سزا اور جزا کے نظام سے کرپشن کا خاتمہ ممکن……اداریہ

گلگت بلتستان کے اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہمیشہ ہی دیکھی گئی ایک دورایسا تھا جب گلگت بلتستان ترقیاتی منصوبو ں کا قبرستان بن گیا تھا 2015میں جب ن لیگ نے خطے کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو انہوں نے گلگت بلتستان میں زیر التواء منصوبے مکمل کروانے کیلئے محکمہ تعمیرات کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کا کہا جس کے بعد زیرالتواء منصوبوں میں جان پڑنا شروع ہوگئی گزشتہ ادوار میں محکمہ تعمیرات کی ملی بھگت سے کئی ٹھیکیدار ٹھیکے لینے کے بعد موبائلزیشن ایڈوانس لینے کے لیے خوب کوششیں جاری رکھتے جب انہیں ایڈوانس کی رقم مل جاتی تو پھر اس کے بعد انہیں منصوبے شروع کرنے کی فکر ہی نہیں ہوتی تھی چندایسے ٹھیکیداروں کے خلاف محکمہ تعمیرات عامہ نے کاروائی کرنے کی کوشش کی مگر حسب سابق سفارش کے باعث یہ فائلیں دب کے رہ گئیں اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں معیاری تعمیرات کا معاملہ بھی ہمیشہ ہی توجہ طلب رہا ہے سینکڑوں تعیمراتی منصوبے آج بھی محکمہ تعمیرات کی عدم توجہی کے باعث جہاں زیرالتواء نظر آرہے ہیں وہاں معیاری کاموں کے حوالے سے بھی عوامی تحفظات کا نہ رکنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے کیونکہ سیاسی رہنمائوں کی سیاست محکمہ تعمیرات سے شروع ہو کر یہی پر ختم ہوتے دیکھی جارہی ہے جب تک اراکین اسمبلی کی مداخلت سرکاری محکموں میں ختم نہیں ہوگی اس وقت تک ان محکموں کاقبلہ درست ہونا ممکن نہیں ہوگا سابق دورحکومتو ں میں من پسند افراد کو ٹھیکے دلوانے میں براہ راست سینئر سیاسی رہنمائوں نے بھی خوب رول اداکیان لیگ کے دور حکومت میں بلتستان ڈویژن میں ٹھیکوں کی بندربانٹ اراکین اسمبلی کی مرضی کے بغیر محکمہ برقیات کسی کو دے ہی نہیں سکتا تھا گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی امید سنائی جارہی ہے جس کے لیے وزیراعلیٰ کو سب سے پہلے اراکین اسمبلی اور صوبائی وزراء کی محکمہ تعمیرات اور دیگرمحکموں میں سفارشی کلچر کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہونگے گزشتہ روز وزیراعلی گلگت بلتستان خالدخورشیدنے کہاہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں کوتاہی ہرگزبرداشت نہیں کی جائیگی سزاوجزاکانظا م سخت کیاجائے دیامر میں منصوبوں کے التوا سے علاقے میں تعمیر و ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے اپنے ایک روزہ دیامر کے موقع پر مختلف عوامی وفود اور صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا میگا تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے خطے کی تقدیر بدلنے کا عزم کر رکھا ہے خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا دور کا آغاز ہو چکا ہے اور عوام جلد تبدیلی محسوس کریں گے تعلیم صحت پانی بجلی اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے تعمیراتی کاموں کاجال بچھا دیں گے انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے اضلاع کے نام پر عوام سے ساتھ مذاق کیا جبکہ حقیقی معنوں میں اضلاع کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام اور ٹائون پلاننگ نہیں کی گئی ماضی کی حکومتوں نے دیامر کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے دیامر کا ہیڈ کوارٹر چلاس بدحالی کا شکار ہے۔چلاس شہر کی جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی فنڈ مہیا کیا جائے گا اور اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈوپلمنٹ کے ذیلی دفتر کا دائرہ کار دیامر تک بڑھایا جائے گا جس سے دیامر کے تعمیر و ترقی کے منصوبے جلد پایہ تکمیل تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو گا انہوں نے فارسٹ ورکنگ پالان بارے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ورکنگ پالان کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لئے مقامی کمیونٹی کی تعاون اشد ضرورت ہے۔ جب مقامی کمیونٹی محکمہ جنگلات سے تعاون کرے تو ورکنگ پالان کا عمل آسانی سے پایہ تکمیل تک پہنچ جائیگا
وزیراعلیٰ نے سزا اور جزا کے نظام کو سخت کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں غفلت ہرگز نہ برداشت کرنے کا جو پیغام دیا ہے وہ انتہائی اہم اور عوامی سطح پر اسے خاصی پذیرائی بھی مل رہی ہے مگراس کے برعکس گلگت بلتستان کے منتخب صوبائی حکومتیںمصلحت پسندی کا شکار دیکھی گئی سابق وزیراعلیٰ جب اقتدار سے باہر تھے تو ان کا ہر جلسے میں ایک ہی نعرہ تھا اگر گلگت بلتستان میں ن لیگ کی حکومت آگئی تو وہ سزا اور جزاکے نظام کو رائج کرتے ہوئے عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرتی رہے گی مگر اقتدار میں آتے ہی سابق وزیراعلیٰ اپنا وعدہ بھول گئے اور انہوں نے جہاں پانچ سال خوب حکمرانی کی وہاں وہ اکثر جگہوں پر مصلحیت پسندی کا شکار دیکھے گئے اور سزا اور جزا کا نعرہ وہ اپنے پانچ سالہ دور میں بھول چکے تھے ایک بار پھر وزیراعلیٰ خالد خورشید نے بھی سزا اور جزا کے نظام کی بات کی ہے اگر وہ علاقے کے معاملات بہتر کرنے کے لیے پرخلوص ہیں تو انہیں غیر مقبول فیصلے کرنے ہونگے اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقین سے کہاجاسکتاہے سرکاری افسران اور محکموں کی حالت مہینوں نہیں دنوں میں بہترہونا شروع ہو جائے گی اس کے علاوہ وزیراعلیٰ خالد خورشید گلگت بلتستان کے عوام کی وفاق میں ترجمانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر تاحال زمین پر کوئی بھی منصوبہ نظر نہیں آرہا کئی ایک منصوبے کاغذوں میں تو ہیں مگر ان کی حتمی منظوری میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں اگر ترقیاتی کاموں کی صورتحال اسی طرح رہی تو آئندہ مالی سال میں گلگت بلتستان کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے کا شدید خطرہ ابھی سے محسوس کیا جارہا ہے ان تمام حقائق کو صوبائی حکومت کو سمجھنا ہوگا اور علاقے کی تعمیروترقی کیلئے صرف نعرے اور دعوے ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی کرکے دکھانے ہونگے گلگت بلتستان کے عوام کا ہمیشہ سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ علاقے سے کرپشن کا خاتمہ اور سزا اور جزاکا نظام سختی سے رائج کیا جائے۔

شیئر کریں

Top