باڑ ہٹانے کا بیان دیکھا ہے، سرحد پر باڑ بڑی مشکل سے اور اپنے جوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے لگائی ہے جسے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا انٹرویو
اسلام آباد (یواین پی) پاکستان نے افغان سرحد سے باڑ ہٹانے کا طالبان کا مطالبہ مسترد کردیا، وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ افغان طالبان کا پاک افغان سرحد سے باڑ ہٹانے کا بیان دیکھا ہے، سرحد پر باڑ بڑی مشکل سے اور اپنے جوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے لگائی ہے جسے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تفصیلات کے مطابق غیرملکی خبررساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم ملا عبدالغنی برادر اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھا سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری طالبان کے ساتھ ذہنی مطابقت ضرور ہے لیکن وہ ہماری بات مانتے ہیں یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، طالبان نے دنیا کے ساتھ جو وعدے کیے ہیں وہ پورے ہونے چاہئیں، پاکستان کی کوشش ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر طالبان کو ان کے وعدے کی تکمیل پر زور دے، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، افغانستان میں امن ہی پاکستان میں امن کی ضمانت ہے، افغانستان کے استحکام سے سارے خطے کی ترقی مل سکتی ہے، وزیرِ اعظم عمران خان طالبان کو تسلیم کرنے کے حوالے سے فیصلہ دنیا کے ساتھ مل کر کریں گے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کے ساتھ کون رابطہ میں ہے میں نہیں جانتا لیکن ہماری حکومت کے ذمے دار اور حکام بوقت ضرورت طالبان سے رابطے میں رہتے ہیں، ہمارا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ ٹی ٹی پی اور داعش افغان سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ کرے، ٹی ٹی پی اور داعش دونوں دہشت گرد تنظیموں کے ممکنہ الحاق کے حوالے سے ابھی کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں لیکن ایسے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کی ضمانت دی ہے لیکن داعش کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، امید ہے کہ افغان طالبان ذمہ داری نبھاتے ہوئے ٹی ٹی پی کو سمجھائیں گے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی نہ کریں، پھر بھی پاک فوج ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

شیئر کریں

Top