تحریک عدم اعتماد کے بعد !……تحریر…… مسعود الحسن صدیقی

ملک میں اپوزیشن جماعتیں کافی عرصے سے عمران حکومت کو ناکام کرنے کے لیے کوشاں تھیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے پی ڈی ایم بھی بنای اور آپسی اختلافات کچھ دیر کے لیے بھلا کر مشترکہ کوشش کی ٹھانی۔ شروع شروع میں تو عمران سے استعفی دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ لیکن اس مطالبے کو پورا نہ ہوتا دیکھ کر بالآخر تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کردیا۔ اپوزیشن کی اس چال کے بعد متحارب گروپوں کی جانب سے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کے بقول انہوں نے اپنی نمبر گیم مکمل کر کہ ہی تحریک جمع کرای ہے اور جلد ہی یہ تحریک ممبران کی ایک بڑی تعداد کی حمایت سے کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ جبکہ حکومتی جماعت اور اس کے اتحادی پراعتماد ہیں کہ اسمبلی میں ممبران کی اکثریت کی حمایت انہیں حاصل ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلی کے خلاف بننے والے ایک بڑے گروپ نے بھی تحریک انصاف کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ لیکن تاحال وزیراعظم ان تمام دباو کا خندہ پیشانی سے سامنہ کررہے ہیں اور اپنے کسی بھی فیصلے کو تبدیل کرنے پر آمادہ دکھای نہیں دیتے۔
اب کچھ تزکرہ اس تحریک کی کامیابی یا ناکامی کے امکان کا بھی ہو جاے۔ چونکہ اسمبلی میں ووٹنگ کا طریقہ ھاتھ کھڑے کر کہ راے دینے کا ہوگا اس لیے شاید اپوزیشن کا یہ دعوی درست ثابت نہ ہو کہ تحریک انصاف کے بہت سے نماندے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کریں گے۔ ایسی صورت میں چونکہ حکومتی جماعت اور اتحادی ممبران کی اکثریت ہے لہزہ تحریک کی کامیابی کے امکان کم دکھای دہتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب چونکہ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتیں تحریک کی حمایت کررہی ہیں اور چند حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کی اپوزیشن کے ساتھ ملاقاتیں جاری ہیں اس لیے اس تناظر میں تحریک کی کامیابی کے امکان نظر آتے ہیں۔ گویا اس وقت تک معاملہ ففٹی ففٹی لگ رہا ہے۔ تاہم حکومتی نماندوں اور بالخصوص وزیراعظم کا اعتماد اور سکون ظاہر کرتا ہے کہ ان کی جانب سے تحریک ناکام بنانے کی مکمل تیاری ہے۔
یہاں ان محرکات کا تزکرہ بھی ضروری ہے جو عدم اعتماد کی تحریک کا باعث بنے۔ سوشل میڈیا پر ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے بیرونی ھاتھ کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اور وہ طاقتیں جو پاکستان کو ماضی کی طرح اپنے زیردست رکھنا چاہتی ہیں انہیں پاکستان کی روس اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوی دوستی ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔ اسی بات کو مزید ہوا وزیر اعظم کی
ABSOLUTELY NOT
کی پالیسی نے دی۔ جس کے لیے مبینہ طور پہ یہ طاقتیں پیسہ پانی کی طرح بہا جارہی ہیں۔
حزب مخالف جماعتوں کے رہنماوں نے جس چیز کو بنیاد بناکر تحریک جمع کرای اس کااظہار انہوں نے بارہا اپنی تقاریر میں کیا اور وہ ہے مہنگای اور اس کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں عمران حکومت کی نااہلی یا ناکامی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں عمران حکومت کا خاتمہ تو ہو جاے گا لیکن کیا اس کے بعد بننے والی حکومت اس مہنگای کا خاتمہ کرپاے گی ؟ ؟ کیونکہ مہنگای بڑھنے کی وجوہات ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو 2019 سے دنیا میں پھیلی کورونہ وارس کی وبا ہے جس نے ہر ملک کی معیشت پر بڑے منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ انہی اثرات کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر زراعت۔ صنعت۔ تجارت۔ کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوی۔ بدقسمتی سے ابھی تک اس وبا پر مکمل قابو نہیں پایا جاسکا اس لیے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی مسلسل متاثر ہورہا ہے۔
مہنگای کی دوسری وجہ پٹرول کی زیادہ قیمتیں ہیں جس کا اثر ضرورت کی ہر چیز کی قیمت خرید پر آرہا ہے۔ یہ وجہ بھی ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔ روس اور یوکرین تنازعے نے پٹرول کی بڑھتی ہوی قیمتوں کو مہمیز کردیا ہے۔ اور تادم تحریر تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ ایک اور وجہ ملک پر بھاری قرضوں کا بوجھ ہے جو معیشت کو سنبھالنے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
مندرجہ بالا وجوہات کا مستقبل قریب میں خاتمے کے کوی امکان نظر نہیں آ رہے۔ ایسے میں عدم اعتماد کے بعد وجود میں آنے والی حکومت کس طرح بڑھتی مہنگای پر قابو پا سکے گی؟ اس سوال کے جواب میں تحریک(باقی صفحہ6بقیہ نمبر7)
کی حمایت کرنے والے کسی بھی سیاسی رہنما نے اپنا کوی پلان سامنے نہیں رکھا جس کی روشنی میں عوام یہ یقین کر سکیں کہ اس مہنگای کے پیچھے حقیقتا موجودہ حکومت کی نااہلی ہی ہے اور اس تبدیلی کے بعد واقعی کوی مثبت نتاج دیکھنے کو ملیں گے۔ اور اگر دوسری حکومت کی پالیسیاں بھی مہنگای پر قابو پانے میں ناکام رہیں تو پھر کیا حل نکلے گا؟ مزید یہ کہ اس امکان کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے کہ عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد مہنگای میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔
پاکستان کے عوام کو سیاسی سرگرمیوں سے اتنی دلچسپی نہیں بلکہ انہیں اپنے مسال کا حل چاہیے۔ انہیں مہنگای اور بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے قابل عمل پلان چاہیے اور ایسا کوی پلان عدم اعتماد کی حمایت کرنے والی جماعتوں کے کسی رہنما نے ہیش نہیں کیا۔
بہرحال تحریک عدم اعتماد نے ملک کی سیاست میں ایک ہلچل اور بحران کی سی کیفیت پیدا کردی ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی و اندرون ملک حالات کے تناظر میں کیا ملک اس قسم کے خلفشار کا متحمل ہو سکتا ہے ؟ نیز تحریک کامیاب ہو یا ناکام لیکن موجودہ صورتحال کے نتیجے میں مستقبل میں آنے والے منفی اثرات کو کیسے زایل کیا جاے گا؟

شیئر کریں

Top