غربت کے سبب معصوموں کا قتل ۔۔؟ تحریر……سیدعارف سعید بخاری

گذشتہ دنوں جہلم کے نواحی گاؤں ہرن پور میں یاسمین نامی ماںنے غربت کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی تین بیٹیوں زوئیہ عمر 5سال ، فائزہ عمر4سال اور جنت عمر صرف 2سال کو تیز دھار آلے سے ذبح کر ڈالا ،قتل کے بعد خاتون نے خودکشی کی کوشش کی ،جیسے بعد ازاں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔بچیوں کا والد رکشہ چلاتا ہے ،جو اس دلخراش واقعہ کا سن کر بے ہوش ہو گیا ۔اس سانحہ نے سارے علاقے کو سوگوار کردیا ۔
ریاست مدینہ کی طرز پر نئے پاکستان کی تشکیل کے دعویداروں کے لیے اس قسم کے واقعات کسی تازیانے سے کم نہیں ۔ غربت اور معاشی بحران کے سبب والدین کے ہاتھوں معصوم اور بے گناہ بچوں اور بچیوں کو قتل کئے جانے کے واقعات ایک عام کی بات ہو گئی ہے ،سابقہ حکومتوں میں بھی ایسے واقعات رونما ء ہوتے تھے ،مہنگائی کی نسبت سے عام آدمی کی آمدنی اس قدر نہیں کہ وہ اپنے پانچ چھ بچوں کی ضروریات باعزت طریقے سے پوری کر سکے ۔موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں مہنگائی کا جن اسقدر بے قابو ہوچکا ہے کہ سفید پوش متوسط طبقے کیلئے اپنی زندگی بسر کرنا دشوار ہو چکا ۔پہلے لوگ ادھار لے کر بھی اپنا کام چلا لیتے تھے ،لیکن اب تو لوگوں نے غریبوں کو ادھار دینا بھی بند کر دیا ہے ۔ادھار کا سلسلہ بھی کھاتے پیتے خوشحال کاروباری خانداتوں اور افراد میں چل رہا ہے ۔لیکن بسا اوقات اپنے پاس سے دیا گیا ادھار بھی واپسی کے تقاضے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن جایاکرتا ہے ۔
اسلامی ریاست میں رعایا کی ضروریات پوری کرنا خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے ،بدقسمتی سے اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں آج تک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست تشکیل نہ پا سکی ،اسلامی تعلیمات کے مطابق رعایا کوبنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کا نظام غیر اقوام نے اپنا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں کے عوام کو کسی قسم کی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی ۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کی تشکیل کی نوید عوام کو سنائی تھی لیکن تین سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا ۔عوام کو ریلیف دینے کے لئے احساس لنگر ،احساس روزگار اور قومی صحت کارڈ جیسی متعدد سہولیات عوام کو فراہم کرنے کے سلسلے شروع کئے گئے ہیں ۔صحت کارڈ کی صورت میں عوام کوبعض بیماریوں کے علاج کی مد میںدس لاکھ روپے تک کی سرکاری سطح پر فراہمی کی سہولت دی جا رہی ہے ۔لیکن اس کے باوجود لوگوں کی مشکلات میں کمی نہیں آ رہی ہے ۔
جہلم میں ماں کے ہاتھوں تین معصوم اور بے گناہ بیٹیوں کا قتل حکومت سے زیادہ وہاں کے عوام و خواص ، عزیز واقارب اور پڑوسیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ان لوگوں کو چلوبھر پانی میں ڈوب کر مر جانا چاہئے کہ جہاں اتنے بڑے شہر میں کھاتے پیتے لوگوں کی موجودگی میں ایک ماں نے غربت کے ہاتھوں تنگ
