مستوج۔۔۔!خالد خان

کیلاش کے بعد ہمارا اگلا پڑائو مستوج تھا۔مستوج ضلع چترال کی تحصیل ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔اس کی آبادی ایک لاکھ ستر ہزار نفوس سے زیادہ ہے۔ مستوج بہت خوبصورت اور دلکش علاقہ ہے۔ مستوج میں بلند وبالا پہاڑ اورندی نالے ہیں۔ دریائے مستوج بھی آب وتاب سے بہتا ہے۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں۔ مستوج میں چھوٹے سروسبز وشاداب کھیت ہیں، ان کھیتوں میں خواتین وحضرات کسان محو نظر آتے ہیں۔مستوج کے لوگ ملنسار اور خوش اخلاق ہیں ۔مستوج کے لوگ تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں ۔اس علاقے میں آغا خان فائونڈیشن کی سماجی خدمات نمایاں ہیں۔کیلاش سے مستوج کافاصلہ تقریباً 163کلومیٹر ہے۔چترال اور مستوج کے درمیان سڑک پر جگہ جگہ کام ہورہا تھا ،بعض مقامات پر کئی گھنٹوں روکا جاتا تھا جس کی وجہ سے ہم بیزار ہوگئے اوراس لئے ہم ذہنی اور سماجی لحاظ سے کافی تھک گئے۔ کنسٹرکشن کمپنیوں کے یکطرفہ پالیسی کے باعث سینکڑوں اور ہزاروں کلومیٹر دور سے آئے سیاحوں کو مشکلات اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس لئے کنسٹریشن کمپنی کو چاہیے کہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد راستہ کھولیں۔ گوکہ تعمیر و مرمت کا کام بھی ناگزیزہے لیکن اس علاقے میں سیاحوں کا آنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس علاقے کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے اور سیاحت بھی محض چند مہینوں کیلئے ہوتی ہے،اس لئے کنسٹرکشن کمپنیوں کو ہر پہلو کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔ اس علاقے میں جگہ جگہ خوبانی، توت اور سیب کے باغات ہیں۔ہم دوپہر کو سڑک کنارے ایک باغ میں ٹھہر گئے اور وہاں پر کھانے سے لطف اندوز ہوئے ۔اسی اثناء سکول کی چھٹی ہوئی ،سڑک پر چلتے سفید کپڑوں میں ملبوس بچے سلام کرتے ہوئے گزرتے تھے۔ہم نے آرام اور کھانے کے بعد رخت سفر باندھ لیا۔جب خورشید اپنے کرنوں کو سمیٹ رہا تھا تو ہم بھی مستوج پہنچ گئے۔مستوج میں ہوٹلز کم ہیں، سیاحوں کیلئے سہولیات کا فقدان ہے، اس لئے یہاں سیاح کم ٹھہرتے ہیں۔مستوج کا بازار چھوٹا ہے،جلد بند ہوجاتا ہے۔ہمارا ایک بیلی علیل ہوگیا تو ان کو مرکز صحت مستوج لے گئے ۔ہسپتال بہترین عمارت پر مشتمل ہے اور طبی آلات بھی جدید ہیں۔مرد ڈاکٹرز نظر نہیں آئے البتہ نرس جاکر لیڈی ڈاکٹر کو کہیں سے ڈھونڈکر لے آئیں جس نے مریض کو توجہ سے چیک کیا اور ان کو طبی امداد دی۔ ریسیکو 1122 کا آفس بھی موجود ہے۔ ہم صبح ہوٹل سے فارغ ہوئے تو قلعہ مستوج دیکھنے کیلئے بے تاب اور بے قرار تھے۔ قلعہ مستوج بہت معروف ہے۔ قلعہ مستوج ڈھونڈنے کیلئے کافی تگ دود کی،اس سلسلے میں بارہ تیرہ سالہ لڑکے نے ہماری مدد کی۔ جب ہم دل میں آس اور تمنا لیے قلعہ مستوج پہنچے تو مقامی لڑکے نے شائستہ انداز میں کہا کہ آپ یہیں پر انتظار کریں ،میں منیجر صاحب کو آپ لوگوں کی آمد کے بارے بتاتا ہوں،تھوڑی دیر میں منیجر باہر آیا اور انھوں نے کہا کہ قلعہ دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔انھوں نے قلعہ مستوج دکھانے سے صاف انکار کیا۔ ہم کافی پریشان ہوگئے اور ہم نے ان سے عرض کی کہ ہم سینکڑوں کلومیٹر دور سے آئے ہیں۔ پھر انھوں نے قلعہ مستوج کے مالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہ ہوسکی۔ ان کے بقول اس قلعہ کا مالک چترال میں رہتا ہے۔ قلعہ مستوج کے متصل ہوٹل ہے، منیجر نے بڑی مشکل سے ہوٹل اور اس کا ایریا دکھایا۔ ہم قلعہ مستوج کو اندرسے نہ دیکھ سکے البتہ ہم نے باہر سے قلعے کی دیوارکی چند تصویریں بنائیں۔ یہ معاملہ صرف قلعہ مستوج کا نہیں بلکہ وطن عزیز پاکستان میں بیشتر قلعوں میں سیاح نہیں جاسکتے ہیں ۔ان میں سے قلعہ بالا حصارپشاور ، قلعہ کوہاٹ، قلعہ اٹک، قلعہ شب قدر سمیت تقریباً سارے قلعوں میں سیاح نہیں جاسکتے ہیں کیونکہ ان میں سیکورٹی اداروں کے دفاتر اور رہائش گاہیں ہیں ۔ اس طرح شاہی قلعہ لاہور کی صرف چند حصے دیکھ سکتے ہیں،اس میں بھی زیادہ تر حصے میں سیکورٹی اداروں کی رہائش گاہیں اوردفاتر ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیکورٹی اداروں، ان کے افسران اور ملازمین کے لئے کسی متبادل مقام پر شاندار ،مضبوط اوربہترین عمارتیں بنائی جائیں اور یہ قلعے سیاحوں کے لئے مکمل طور پر کھول دیے جائیں تو یہ وطن عزیز پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا ،اس سے ملک کا امیج بہتر ہوگا اور یہ اقدام سیاحت کے فروغ کیلئے اہم ثابت ہوگا۔اس سے بہت زیادہ زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے اور ملک کی معیشت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔بحرحال قلعہ مستوج کو دیکھے بغیر افسردہ دل سے خراماں خراماں وہاں سے چل پڑے۔یقینا یہ قلعہ کسی کی ذاتی جائیداد ہوگی اور اگریہ قلعہ کسی کو نہ دکھائے تو یہ ان کا استحقاق ہے لیکن ایسی تاریخی مقامات کو سیاحوں اور عام لوگوں سے اوجھل رکھنا یا ان کے دکھانے پر قدغن لگانا یا مخصوص اجازت کی شرط رکھناکسی لحاظ سے مناسب اور معززانہ اقدام نہیں ہے۔ قلعہ مستوج اور دیگر اہم عمارتیں دکھانے سے یقیناً ان کے مالکان کی شان وشوکت میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی لازوال ، ناقابل فراموش، متاثرکن اور بہترین مثال یہ ہے کہ سابق گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان کا بوہڑ بنگلہ اور قلعہ ہر خاص وعام کیلئے کھلا رہتا ہے۔ وہ سب کوقلعہ اور بوہڑ بنگلہ دکھاتے ہیں بلکہ فری گائیڈ بھی فراہم کرتے ہیں۔ قلعہ نواب صاحب کالاباغ اور بوہڑ بنگلہ کی سیر وتفریح کے بعدہر خاص و عام کی چائے پانی وغیرہ سے تواضع کرتے ہیں اور ہر خاص و عام کی عزت کرتے ہیں۔اس سے ان کی شان و شوکت اور عزت میںمزید اضافہ ہوتا ہے۔ دراصل عزت والا ہی دوسروں کی عزت و تکریم کرتا ہے۔