نیب نے تابش گوہر کے ایف پی سی سی آئی کراچی میں نیب بارے ریمارکس مسترد کر دیئے

654546-KESC-1388774377.jpg

معاون خصوصی کا بیان حقائق کے منافی، من گھڑت اور بے بنیاد ہے، انہوں نے اپنے گمراہ کن بیان سے بزنس کمیونٹی میں نیب بارے میں منفی تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی ، LNGریفرنس پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ مذکورہ ریفرنس میں شامل ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی مبینہ کوشش ہے،قومی احتساب بیورو
اسلام آباد(آئی این پی ) قومی احتساب بیورو نے معاون خصوصی برائے توانائی و پیٹرولیم تابش گوہر کی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کراچی میں نیب کے بارے میں ریمارکس مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ معاون خصوصی کا بیان نہ صرف حقائق کے منافی، من گھڑت اور بے بنیاد ہے بلکہ انہوں نے اپنے گمراہ کن بیان کے لئے بزنس کمیونٹی میں نیب کے بارے میں منفی تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کے علاوہ عدالت مجاز میں نیب کے قانون کے مطابق دائر LNGریفرنس پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ مذکورہ ریفرنس میں شامل ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی مبینہ کوشش ہے۔نیب نے معاون خصوصی برائے توانائی و پیٹرولیم تابش گوہر ایف پی سی سی آئی کراچی میں بیان کی مکمل کاپی پیمراسے سرکاری طور پر حاصل کرکے نیب آرڈیننس کی شقa))31کے تحت مذکورہ بیان کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلہ میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔نیب قطر کے ساتھ حالیہ معاہدہ اور سی پیک منصوبوں کے بارے میں نوٹس لینے کے بے بنیاد بیان کی بھی سختی سے تردید کرتے ہوئے وضاحت کر تا ہے کہ نیب معیشت دوست ادارہ ہے جو زیروہ کرپشن اور سو فیصد ترقی پر یقین رکھتا ہے۔واضح رہے کہ نیب نے سابقہ حکومتوں سے آئی پی پیز معاہدوں میں بعض خامیوں کے تناظر میں آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کی نیب کی حکمت عملہ موثر ثابت ہوئی جس پر نیب نے نہ صرف آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا بلکہ اس سے حکومت پاکستان کو تقریبا 836ارب روپے کی بچت ہوئی۔ اس سلسلہ میں نیب کی 18فروری 2021اور 30مارچ2021کی پریس ریلیزز جو کہ ملک بھر کے تقریبا تمام ٹی وی چینلز پر نشر اور اخبارات میں شائع ہوئی تھیں اور ریکار ڈ کا حصہ ہیں۔مزید بر آاں نیب اس امر کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ نیب میں سی پیک کے کسی منصوبہ کے بارے میں اس وقت نیب میں تحقیقات نہیں ہو رہی ہیں۔مذکورہ معاون خصوصی کا بیان نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ گمراہ کن ہے جس کی نیب سختی سے مذمت کرتا ہے اور یہ باور کروانا ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کے لئے انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان کا ایک ادارہ نیب دنیا کا واحد ادار ہ ہے جس کے ساتھ چین نے مفاہمت کی یاداشت (MOU) پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت نیب چین کے ساتھ مل کر نہ صرف سی پیک منصوبوں کی نگرانی کریں گے بلکہ بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔جہاں تک ملزمان کی 90دن جیل کے بیان کا تعلق ہے نیب نے وضاحت کی ہے کہ نیب کسی بھی ملزم کو گرفتاری کے 24گھنٹوں کے اندر متعلقہ معزز احتساب عدالت میں پیش کرتا ہے جہاں پر نیب ملزم کی گرفتاری کی نہ صرف وجوہات بیان کرتا ہے بلکہ ملزم کے وکیل کے اٹھائے گئے نکات کا جواب بھی دیتا ہے۔ معزز احتساب عدالت دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمانڈ کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس لئے کسی بھی ملزم کو ریمانڈ اور جیل بھیجنے کا فیصلہ معزز احتساب عدالت کا ہوتا ہے جو آئین اور قانون کے تمام تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دیا جاتا ہے۔ نیب کا مذکورہ معاون خصوصی کو مشورہ ہے کہ نیب آرڈیننس کا مکمل جائزہ لیں جس کی منظوری معزز پارلیمنٹ نے دی ہے اور معزز سپریم کورٹ آف پاکستان اسفند یار ولی کیس میں اس کا مکمل جائزہ لے چکی ہے۔نیب بزنس کمیونٹی اور بیوروکریسی کو بیش بہا دفعہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ نیب ایک انسان دوست،بزنس دوست اور ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے پر سختی سے یقین رکھتا ہے۔بزنس کمیونٹی اور بیوروکریسی کے وہ تمام افراد جو مروجہ قوانین کے مطابق اپنا بزنس اور کام کریں گے ان کو نیب سے خوف ذدہ ہونے کی قطعا ضرورت نہیں کیونکہ نیب آپ کا اپنا -پاکستان کا ادارہ ہے جو بزنس کمیونٹی کی ملکی ترقی میں کردار کو نہ صرف انتہائی اہمیت سے دیکھتا ہے۔ چئیرمین نیب نے کراچی، لاہور، اور اسلام آباد کے علاوہ نیب ہیڈ کورٹر میں بزنس کمیونٹی کے راہنماں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل حل کرنے کیلیے نہ صرف فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے مقدمات ایف بی آر کو بھجوا دیئے بلکہ نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کی سربراہی میں بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلیے سپیشل ڈیسک قائم کیا جس پر بزنس کمیونٹی کے راہنماں نے چئیر مین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ نیب بیوروکریسی کو بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت قرار دیتا ہے۔نیب نے ہمیشہ کہا ہے کہ اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ ریاست پاکستان سے ہے۔نیب کسی دبا،پریشر اور پراپیگنڈہ کی پیروی کیے بغیر ہمیشہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کے لئے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیتا رہے گا تا کہ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنایا جا سکے۔ نیب کی موجودہ قیادت میں گزشتہ تین سال سے زائد عرصہ میں نیب نے بدعنوان عناصر سے 533 ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر برآمد کئے۔ نیب کی شاندار کارکردگی کا اعتراف معتبر بین الا اقوامی اداروں جن میں ورلڈ اکنامک فورم، ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشعال پاکستان نے کیا ہے جبکہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد پاکستانی نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ نیب سارک انٹی کرپشن فورم کا چئیرمین اور اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنوینشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے جو نہ صرف نیب بلکہ پاکستا ن کے لئے اعزاز کی بات ہے۔

شیئر کریں

Top