عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعدوفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کوسری نگرہائی وے پرجلسہ کرنے کی اجازت دی اورحکومت کوتمام رکاوٹیں ہٹانے اورگرفتاریاں نہ کرنے کاحکم دیاتاہم سابق وزیراعظم نے حسن ابدال کے مقام پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں ہر صورت ڈی چوک پہنچوں گااور اس وقت تک احتجاج کرونگاجب تک حکومت نئے الیکشن کااعلان نہیں کرتی 2014میں جب نوازشریف کی حکومت تھی تواس وقت علامہ طاہرالقادری اور عمران خان نے دھرنے دئیے تھے اس وقت چونکہ تحریر ی معاہدے کئے گئے تھے لیکن اس کے باوجودتحریک انصاف اور عوامی تحریک کے تحریک انصاف کی قیادت نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے وزیراعظم ہائوس ،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ ہائوس پر حملے کئے اسی تناظرمیں وفاقی حکومت نے ملک بھرمیں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنمائوں کیخلاف کریک ڈائون کیاوفاقی حکومت کی پالیسی میں اس وقت سختی آئی جب پی ٹی آئی کارکن نے پولیس اہلکارکولاہورمیں گولی مارکر شہیدکیااس کے بعدحکومت نے کریک ڈائون کیااور ہرجگہ مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کئے عمران خان جوپشاورسے لانگ مارچ کی ایقادت کررہے تھے حالانکہ اسکے راستے میں کوئی خاص رکاوٹیں کھڑی نہیں کی گئیں اس ک باوجودعمران خان نے رات کواسلام آبادپہنچ کر کارکنوں سے مختصر خطاب کیااور احتجاج ختم کرنے کااعلان کرکے بنی گالہ اسکے فوری بعدپشاور چلے گئے ان کے آنے سے قبل اسلام آبادکے بلیوایریامیں پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان دن بھر جھڑپیں جاری رہیں ،پی ٹی آئی کارکنوں نے درختوں کوآگ لگائی اور گرین بیلٹ کونذرآتش کیامیٹروبس سٹیشن کوبھی نقصان پہنچایا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ 25مئی کو ایس ایس پی رینک کے آفیسر نے ہمیں پشاور جانے سے روکا اور دھمکیاں بھی دیں ، گلگت بلتستان کا وزیر اعلیٰ ہوں ، ہم پر شیلنگ کی گئی ،سپریم کورٹ فیصلے کی اطلاع کے باوجود راستے نہیں کھولے، ایک پورے صوبے کی کابینہ کو وفاق میں آنے سے روکا جا رہا ہے،آرمی چیف،چیف جسٹس اور صدر کو لیٹر لکھنے کا فیصلہ کیا ہے،ہم پرجرم ثابت ہوتو ہم سب استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔ جی بی ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ 25 تاریخ کو جوریلی آئی اس کے بعد کے حالات پر بات کرنی ہے،ہم جی بی کی حکومت ہیں اور ہمارا پی ٹی آئی سے تعلق ہے۔ انہوںنے کہاکہ جسطرح باقی تمام سیاسی پارٹیاں لانگ مارچ کرتے رہے ہیں انکے وزرائے اعلی بھی مارچ میں شریک ہوتے رہے،غازی بروتھا پر پولیس تھی وہاں ایس ایس پی رینک کا آفیسر تھا،میں سرکاری گاڑی پر تھا جس پر جھنڈے لگے تھے ہم نے انہیں کہا ہم پشاور جا رہے ہیں،اس آفیسر نے کہا آپ واپس جائیں،ہم نے انہیں پشاور جانے کا کہا،ایس ایس پی رینک کے آفیسر نے مجھے دھمکیاں دی کہ تم نقصان اٹھاؤگے۔ انہوںنے کہاکہ میں وزیر اعلیٰ ہوں مجھے ایس ایس پی رینک کے آفیسر نے دھمکیاں لگائی،ہم پر شیلنگ کی گئی،سپریم کورٹ فیصلے کی اطلاع کے باوجود انہوں نے راستے نہیں کھولے،کٹی پہاڑی کے پاس روڈ بلاک تھا،عمر ایوب ہمارے ساتھ تھے ہم کنٹینر کے پاس گئے ۔ انہوںنے کہاکہ ہماری گاڑی کو بریک لگنے سے پہلے شیلنگ شروع ہو گئی،یہ اتنی اونچائی پر کھڑے تھے کہ یہ ہمیں نظر بھی نہیں آرہے تھے خالد خورشید نے کہاکہ پولیس نے میری گاڑی ٹارگٹ کی ہوئی تھی،میں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو کال کی اس افسر نے ایسی حرکت کی ہے،ہمیں یہ کہا جاتا کہ آگے جانے کی اجازت نہیں یہ کرائے کے غنڈے بنے ہوئے ہیں انھوں نے کہاکہ گلگت بلتستان صوبہ چھوٹاضروری ہے لیکن میں وزیراعلی توہوں ہم بھی کسی حکومت کا حصہ ہیں ،ہمیں پتہ ہے پولیس کیسے کام کرتی ہے،پولیس ایسی حرکت تب تک نہیں کرتی جب تک اوپر سے آرڈر نہ ہو،انکی یہ حرکت میری اور جی بی عوام کی تضخیک ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈی چوک میں بھی ہر جگہ پولیس نے شیلنگ کی،ہم نے آرمی چیف،چیف جسٹس اور صدر کو لیٹر لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ،ہم پرجرم ثابت ہوتو ہم سب استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایک پورے صوبے کی کابینہ کو وفاق میں آنے سے روکا جا رہا ہے،یہ کیسی روایت ہے کہ جی بی اور کشمیر کی کابینہ کو وفاق میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کیا مراد علی شاہ بلاول کے کنٹینر پر نہیں آتا،میں یہ ہدایت نہیں دے سکتا کہ شہباز شریف گلگت میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ہم اس کا ازالہ چاہتے ہیں،اس آفیسر ،آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کومعطل کیا جائے،یا ہمیں بتائیں کہ تمہاری کیا غلطی ہے۔ انہوںنے کہاکہ روڈ بلاک کرکے کہتے ہیں دفعہ 144 ہے ہم کیا گاڑیاں کندھے پر اٹھاکر لائیں،رانا ثناء اللہ پر 14 قتل کے الزام تو عابد شیر علی کے والد نے لگائے،میں ٹکراؤ کی سیاست نہیں چاہتا،پولیس تو ایسا کرہی نہیں سکتی میں سمجھ رہا تھا کہ یہ رانا ثناء اللہ کے غنڈے ہیں۔
وزیراعلی ہوں خالدخورشیدکاشکوہ۔۔۔ اداریہ
