سیلاب میں شہیدہونیوالے افرادکے لواحقین کیلئے 16لاکھ فی کس کااعلان

g8.jpg

غذر( جاویداقبال )وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نیاپنے ہمراہ ڈپٹی سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ ،وزیر خوراک شمس لون نے غذر کے سیلاب سے متاثرہ گاں ہموچل ، گوہراباد اور بوبر کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے متاثرین کی جلد بحالی کے لیے انتظامیہ کو فوری احکامات جاری کردیا واٹر سپلائی کا کام کل یکم ستمبر سے ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کا حکم دیا اور سیلاب میں فی کس جانبحق افراد کے لئے مبلغ 1600000 سولہ لاکھ روپے حکومت کی جانب ادا کرنے کا اعلان کیااسکے علاوہ مبلغ 25000 (پچیس ھزار) روپے ماہانہ وظیفہ اور سیلاب سے جن کے گھر تباہ ھوئے ہیں ان متاثرین کے بنک قرضہ جنہوں نے لیا ھے معاف کرنے کا اعلان کیا جانبحق افراد کے لواحقین کو فی گھرانہ ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائیگی اسکے بعد گرونجر مڈل سکول میں متاثرین سیلاب سے ملاقات کرنے گرونجر پہنچ گئے ہیں وزیراعلی گلگت بلتستان نے ہنگامی بنادوں پر واٹرچینل اور دیگر مسائل کو حل کرنے کا حکم دیا انہوں نے گوھر آباد میں سیلاب سے متاثرہ واٹر کا دورہ کیا اور مالی امداد کی یقین دھانی کرایا بعد میں گلمتی جماعت خانہ پہنچے جہاں پر بوبر سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور وفات پانے والوں کے حق فاتحہ پڑھا لواحقین سے ملیاسکے بعد گلمتی اہلسنت جامعہ مسجد میں متاثرین سے ملاقات کی اور بوبر سیلاب میں وفات پانے والے متوفین کی فاتحہ خوانی کیوزیراعلی بوبر گورنمنٹ ہاء سکول میں رہائش پذیر سیلاب متاثرین سے بھی ملاقات کی جہاں پر سیلاب زدگان رابطہ کمیٹی سے ملاقات کی جہاں نے سیلاب کی تمام تر صورتحال سے اگاہ کیا
گلگت (بادشمال نیوز)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ایس سی او اور منسٹری آف آئی ٹی کے تعاون سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ٹیکنالوجی پارکس کا قیام انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ حکومت گلگت بلتستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل اور علاقے کی ترقی کا انحصار انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔ حکومت گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور علاقے کے وسیع تر مفاد میں اصلاحات کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے جعلی قوم پرست اور جعلی فرقہ پرست علاقے کی تعمیر و ترقی اور خود انحصاری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کیخلاف بیانات دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی میں جعلی فرقہ پرستی اور جعلی قوم پرستی رکاوٹ کا باعث رہی ہے۔ ریونیو اتھارٹی کا قیام علاقے کو خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے کیلئے ناگزیر تھا لیکن اس اتھارٹی کے قیام پر بھی احتجاج کیا گیا۔ گلگت بلتستان کی خوشحالی اور خود انحصاری کیلئے ہر ایک کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی طاقت یہاں کی یوتھ ہے، اگر ہماری نوجوان نسل کی سمت درست ہو تو ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

شیئر کریں

Top