ساحلِ سمندر!انسان کی تفریحی کچھوے کی موت……تحریر…… علی رضا رانا

سمندری کھاڑیوں کے کناروں پر سمندری بگلے مچھلیوں پر تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، ساحل سمندر ہے، جس پر سبز سمندری کچھوے انڈے دینے آتے ہیں کلفٹن، نیٹی جیٹی، کیماڑی، منوڑہ، ہاکس بے سمیت اس سے منسلک دیگر سمندر پوائنٹس ہیں، جہاں سمندری جنگلی حیات کی دنیا ہے، مگر انسان کی بے جا تفریحی کے باعث ان معصوم سمندری جنگلی حیات کو خطرات لحاق ہوگئے ہیں کیونکہ ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے ساحل دنیا کے 11 اہم ساحلوں میں شامل ہیںآٹھ کلومیٹر پر پھیلا کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ ساحل کا علاقہ دنیا کے ان چند مقامات میں شمار کیا جاتا ہے، جسے ہرے سمندری کچھوے اپنی افزائش نسل کے لیے استعمال کرتے ہیں،کراچی کے ان ساحلوں پر ویسے تو ہرے سمندری کچھوے انڈے دینے پورا سال ہی آتے رہتے ہیں، مگر جون سے دسمبر تک جب سمندر چڑھا ہوا ہو تو یہ ان کے انڈوں کا سیزن سمجھا جاتا ہے، اس موسم کے دوران سمندری ہرے کچھوے یا گرین سی ٹرٹل کی مادہ سمندر سے باہر نکل کر ساحل پر موجود ریت میں گڑھا کھود کر انڈے دیتی ہے، انڈے دینے کے لیے ہرے کچھوے کی مادہ ساحل پر ایسی جگہ کا انتخاب کرتی ہے جہاں مد وّ جزر یا جوار بھاٹے کے دوران سمندر کا پانی نہ پہنچ سکے، چونکہ ہرے کچھوے کی مادہ انڈے دینے کے لیے ریت میں گڑھا کھودتی ہے، اس لیے ہاکس بے ساحل سے متصل ساحل کا نام ہی سینڈز پٹ رکھا گیا ہے، مادہ کچھوا ایک وقت میں 60 سے 100 کے درمیان انڈے دیتی ہے، جس کے بعد وہ گڑھے کو ریت سے ڈھانپ دیتی ہے اور سمندر میں واپس چلی جاتی ہے۔سمندری کچھوے کے بچے انڈے سے نکلتے ہی سمندر کی طرف جاتے ہیں، مگر اس دوران آوارہ جانور ان پر حملہ کر دیتے ہیں، ماہرین کے مطابق ایک مادہ کچھوے کے دیے ہوئے ایک سو انڈوں میں سے ایک یا دو بچے ہی زندہ بچ پاتے ہیں، سینڈز پٹ کے ساحل پر کئی سالوں کے دوران تعمیر ہونے والے تفریحی ہٹس میں آنے والے لوگوں کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا پھینکنے کی وجہ سے اس علاقے میں کتوں، کوؤں اور دیگر شکاری جانوروں اور پرندوں کی بہتات ہے، یہ شکاری جانور ہرے کچھوے کے انڈوں والے گڑھوں کو کھود کر انڈوں کو پی جاتے ہیں، اس لیے محکمہ جنگلی حیات سندھ نے ہرے کچھوے سمیت دیگر سمندری کچھووں کے انڈوں کی حفاظت کے لیے مرین ٹرٹل کنزرویشن سینٹر یا مرکز برائے تحفظ سمندری کچھوے قائم کیا گیا تھا، انچارج میرین ٹرٹلز کنزرویشن یونٹ محکمہ جنگلی حیات سندھ اشفاق میمن نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے ساحل پر رات گئے تک ہونے والی تفریحی سرگرمیاں کچھوو?ں کی افزائشِ نسل میں رکاوٹ بن رہی ہیں،اس طرح اس سمندر کی نرم ریتیلا ساحل سبز کچھوو?ں کی افزائشِ نسل کے لیے انتہائی سازگار ہے، رواں سال 500 سے زائد مادہ کچھوو?ں نے سینڈزپٹ کا رخ کیا اور اس تعداد میں سے 150 سے 200 مادہ کچھوو?