منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام، خواجہ آصف کے خلاف نیب ریفرنس تیار

290308_8927860_updates.jpg

چیئرمین نیب نے4ستمبر2018کوخواجہ آصف کیخلاف انکوائری کی منظوری دی، خواجہ آصف کو29 دسمبر2020 کو گرفتار کیا گیا ،تحقیقات جاری ہیں،خواجہ آصف جب1991میں سینیٹربنے تو3ہزارمربع گزکاگھرملزم کے پاس تھا، 1993میں خواجہ آصف کے کل اثاثے51لاکھ روپے کے تھے، ریفرنس
لاہور(آئی این پی ) قومی احتساب بیورو (نیب) مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف ریفرنس تیار کرلیا،خواجہ آصف پر منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف ریفرنس تیار کرلیا، ریفرنس حتمی منظوری کیلئے چیئرمین نیب کو بھجوا دیا گیا ہے،خواجہ آصف پر منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے4ستمبر2018کوخواجہ آصف کیخلاف انکوائری کی منظوری دی، خواجہ آصف کو29 دسمبر2020 کو گرفتار کیا گیا ،تحقیقات جاری ہیں۔ متن میں کہا ہے کہ خواجہ آصف جب1991میں سینیٹربنے تو3ہزارمربع گزکاگھرملزم کے پاس تھا، 1993میں خواجہ آصف کے کل اثاثے51لاکھ روپے کے تھے ، پبلک آفس ہولڈرکے بعد2018تک کل اثاثے404 ملین روپے تک پہنچے۔ نیب کا مزید کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے1987سے2018تک 21 کروڑ 3 لاکھ سیزائدآمدن حاصل کی جبکہ 1987سے2018خواجہ آصف نے 43 کروڑ 94 لاکھ 62 ہزار روپے کے اخراجات ظاہرکئے، اس دوران انھوں نے تنخواہ کی مدمیں2کروڑ97لاکھ17ہزار روپے وصول کئے۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ 1987سے2018خواجہ آصف نیکاروبارسے8کروڑ21لاکھ86ہزارآمدن وصول کی، ان کی اہلیہ نیتنخواہ کی مد میں 1کروڑ 7لاکھ 92ہزار روپے وصول کئے۔ ریفرنس کے متن کے مطابق خواجہ آصف نیاہلخانہ کے نام مختلف جائیدادیں بنائیں ،سرمایہ کاری کی، انھوں نے اپنی آمدن کا مرکزی ذریعہ دبئی کی کمپنی کو قرار دیا، دبئی کی کمپنی سے تنخواہ منتقلی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، خواجہ آصف نے دبئی کی کمپنی کی ملی بھگت سے اقامہ بنوایا، دبئی کی کمپنی کیایم ڈی الیاس صلوم کو طلب کیا گیا مگر وہ شامل تفتیش نہ ہوا اور منی لانڈرنگ الزامات کا بھی جواب نہیں دیا۔

شیئر کریں

Top