ٹیکنالوجی کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے،شبلی فراز

g22.jpg

اسلام آباد ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز نے زراعت فصلوں کی درست طریقے سے کاشت کے لیے پلانٹر ڈیزائن کیا ہے۔پلانٹر کے عملی مظاہرے کی تقریب قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں منعقد ہوئی۔ سید فخر امام وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور جناب شبلی فراز وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر اکمل صدیق تکنیکی مشیر برائے وزارت غذائی تحفظ و تحقیق ، جناب حامد جلیل ممبر پلاننگ کمیشن، ڈاکٹر غلام محمد علی چیئرمین پی اے آرسی اور ڈاکٹر سید حسین عابدی چیئرمین پی سی ایس آئی آر، ڈاکٹر حافظ سلطان محمود ڈائریکٹر زرعی انجنیئرنگ انسٹی ٹیوٹ بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخرامام نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے ملک کا مستقبل زرعی شعبے کی میکنائزیشن سے وابستہ ہے۔ یہاں ایک ملٹی کراپ کی کاشت کی مشین کا افتتاح کیا گیا ہے جو کہ گندم، کپاس اور مکئی کی کاشت کے لئے استعمال کی جائے گی۔ اس مشین کے ذریعے کاشت سے پودے سے پودے اور قطاروں کے درمیان کا فاصلہ کنٹرول ہو گا نیززمین کی لیزر لیولنگ کے بعد پانی کااستعمال تقریبا 50 فی صد تک کم ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ بیج اور پیداواری کاشت کی لاگت میں بھی کمی واقع ہو گی اوراس مشین کی پلانٹنگ کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ مشینری کے مکمل پیکج کے بغیر پائیدار زراعت ممکن نہیں۔ اس سے نہ صرف 50% پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ دیگر وسائل کی بھی بچت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملچنگ فصلوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے مٹی میں دستیاب پانی میں اضافہ ہوتا ہے، گرمی اور خشک سالی کا دباو کم ہوتا ہے اور طویل مدتی میں زمین کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ پائیدار کاشتکاری نظام مشینری کی لاگت کو کم کرتا ہے، آبپاشی کے پانی اور کھیتی کے وقت کو بچاتا ہے، مٹی میں فصل کی باقیات کو شامل کرکے مٹی کے نامیاتی مادے میں بتدریج اضافہ کرتا ہے اور مٹی کی ملچنگ سے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درست طریقے پودے لگانا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے فی ایکڑ پودوں کی مطلوبہ تعداد ملتی ہے۔ مکئی کے لیے ہمیں فی ایکڑ 35,000 پودوں کی ضرورت ہے، اسی طرح ہمیں کپاس کے فی ایکڑ تقریبا 20,000 پودوں کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا کہ زرعی مشینری بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کا حصہ ہے۔ ٹیکنالوجی کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ ہم ملک میں میکانائزیشن کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ میکانائزیشن کے بغیر ہماری زراعت ممکن نہیں ہو گی۔ زرعی میکنائزیشن کے ذریعے کم وسائل کو بروئے کار لاکر پیداوار کو بڑھانا ہے۔ اس سلسلے میں سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت ایسے مختلف منصوبوں کی سرپرستی کر رہی ہے جس میں لاگت کو کم کرکے زرعی پیداوار کے بڑھانے کے اقدامات کو سراہا جائے۔ جناب شبلی فراز نے پی اے آرسی کی زرعی تحقیقی سرگرمیوں کو سراہا ۔ چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی نے مہمانوں کو بریفنگ دی کہ درست ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ فصل کی درست پودے لگانے اور کٹائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہمیں زرعی مشینری کے ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ میں جدید آلات کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 3D ڈیزائن، ماڈلنگ، سمولیشن اور CNC مینوفیکچرنگ کوریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ پیداواری صنعت کے لیے بھی اپنایا جانا چاہیے۔ ہم اپنے زرعی انجنیئرنگ انسٹی ٹیوٹ کو جدید آلات سے مضبوط بنائیں گے، تاکہ ہمارے ڈیزائن اور پروٹو ٹائپنگ کی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔ مشین کا ڈیزائن بہترین ہے جو 95 فیصد سے زیادہ درستگی دیتا ہے

شیئر کریں

Top