ں کو ہی انڈے دینے کے لیے ساز گار ماحول مل سکا، ساحل پر لگائی گئی روشنیاں اورشور و غل انڈے دینے کے لیے آنے والی مادہ کو واپس کر دیتا ہے، پہلے 5 نسل کے کچھوے کراچی کے ساحلوں کا رخ کیا کرتے تھے، تاہم اب سبز اور زیتونی کچھوے ہی افزائشِ نسل کے لیے یہاں آتے ہیں، اس ہی طرح رواں سال اب تک محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے 13 ہزار انڈوں کی نیسٹلنگ کی جا چکی ہے، انچارج میرین ٹرٹلز کنزرویشن یونٹ محکمہ جنگلی حیات سندھ نے مزید بتایا کہ 3 ہزار 800 انڈوں میں سے نکلنے والے بچوں کو سمندر میں چھوڑا گیا ہے، مگر میری نظر ہمیں ساحلوں پر بسنے والی سمندری زندگیوں کی نسل کی افزائش کا بھی خیال رکھنا ہوگا، غیر ضروری تفریحی اور دن بھر ساحل پر تفریحی، کھانا پینا کھا کر ساحل پر پھینکنے سے گریز کرنا ہوگا، کیونکہ اس عمل سے دیگر شکاری جانور ساحل سمندر کا رُخ کررہیں اور ان معصوم سمندری حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے، سمندر پر قائم تفریحی اور بیٹھنے کے لئے قائم کی گئی عرضی اور مستقل جھونپڑیاں سمندری حیات جن میں سبز، زیتونی کچھوے جو کہ ساحل پر انڈے دیتے ہیں اس ہی طرح دیگر سمندری حیات جو ساحل کا رخ کرتی ہیں انکی نسل کو بڑھانے میں رکاوٹ ہیں، ساحل پر تفریحی کریں وقت گزارے مگر وہاں موجود سمندری زندگیوں کا خیال بھی کریں، میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں شعور عطا فرما اور احساس کی توفیق دے آمین یارب العالمین۔سمندری کھاڑیوں کے کناروں پر سمندری بگلے مچھلیوں پر تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، ساحل سمندر ہے، جس پر سبز سمندری کچھوے انڈے دینے آتے ہیں کلفٹن، نیٹی جیٹی، کیماڑی، منوڑہ، ہاکس بے سمیت اس سے منسلک دیگر سمندر پوائنٹس ہیں، جہاں سمندری جنگلی حیات کی دنیا ہے، مگر انسان کی بے جا تفریحی کے باعث ان معصوم سمندری جنگلی حیات کو خطرات لحاق ہوگئے ہیں کیونکہ ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے ساحل دنیا کے 11 اہم ساحلوں میں شامل ہیںآٹھ کلومیٹر پر پھیلا کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ ساحل کا علاقہ دنیا کے ان چند مقامات میں شمار کیا جاتا ہے، جسے ہرے سمندری کچھوے اپنی افزائش نسل کے لیے استعمال کرتے ہیں،کراچی کے ان ساحلوں پر ویسے تو ہرے سمندری کچھوے انڈے دینے پورا سال ہی آتے رہتے ہیں، مگر جون سے دسمبر تک جب سمندر چڑھا ہوا ہو تو یہ ان کے انڈوں کا سیزن سمجھا جاتا ہے، اس موسم کے دوران سمندری ہرے کچھوے یا گرین سی ٹرٹل کی مادہ سمندر سے باہر نکل کر ساحل پر موجود ریت میں گڑھا کھود کر انڈے دیتی ہے، انڈے دینے کے لیے ہرے کچھوے کی مادہ ساحل پر ایسی جگہ کا انتخاب کرتی ہے جہاں مد وّ جزر یا جوار بھاٹے کے دوران سمندر کا پانی نہ پہنچ سکے، چونکہ ہرے کچھوے کی مادہ انڈے دینے کے لیے ریت میں گڑھا کھودتی ہے، اس لیے ہاکس بے ساحل سے متصل ساحل کا نام ہی سینڈز پٹ رکھا گیا ہے، مادہ کچھوا ایک وقت میں 60 سے 100 کے درمیان انڈے دیتی ہے، جس کے بعد وہ گڑھے کو ریت سے ڈھانپ دیتی ہے اور سمندر میں واپس چلی جاتی ہے۔