بجلی،نایاب یا لوڈشیڈنگ مافیا۔۔۔توقیر سرتاج

چار دن کی چاندی پھر اندھیری رات سکردو پھر سے لوڈشیڈنگ مافیا کی زد میں پچھلے کیی دن سے بجلی اپنے محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں ،دنیا کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنہ ہے اسی طرح دنیا کے بہت سے ممالک توانائی میں زیادہ سرمایاکاری کررہے ہیں تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کر سکے یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کل کے دور میں ہردوسرے ملک کی خواہش ہے کہ وہ صنعتی میدان میں ترقی کرکے ترقییافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکیمگر کوی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کی توانائی کا شعبہ مضبوط نہ ہوجبکی برقی توانائی کسی ملک کی صنعت و تجارت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حثییت رکھتی ہیاسلیے برقی توانائی کی مطلوبہ طلب کے مطابق فراہمی کے بغیر ایسا سوچنا حماقت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے بھرپور وسایل کو استعمال کر کے توانائی کے شعبے کو فال بنانا پڑے گا۔۔اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستان میں برقی بجلی پیدا کرنے کے زرایع کا جایزہ لیا جاے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں برقی توانائی کا 70 سے زائد حصہ تھرمل طریقہ سے حاصل کرتے ہیں حالانکہ دنیا میں تھرمل طریقہ سے بجلی کی پیداوار سب سے مہنگا زریعہ سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اس زریعے سے بجلی پیدا کرنے کے لیے پٹرول پر انحصار کرنا پڑتا ہے اسی لیے عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔لیکن بجلی کی طلب کے حساب سے رسد نہ بڑھنے کی وجہ سے آج کل ملک میں بجلی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔اس لیے متعلقہ ادارے سے روزانہ 18 سے 20 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کرتے ہیں۔ان حالات میں ملکی سطح پر تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں لہزا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں دریاوں،آبشاروں اور ندیوں کے بہاو سے پیدا کرنے والے پاور پروجیکٹس لگا کر برقی توانائی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنائے تو اس سے نہ صرف بجلی کی پیداوار بلکی ملکی طلب کو بھی پورا کرے گیاور صارفین کو بھی کم یونٹس پر بجلی دستیاب ہوگی۔جسکی وجہ سے ملکی و صنعتی شعبہ بھی ترقی کریگا۔ماہرین کے اندازے کے مطابق اس طریقہ سے کم از کم 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔اس کے برعکس ملک میں بڑھتی ہویی پانی کی قلت اور بجلی کے شدید بحران بیقابو ہوگیا ہے اس مسلہ سے قطع نظر اگر ہم احتجاج اور مظاہرے کرتے رہے گے تو اور بھی مافیاز کو قوت ملے گی حکوت وقت کو اس انداز سے للکارے کی یہ چین کی نیند نہ سو سکے سکردو کے مقتدر حلقے میں فنی خرابی کا بہانہ بنا کر عوام کو غفلت کی نیند سولارہے ہیں ۔سادہ لوہ عوام کو جھوٹے دعوے دلاکر عوامی اکثریت سے ایوان میں پہنچے ہو اسکا یہ مطلب نہں کی خود اپنے تزین وآرایش اور اپنی بے جانمود و نمایش میں عوام کے پسیے غنیمت سمجھ کر استعمال کرے ۔واپڈا اور جعلی عوامی نمایندے یہ بات سن لے کہ عوام جب اس مسلط کردہ اندھیرے سے باہر آیگی تو یہ مت سوچنا کی اندھیرا صرف عوام کے لے ہے اسوقت آپ اور آپ کے گدا گر ادارے کو عوام اس اندھیرے میں دھکیلی گی کی اپ کی مشنری بھی کام چھوڈ دیگی۔نامعلوم وجوہات کی بنا پر لوڈشیڈنگ قابل قبول نہیں ۔۔انتظامیہ بجلی بحران پر جلد حل کرے اور عوامی خدمت کرے ۔آج پاکستان کا یہی المیہ ہیں۔ایک آدمی ارب پتی ہے تو دوسرا دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ایک گھر میں افراد سے زیادہ کاریں موجود ہیں۔تو دوسرے کے گھر میں آٹا تک ختم ہوچکا ہے۔ایک طرف بجلی ایک منٹ کے لیے نہیں جاتی تو دوسری طرف اٹھارہ ،اٹھارہ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔اگر خرابی ہو تو سولہ سولہ دن تو بھول ہی جا۔ہمارا سٹم آج بھی ایک فرسودہ سماجی و معاشی دلدل میں پڑا ہے اور جاگیر دارانہ نظام چونکہ کھوٹے سکے کو مسلسل چلانے کی ذہنیت اور کوشش سے پیدا ہو رہے ہیں۔زندگی کی قدریں معاشرے میں سوکھ کر مرجھا رہی ہیں۔

شیئر کریں

Top