ایک کروڑ نوکریاں دینے والے اپنی نوکریاں بچانے کی فکر میں ہیں :احسن اقبال

17-3.jpg

حکمران این آر او اور براڈ شیٹ کے پیچھے نہیں چھپ سکتے ، عمران خان نے اڑھائی سال میں پاکستان کی عزت کو خاک میں ملا دیا
پاکستان کی معیشت سکڑ گئی ہے، ٹیکس ریونیو کم ہو گیا ہے،ہر روز حکومت کی ایک نئی واردات سامنے آتی ہے ، میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی) سیکرٹری جنرل مسلم لیگ (ن) احسن اقبال نے کہا کہ لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاںدینے والے اپنی نوکریاں بچانے کی فکر میں ہیں، پاکستان کی معیشت جنوبی اشیاء کی سست ترین معیشت بن گئی ہے اور آج پاکستان معاشی حجم ساڑھے 300ارب ڈالر ہونا تھا جبکہ آج پاکستان کی معیشت سکڑ گئی ہے، ٹیکس ریونیو کم ہو گیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کو لانے والوں سے سوال کیا جائے کہ پاکستان نے آپ کا کیا بگاڑا تھا اور ہر روز حکومت کی ایک نئی واردات سامنے آتی ہے جسمیں حکومت کی نالائقی ہوتی ہے، ہفتہ کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اڑھائی سال میں پاکستان کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے، ہر روز حکومت کا نیاء سکینڈل آتا ہے، کوئی جہاز پکڑ رہاہے کوئی بینک اکاؤنٹ قرق کر رہا ہے جبکہ موجودہ حکومت نے ہمیں گھر میں کمزور اور دنیا میں مذاق بنا دیا ہے، آج پاکستان کی بے توقیری پر قوم ان سے استعفے مانگتی ہے، احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے پائلٹس کی توہین اور ایوی ایشن انڈسٹری کو تباہ کیا ہے جبکہ جہاز کی لیز کا پیسہ جمع نہیں کرایا، ملائیشیاء میں روکا گیا پی آئی اے کا طیارہ کوالالمپور ایئرپورٹ پر موجود ہے اور ملائیشیاء کی عدالت میں طیارے کے مقدمے کی سماعت 27جنوری کو ہوگی جبکہ اقوام متحدہ نے ملازمین کو پاکستانی ایئرلائن سے سفر نہ کرنے کا بھی مراسلہ جاری کیا ہے، یو این کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور وزیر ہوابازی کو استعفی دے دینا چاہیے،احسن اقبال نے کہا کہ اس حکومت کے خلاف فیصلہ کن لانگ مارچ کرنا چاہیے، تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی کی پرانی تجویز ہے، اگر بلاول زرداری کے پاس ایسے نمبرز ہیں تو بتائیں کیونکہ سینیٹ میں نمبرز کے باوجود ہماری تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکی تھی جبکہ مارچ کا مہینہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کیلئے اچھا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ذہن میں صرف یہی ہے کہ این آر او نہیں دوں گا، ہم سب نیب میں پیشیاں بھگت رہے ہیں، پاکستان کے ترقیاتی پروجیکٹس ٹھپ ہوچکے ہیں، پشاور یونیورسٹی نے حکومت کو لکھ کر دے دیا ہے کہ ہم ملازمین کو تنخواہ نہیں دے سکتے ہیں جبکہ ہم نے سی پیک کو جہاں چھوڑا تھا وہیں ہے،ایم ایل ون منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے جبکہ پاکستان کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار سے 600ارب کر دیا گیا ہے، ہائرایجوکیشن سیکٹر بدترین خسارے میں جا چکا ہے اور وزیراعظم این آر او نہیں دوں گا کی گردان جاری رکھے ہوئے ہیں،سلیکٹڈ وزیراعظم سے کہتا ہوں کہ این آر او نہ دو لیکن عوام کو جینے کا حق تو دے دو، پانامہ بھی فراڈ تھا، اب براڈ شیٹ بھی فراڈ ہے، قوم پانامہ والیم ٹین نہیں جانناچاہتی بلکہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ آٹا ، ڈال مہنگا کیسے ہوا ہے، قوم جاننا چاہتی ہے کہ بجلی، گیس کے بلوں میں اضافے کے بعد بھی گیس بجلی کیوں نہیں مل رہی ہیں، احسن اقبال نے کہا کہ حکومت صرف توجہ ہٹانے کیلئے براڈ شیٹ براڈ شیٹ کر رہی ہے عمران خان کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہو گا، حکمران این آر او اور براڈ شیٹ کے پیچھے نہیں چھپ سکتے ۔ ا
احسن اقبال

شیئر کریں

Top