سمندری کچھوے کے بچے انڈے سے نکلتے ہی سمندر کی طرف جاتے ہیں، مگر اس دوران آوارہ جانور ان پر حملہ کر دیتے ہیں، ماہرین کے مطابق ایک مادہ کچھوے کے دیے ہوئے ایک سو انڈوں میں سے ایک یا دو بچے ہی زندہ بچ پاتے ہیں، سینڈز پٹ کے ساحل پر کئی سالوں کے دوران تعمیر ہونے والے تفریحی ہٹس میں آنے والے لوگوں کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا پھینکنے کی وجہ سے اس علاقے میں کتوں، کوؤں اور دیگر شکاری جانوروں اور پرندوں کی بہتات ہے، یہ شکاری جانور ہرے کچھوے کے انڈوں والے گڑھوں کو کھود کر انڈوں کو پی جاتے ہیں، اس لیے محکمہ جنگلی حیات سندھ نے ہرے کچھوے سمیت دیگر سمندری کچھووں کے انڈوں کی حفاظت کے لیے مرین ٹرٹل کنزرویشن سینٹر یا مرکز برائے تحفظ سمندری کچھوے قائم کیا گیا تھا، انچارج میرین ٹرٹلز کنزرویشن یونٹ محکمہ جنگلی حیات سندھ اشفاق میمن نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے ساحل پر رات گئے تک ہونے والی تفریحی سرگرمیاں کچھووں کی افزائشِ نسل میں رکاوٹ بن رہی ہیں،اس طرح اس سمندر کی نرم ریتیلا ساحل سبز کچھووں کی افزائشِ نسل کے لیے انتہائی سازگار ہے۔
، رواں سال 500 سے زائد مادہ کچھوو?ں نے سینڈزپٹ کا رخ کیا اور اس تعداد میں سے 150 سے 200 مادہ کچھوو?ں کو ہی انڈے دینے کے لیے ساز گار ماحول مل سکا، ساحل پر لگائی گئی روشنیاں اورشور و غل انڈے دینے کے لیے آنے والی مادہ کو واپس کر دیتا ہے، پہلے 5 نسل کے کچھوے کراچی کے ساحلوں کا رخ کیا کرتے تھے، تاہم اب سبز اور زیتونی کچھوے ہی افزائشِ نسل کے لیے یہاں آتے ہیں، اس ہی طرح رواں سال اب تک محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے 13 ہزار انڈوں کی نیسٹلنگ کی جا چکی ہے، انچارج میرین ٹرٹلز کنزرویشن یونٹ محکمہ جنگلی حیات سندھ نے مزید بتایا کہ 3 ہزار 800 انڈوں میں سے نکلنے والے بچوں کو سمندر میں چھوڑا گیا ہے، مگر میری نظر ہمیں ساحلوں پر بسنے والی سمندری زندگیوں کی نسل کی افزائش کا بھی خیال رکھنا ہوگا، غیر ضروری تفریحی اور دن بھر ساحل پر تفریحی، کھانا پینا کھا کر ساحل پر پھینکنے سے گریز کرنا ہوگا، کیونکہ اس عمل سے دیگر شکاری جانور ساحل سمندر کا رُخ کررہیں اور ان معصوم سمندری حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے، سمندر پر قائم تفریحی اور بیٹھنے کے لئے قائم کی گئی عرضی اور مستقل جھونپڑیاں سمندری حیات جن میں سبز، زیتونی کچھوے جو کہ ساحل پر انڈے دیتے ہیں اس ہی طرح دیگر سمندری حیات جو ساحل کا رخ کرتی ہیں انکی نسل کو بڑھانے میں رکاوٹ ہیں، ساحل پر تفریحی کریں وقت گزارے مگر وہاں موجود سمندری زندگیوں کا خیال بھی کریں، میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں شعور عطا فرما اور احساس کی توفیق دے آمین یارب العالمین۔

شیئر کریں

Top