حکومت لوڈشیڈنگ کاخاتمہ کرے………اداریہ

گلگت بلتستان کے عوام اپنے بنیادی ضروریات کیلئے ہمیشہ ہی احتجاج اور دھرنے دیتے دیکھے گئے صوبائی دارالحکومت میں بھی صاف پانی کی عدم فراہمی اور اعصاب شکن لوڈشیڈنگ کے خلاف علاقہ مکین کئی بار سڑکوں پر آ چکے مگر مجال ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی حکومت نے دور رس اقدامات کر کے دیکھائے ہوں گلگت بلتستان بھر میں ہمیشہ کی طرح طویل لوڈشیڈنگ آج بھی جاری ہے اس کے برعکس صوبائی وزراء اور سینئر سرکاری افسران اور علاقے کی اہم شخصیات کے دفاتر اور گھروں میں سپیشل لائنوں کے ذریعے بجلی کی فراہمی محکمہ برقیات اپنی اولین ذمہ داری سمجھ کر پوری کرتی چلی آ رہے ہیں جبکہ عام آدمی کے گھروں میں اندھیروں کے نہ رکنے والے بادل سردیوں میں ہمیشہ ہی دیکھے گئے سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ سکردو اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی امید کی جا رہی تھی کہ سدپارہ ڈیم منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بلتستان ڈویژن میں بجلی کی کمی پوری ہونے سمیت فالتو ہونے والی بجلی کو دیگر اضلاع کے ساتھ منسلک کیا جائے گا اس حوالے سے اس دور میں ریجنل گریڈ کے قیام کی خبریں بھی اخبارات کی زینت بنتی دیکھی گئی اس ڈیم کی تعمیر پر اس دور میں تقریباً 6 ارب روپے سے زائد رقم خرچ بتائے جا رہے ہیں مگر اس ڈیم کی افادیت اس وقت ختم ہو کر رہ گئی جب شتونگ نالے کا پانی اس میں شامل کرنے سے اجتناب کیا گیا اس حوالے سے کئی ایک سوالات جنم لے رہے ہیں جب تک شتونگ نالے کا پانی سدپارہ ڈیم میں شامل نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ ڈیم صرف ایک تفریح گاہ ہی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا حالیہ دنوں کرائے پر منگوائے گئے جنریٹرز سے بجلی کی سپلائی کے باوجود عوام کا لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج صوبائی حکومت کیلئے کسی سوالیہ نشان سے کم نہیں ہونا چاہیے محکمہ برقیات کو بھی سپیشل لائنوں پر توجہ دینے کے بجائے اعصاب شکن لوڈشیڈنگ پر قابو پانے اور بجلی کی پیداوار اور کھپت کے حوالے سے درست معلومات کے ساتھ عوام کو ہفتہ وار بریفنگ میڈیا کے ذریعے دینے میں کوئی حرج نہیں جمعہ کے روز ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کا یادگار شہداء سکردو پر گندم اور آٹے کی قلت،ناقص اور غیر معیاری آٹے کی فراہمی، آر ایچ کیو ہسپتال میں ایم آر آئی، سٹی سکین مشین اور دیگر سہولیات کافقدان، عوامی زمینوں پر ناجائز قبضہ، بجلی لوڈ شیڈنگ، اور نجی میڈیکل کالج کے بجائے سرکاری میڈیکل کالج کا قیام کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے میں شریک عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر قومی خزانے کو 75ارب ڈالر کا نقصان پہنچا کر ملک کے اندر 45روپے کلو دستیاب گندم کے بجائے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو گندم امپورٹ کرنے کا ٹھیکہ دیا حالانکہ ملک میں 40لاکھ ٹن گندم موجود تھا اور گندم کی کوئی قلت نہیں تھی یہ صرف اور صرف کرپشن کرنے کی غرض سے رچایا گیا ڈرامہ ہے متعلقہ کمپنی نے یوکرائن سے سڑھی سوئی وائرس زدہ گندم امپورٹ کی عوامی رد عمل کی وجہ سے ایک کھیپ ساحل سمندر پر جلادیا کیمیکل ایگزام رپورٹ کے مطابق یوکرائن کی گندم مضر صحت اور ناقابل استعمال ہے جسے کھانے کی صورت میں جگر اور معدے کی سرطان لاحق ہو سکتے ہیں ۔ مقررین نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے اندر اندھیر نگری چوپٹ راج قائم ہے 8تھرمل جنریٹر لانے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ ان جنریٹروں کے کرایہ کی مد میں ماہوار کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں یو این فورسز کے استعمال شدہ جنریٹر کباڑیے سے رنٹل مافیا یہاں لا کر عوام کو چونا لگا رہے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ اسوقت ایک طرف صوبائی حکومت زمینوں کی خریدوفروخت پر دفعہ 144نافذ کر کے عوام کو ڈرا رہے ہیں دوسری جانب حکومتی ادارے عوام کی زمینوں پر قبضے کیلئے شب خون مار رہے ہیں ۔عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام گندم بحران اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے موقع پر زمینوں پر ناجائز قبضوں اور سرکاری ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں اور ادویات کی عدم دستیابی کے حوالے سے مقررین نے کئی ایک اہم امور پر روشنی ڈالی سکردو جیسے پر امن علاقے میں زمینوں پر قبضے کا معاملہ ضلعی انتظامیہ کیلئے باعث تشویش ہونا چاہیے اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کوئی نئی بات نہیں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ان سرکاری ہسپتالوں میں فنڈز نہ ہونے کے باعث مخیرحظرات اور ڈاکٹروں کی کوششوں سے فنڈز کا بندوبست کر کے ہسپتالوں کی او پی ڈی کو بند ہونے سے روکے رکھا آج بھی ضلع گانچھے سمیت دیگر اضلاع میں ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے خلاف علاقے کے عوام سراپا احتجاج نظر آ رہے ہیں ایک طرف صوبائی حکومت بلند و بانگ وعدوں اور نعروں سے اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہی ہے سکردو کو دبئی اور سنگا پور جیسے شہر بنانے کے اعلانات بھی عوام نے سنے گزشتہ ماہ وزیراعلیٰ خالد خورشید نے ا پنا دورہ سکردو کے موقع پر اچانک ایک سرکاری ہسپتال کا دورہ کیا تو اس ہسپتال کی حالت دیکھ کر انہوں نے متعلقہ سٹاف کی نہ صرف سرزنش کی بلکہ موقع پر احکامات بھی جاری کیے مگر تاحال وزیراعلیٰ کے احکامات پر پوری طرح عملدرآمد ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہا جو حالت سکردو کے سرکاری ہسپتال کی تھی وزیراعلیٰ کو معلوم ہونا چاہیے اسی طرح کی صورتحال گلگت بلتستان کے تقریباً تمام سرکاری ہسپتالوں کی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا صوبائی حکومت کو اپنی ترجیحات میں علاقے کے عوام کو روز مرہ استعمال کی اشیاء اور بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرتے ہوئے اپنی ترجیحات میں سڑکوں اور عمارات کی تعمیر ہی نہیں بلکہ عوامی مسائل حل کر کے دیکھانے ہوں گے۔

شیئر کریں

Top