وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا سے تجارت، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، افتخار علی ملک

Untitled-1-copy-1.jpg

لاہور(آئی این پی)صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے سری لنکا کے 2 روزہ سرکاری دورہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ پیر کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے لئے یہ اچھا شگون ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مشترکہ تجارتی اور سرمایہ کاری کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے جس کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے جبکہ کانفرنس کے بعد دوطرفہ تعاون میں فروغ کیلئے متعدد ایم او یوز بھی ہوں گے۔ افتخار علی ملک، جو گذشتہ تین دہائیوں سے سارک چیمبر کے ساتھ فعال طور پر منسلک رہے ہیں، نے کہا کہ موجودہ دورے سے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور متنوع شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین موجودہ تجارت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ سارک چیمبر کے سربراہ نے کہا کہ چائے سری لنکا کی بڑی برآمدات میں سے ایک ہے اور پاکستان اس کی بڑی مارکیٹ ہے، پاکستان کھوپرا اور ربڑ کا اہم درآمد کنندہ ہے اوریہ دونوں اشیاء بھی سری لنکا کی اہم برآمدات ہیں۔ اسی طرح سری لنکا ٹیکسٹائل کی مصنوعات ، مشینری، دواسازی اور دیگر مصنوعاتکی بڑی مارکیٹ ہے جو پاکستان کی بڑی برآمدات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایف ٹی اے کو صحیح طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو دونوں ممالک کے مابین تجارت کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں نے سری لنکا کی زراعت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعمیراتی شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ اس کی تعمیراتی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے جس سے پاکستانی سیمنٹ کی زبردست مانگ پیدا ہوئی ہے۔ سری لنکا اپنی ضرورت کی 90 فیصد چینی درآمد کرتا ہے اور پاکستانی نجی شعبہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق تحقیق ، جدت طرازی اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اپنی مصنوعات کو متنوع بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ نان ٹیرف رکاوٹوں نے ٹیرف کی معقولیت کے اثرات کو بھی متاثر کیا ہے۔ مکمل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹرز آزادانہ تجارت کے معاہدے کے تحت حاصل رعایتوں سے بھرپور استفادہ حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سارک کے مقاصد کے حصول کے لئے پر عزم ہے اور امید ہے کہ علاقائی تعاون کے عمل کو آگے بڑھنے دیا جائے گا۔

شیئر کریں

Top