آکر اپنی بیٹیوں کو قتل کر ڈالا ۔ہمارے وزیر اعظم ، وزراء کرام کی فوج ظفرموج ، سیاسی قائدین ،این جی اوز ،انتظامیہ کے افسران ، محکمہ زکوةٰ ، بیت المال سے وابستہ بیسیوں لوگ اپنی تقریروں اور خطابات میں غریبوں کی حالت بہتربنانے کے بڑے بڑے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔ملک میں ہزاروں این جی اوز کھربوں روپے لوگوں سے غریبوں کے نام پر اکٹھا کرتی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود کوئی نہ کوئی ماں یا باپ اس قدر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی جان لے لیتا ہے ۔اور بعدازاں ہم مگر مچھ کے آنسو بہا تے اور لواحقین سے ہمدردی کرتے نظر آتے ہیں ۔مرنے کے بعد کسی کے دکھوں کا مداوا اچھی بات ہے اگرہم اپنے ارد گرد اور اڑوس پڑوس میں بسنے والوں کی خبر گری پر دھیان دیں تو کافی حد تک اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکتا ہے ۔لیکن ہم بے حسی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں اپنے پڑوس میں رات کو بھوکا سوجانے والے کسی انسان کا بھی پتہ نہیں ہوتا ۔اسلام نے پڑوسیوں کے جو حقوق بیان کئے ہیں ۔ہمیں ان کا بھی ادراک نہیں ۔یا ہم جان بوجھ کر ان فرائض سے چشم پوشی کر رہے ہیں ۔یہ بات ہم سب اچھے سے جانتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو بھی احساس نہیں ہوپا رہا کہ وہ ملک و ملت کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں ۔مہنگائی کے طوفان نے ہردوسرے گھرانے کو زندہ درگور کرکے رکھ دیا ہے ۔ہر چیزکی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے ۔حکومت اپنے کنٹرول میں ہونے والی ہر چیز کا ریٹ بڑھا رہی ہے ۔۔بیسیوں قسم کے ٹیکس غریبوں پر لگا دئیے گئے ہیں ۔اشیائے خورونوش پر جی ایس ٹی اور یوٹیلٹی بلز پر بیسوں اقسام کے ٹیکس لگانا قوم کو معاشی لحاظ سے مفلوج کرنے کے مترادف ہے ۔
خلفائے راشدین کے زمانے میں خلیفہ وقت راتوں کو رعایا کی خبرگیری کیلئے گلی محلوں میں گشت کرتے اور لوگوں کے حالات جاننے کی سعی کرتے اور ان کی ہر ممکن داد رسی کرتے ،جبکہ ہمارے سیاستدان اقتدار ملنے کے بعد سیکورٹی کے بغیر کہیں آنے جانے کارسک بھی نہیں لے سکتے کہ کہیں کوئی انہونی نہ ہوجائے ۔
جہلم میں ماں کے ہاتھوں 3معصوم جانوں کے ضیاع پر ہمارادل غم زدہ ہے ، اور ہمیں حضرت عمر فاروق کے دور کا ایک واقعہ یاد آ یا کہ ایک بڑھیا کسمپرسی کے عالم میں ایک خیمے میں رہتی تھی کہ ایک دن حضرت عمر فاروق کا وہاں سے گزر ہوا۔اس بڑھیا کی حالت دیکھ کرآپ نے اس سے استفسار کیا کہ تم نے اپنی حالت خلیفہ تک کیوں نہیں پہنچائی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ” یہ میرا کام نہیں, یہ خلیفہ کا کام ہے کہ وہ رعایا کے حالات سے باخبر رہیں ”۔حضرت عمر فاروق نے فرمایا” خلیفہ کو اتنے دور کا حال کیسے معلوم ہو سکتا ہے ؟اس پر بڑھیا نے جو جواب دیا روایت کے مطابق اس جواب کو یاد کر کے حضرت عمر فاروقکی آنکھوں میں ہمیشہ آنسو آجاتے تھے ۔آپ فرماتے تھے کہ” خلیفہ کا اصل مفہوم کیا ہے ،یہ مجھے شام کی اس غریب بڑھیا نے سکھایا۔بڑھیا نے کہا تھا”اگر خلیفہ اپنی رعایا کی خبر نہیں رکھ سکتا تو اسے چاہیے کہ خلافت چھوڑ دے”۔
حقیقت تویہ ہے کہ ہمارے حکمران ریاست مدینہ کا نام تو لیتے ہیں لیکن وہ خلافت یا حاکم وقت کی اصل ذمہ داریاں سمجھنے سے قاصر ہیں ،یہاں ہر دوسرا سیاستدان خود کو قوم کا ہمدرد ،خیرخواہ اور رہنماء سمجھتا ہے ۔لیکن کسی کو یہ توفیق نصیب نہیں ہوتی کہ وہ اسلامی ریاست اور رعایاکے بارے میں ذمہ داریوں سے آگاہی حاصل کرنے کی زحمت گواراکرے ۔
افسوس کہ جہلم کی 3معصوم کلیاں جنت میں چلی گئی مگر ان کی موت کے ذمہ دار وہ لوگ جنہوں نے زکوةٰ نہیں دی یا ان کی ضرویات سے چشم پوشی کی ، ان کے پڑوسی جو ان سے غافل رہے، حقوق اللہ کی ادائیگی میں مگن صاحب استطاعت لوگ جواللہ تعالیٰ کی بھوکی پیاسی مخلوق سے لاپرواہ رہے تو انہیں اپنے انجام کی فکر کرناچاہیئے کیونکہ بحیثیت فرد ہم سب مجرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے ۔

شیئر کریں

Top