سکردو گندم بحران، لوڈشیڈنگ، زمینوں پر قبضہ، ہسپتالوں کی ابتر حالت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

g9-6.jpg

سکردو (بیورو رپورٹ) آٹا بحران کے خلاف احتجاجی تحریک ایک بار پھر شروع ہو گئی، آٹا بحران کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی پھر ایکشن میں آگئی، یاد گار چوک میں احتجاجی میدان سجا لیا، عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کا یادگار شھدا سکردو پر گندم اور آٹے کی قلت،ناقص اور غیر معیاری آٹے کی فراہمی، آر ایچ کیو ہسپتال میں ایم آر آئی، سٹی سکین مشین اور دیگر سہولیات کافقدان، عوامی زمینوں پر ناجائز قبضہ، بجلی لوڈ شیڈنگ، اور نجی میڈیکل کالج کے بجائے سرکاری میڈیکل کالج کا قیام کیلئے احتجاجی مظاہرہ۔ مظاہرے میں شریک عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہان کامریڈ شبیر مایار، محمد علی دلشاد، ریاض غازی ، عبداللہ حیدری، محمد حسین عابدی، شاہد استوری اور سابقہ چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی جی بی کپٹن ریٹائرڈ سکندر علی نے شرکا سے کہا کہ پاکستان کے اندر قومی خزانے کو 75 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا کر ملک کے اندر 45 روپے کلو دستیاب گندم کے بجائے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو گندم امپورٹ کرنے کا ٹھیکہ دیا حالانکہ ملک میں 40 لاکھ ٹن گندم موجود تھا اور گندم کی کوئی قلت نہیں تھی یہ صرف اور صرف کرپشن کرنے کی غرض سے رچایا گیا ڈرامہ ہے متعلقہ کمپنی نے یوکرائن سے سڑھی سوئی وائرس زدہ گندم پاکستان میں امپورٹ کیا عوامی رد عمل کی وجہ سے ایک کھیپ ساحل سمندر پر جلادیا کیمیکل ایگزام رپورٹ کے مطابق یوکرائن کی گندم مضر صحت اور ناقابل استعمال ہے جسے کھانے کی صورت میں لیور اور معدے کی سرطان متوقع ہے ۔حکومت پاکستان اب اس مہنگے داموں امپورٹ شدہ خراب گندم گلگت بلتستان میں بھیج کر عوام کو بیمار کررہے ہیں یہاں سبسڈی کا رولا بھی اسی وجہ سے کھڑا ہے کہ یوکرائن سے مہنگے داموں امپورٹ شدہ خراب گندم پنجاب کے ریٹ پر گلگت بلتستان کو فراہم نہیں کر سکتے ۔ مقررین نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے اندر اندھیر نگری چوپٹ راج قائم ہے 8 تھرمل جنریٹر لانے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری و ساری جبکہ ان جنریٹرون کے کرایہ کی مد میں ماہوار کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ لگتا ایسا ہے کہ افغانستان میں یو این فورسز کے استعمال شدہ جنریٹر کباڑیے سے رنٹل مافیا یہاں لا کر عوام کو چونا لگا رہے ہیں ۔ ملک کے اندر احتساب کے ادارے گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں جبکہ مافیاز دندناتے پھر رہے ہیں ۔ حالانکہ تبدیلی سرکار نعرہ ہی کرپشن کا خاتمہ تھا لیکن ملک اس وقت کرپشن میں ترقی کر کے 16 وین نمبر پہنچ گئے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ اسوقت ایک طرف حکومت زمینوں کی خریدوفروخت پر دفعہ 144 نافذ کر کے عوام کو ڈرا رہے ہیں دوسری جانب حکومتی ادارے عوام کی زمینوں پر قبضے کیلئے شب خون مار رہے ہیں ۔ گلگت بلتستان کو بیرونی عناصر کیلئے چراگاہ نہیں بننے دیں گے ۔ اسوقت پرائیویٹ میڈیکل کالج کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے جبکہ 500 بیڈ ہسپتال کی منظوری پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کیا تھا کہ اس ہسپتال کی قیام کے بعد سکردو میں میڈیکل کالج کنفرم بنے گی لیکن بدقسمتی سے 500 بیڈ کا بٹوارہ کر 250 بیڈ کرنے کا مقصد بلتستان میں میڈیکل کالج کے قیام کو روکنا تھا ۔ آخر میں مقررین نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کے مسائل کو فوری طور حل کیا جائے ورنہ عوامی ردعمل کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگا ۔

شیئر کریں

Top