عبوری پیکیج گلگت بلتستان کی منزل نہیں……اداریہ

گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے سرگرمیاں حالیہ دنوں زوروں پر نظر آ رہی ہیں صوبائی وزراء نے قومی انتخابات کے ساتھ گلگت بلتستان الیکشن قبول کرتے ہوئے تین سال کی قربانی دینے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 23 مارچ کو گلگت بلتستان کو باقاعدہ عبوری آئینی صوبہ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا جس کے بعد 60 دن کے اندر قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات گلگت بلتستان میں ہونے سمیت جی بی کونسل بھی تحلیل ہو جائے گی تین سال قبل جی بی اسمبلی کے انتخابات پر صوبائی وزراء کو تحفظات تو ضرور تھے مگر اب حالات کسی حد تک اس حوالے سے حالات سازگار نظر آ رہے ہیں اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی اپنے تحفظات کے ساتھ میدان میں آگئی گزشتہ روز اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی نے عبوری آئینی پیکج کوایک مرتبہ مستردکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیرکاحصہ ہونے کی بناپرکسی صورت آئینی صوبہ نہیں بن سکتا۔حکومت حقوق دینے میں سنجیدہ ہے تو گلگت بلتستان کو داخلی خودمختاری دے یاپھر مظفر آباد طرزپر پاور شئیرنگ فارمولہ طے کرے۔سہولت کاری اور غداری کے فتوے ایکشن کمیٹی کے عزم کو متذلزل نہیں کرسکتے۔ان خیالات کااظہارعوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااجلاس میں مرکزی قائدین نے واضح کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریگی جو گلگت بلتستان کے وسائل کو لوٹنے اور اس لوٹ مار کو جائز قرار دینے کا موجب بنے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت ،عالمی قوانین، مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے ۔ گلگت بلتستان کے عوام سب سمجھ چکے ہیں اور ایسے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کرینگے ۔ گلگت بلتستان کے سیاسی و مذہبی قائدین بھی اس مسئلے کو مسلکی بنیاد پر سوچنے کی بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھیں عبوری پیکیج گلگت بلتستان کی منزل نہیں اور نہ چترال و کوہستان کو ملاکر کوئی صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے سابق صوبائی حکومتوں کے دور اقتدار میں بھی اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور علاقے کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے کئی ایک اہم مسائل پر بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے اپنے مطالبات بھی منوائے ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے کی بناء پر عبوری آئینی صوبہ نہیں بن سکتا یہ درست ہے کہ کسی بھی جماعت یا شخص کو اپنا موقف بیان کرنے کا پورا حق ہوتا ہے اور وہ مہذب طریقے سے اپنے مطالبات منوانے کیلئے کوئی بھی راستہ اختیار کر سکتا ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اسمبلی سے باہر بیٹھے افراد کو بھی اعتماد میں لیں عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اپنی جگہ لیکن یہ درست ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اس خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا ہمیشہ سے مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں اب جبکہ قوی امید پیدا ہو گئی ہے کہ یہ خطہ ملک کا پانچواں عبوری صوبہ بننے جا رہا ہے تو ایسے میں کسی بھی سیاسی یا عوامی جماعت کو اس کی راہ میں روڑے اٹکانے سے اجتناب کرنا ہو گا کیونکہ اعلیٰ ایوانوں میں اس خطے کو اب عبوری آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ تمام معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مل کر کام کریں گزشتہ روز مشیر خوراک شمس لون بادشمال سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری صوبے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے عناصر دھرتی کے ساتھ مخلص نہیں ہیں گلگت بلتستان اس وقت تاریخ کے اہم موڑ پرکھڑا ہے ایسے موقع پر تمام ترسیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں اپنے علاقے کے سنہرے مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا ،عبوری صوبے کے حوالے سے بنائی گئی مشاورتی کمیٹی ڈرافٹ کے ایک ایک نقطہ کا جائزہ لے گی اور اس حوالے سے گلگت بلتستان کے سینئر سابق بیوروکریٹس ،وکلاء سے بھی مشاورت لی جائیں گی اورتمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت کے ذریعے ہم وفاق کے سامنے اپنی تجاویز رکھیں گے انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کے حوالے سے کریڈیٹ صرف کسی ایک پارٹی کو نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے مثبت کردار کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں عبوری صوبہ حاصل کرنے میں اگر کامیاب ہوگئے یہ نہ صرف ہماری حکومت یا پارٹی کی کامیابی نہیں بلکہ تمام اپوزیشن ودینی جماعتوں کی مشترکہ کامیابی تصور ہوگا مشیر خوراک نے کہا کہ عبوری صوبے کے حوالے تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور ممبران اسمبلی قوم کی ستر سالہ محرومیوں کے ازالے کیلئے اقتدار کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے ۔
مشیر خوراک جن خیالات کا اظہار کیا وہ اپنی جگہ مگر انہیں یاد رکھنا ہو گا کہ تاخیری حربوں کے باعث گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا معاملہ ہمیشہ سرد خانے کی طرف دیکھا گیا اس لیے اب صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ کمیٹی کمیٹی کھیلنے کے بجائے اس معاملے کو جتنا جلدی ہو سکے حتمی مراحل کی طرف لے کر جائے کیونکہ بہت ہی سادہ سی بات ہے کہ گلگت بلتستان جب ملک کا پانچواں عبوری صوبہ قرار دیا جاتا ہے تو پارلیمنٹ اور وفاقی اداروں میں نمائندگی یقینی ہو گی اس لیے اس اہم معاملے کو طول دینے کے بجائے جتنا جلدی ممکن ہو سکے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے صوبائی حکومت اور اراکین اسمبلی کردار ادا کریں ۔

شیئر کریں

Top