یہ سلسلہ نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان کے دور میں رہا ،بعد ازاں نواب زادہ گان کے دور میں بھی رہا اور اب ان کے پوتوں کے دور میں بھی اسی طرح یہ سلسلہ قائم و دائم ہے۔ان کے ملازمین ہر خاص و عام سے اخلاص و محبت سے پیش آتے ہیں ، شیریں اور شائستہ انداز سے گفتگو کرتے ہیںاوروہ سب کو متاثر کرتے ہیں ۔یہ ماحول صرف عظیم اورمعززلوگوں کے ڈیروں اور گھروں پر ملتا ہے۔کسی کے رویے اور معیار میں تعلیم وتربیت اور ماحول کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔مستوج کے لوگ تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں ،اس علاقے میں لڑکوں اور لڑکیوں میں امتیاز اور تفریق نہیں کیا جاتا ہے،اس لئے یہاں لڑکیاں بھی لڑکوں کے برابر تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ چترال سے مستوج کیلئے پختہ رابطہ سڑک تعمیر کی گئی ہے اور اب چترال سے گلگت تک موٹروے بنائی جارہی ہے،اس سے آمد ورفت میں آسانی پیدا ہوجائے گی اور علاقہ ترقی کرے گا ۔ مستوج پرامن علاقہ ہے، اس لیے یہ سیاحت کیلئے بہترین مقام ہے۔اس کی وادیوں اور دیہاتوں میں ضرور جائیں،اس سے آپ فطرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوں گے۔سیاحت کے فروغ کے لئے سب افراد کو اپنا کردارادا کرنا چاہیے ۔سیاحت کو صنعت کا درجہ حاصل ہے۔سیاحت کے فروغ کیلئے علاقے میں کھیلوں ، میلوں اور دیگر تہواروں کا انعقاد بھی کرنا چاہیے تاکہ سیاح اس علاقے کی طرف رخ کرتے رہیں،اس سے اس علاقے کی معیشت بہتر ہوجائے گی اور ملکی زرمبادلہ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔قلعہ نواب صاحب کالاباغ اور بوہڑ بنگلہ کی سیر وتفریح کے بعدہر خاص و عام کی چائے پانی وغیرہ سے تواضع کرتے ہیں اور ہر خاص و عام کی عزت کرتے ہیں۔اس سے ان کی شان و شوکت اور عزت میںمزید اضافہ ہوتا ہے۔ دراصل عزت والا ہی دوسروں کی عزت و تکریم کرتا ہے۔یہ سلسلہ نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان کے دور میں رہا ،بعد ازاں نواب زادہ گان کے دور میں بھی رہا اور اب ان کے پوتوں کے دور میں بھی اسی طرح یہ سلسلہ قائم و دائم ہے۔ان کے ملازمین ہر خاص و عام سے اخلاص و محبت سے پیش آتے ہیں ، شیریں اور شائستہ انداز سے گفتگو کرتے ہیںاوروہ سب کو متاثر کرتے ہیں ۔یہ ماحول صرف عظیم اورمعززلوگوں کے ڈیروں اور گھروں پر ملتا ہے۔کسی کے رویے اور معیار میں تعلیم وتربیت اور ماحول کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔مستوج کے لوگ تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں ،اس علاقے میں لڑکوں اور لڑکیوں میں امتیاز اور تفریق نہیں کیا جاتا ہے،اس لئے یہاں لڑکیاں بھی لڑکوں کے برابر تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ چترال سے مستوج کیلئے پختہ رابطہ سڑک تعمیر کی گئی ہے اور اب چترال سے گلگت تک موٹروے بنائی جارہی ہے،اس سے آمد ورفت میں آسانی پیدا ہوجائے گی اور علاقہ ترقی کرے گا ۔ مستوج پرامن علاقہ ہے۔

شیئر کریں

Top