پی ٹی آئی ثابت کردے کہ فنڈز ممنوعہ نہیں تو الیکشن کمیشن کو فیصلہ بدلنا ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ

123-431.jpg

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے جو کہا وہ محض آبزرویشن ہے۔ پی ٹی آئی ثابت کردے کہ فنڈز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ بدلنا ہوگا۔

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹر انور منصور عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے نے اپنی کارروائی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں شروع کی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کہیں آرڈر، کہیں رپورٹ، کہیں رائے کہا جا رہا ہے۔ میری نظر میں یہ رپورٹ ہے، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ۔

وکیل نے عدالت میں کہاکہ ہمارے کیس میں پارٹی لیڈر نے دستخط کیے لیکن وہ اکاؤنٹس کو مینیج نہیں کرتا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سیاسی جماعتیں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے ذریعے یہ تیار کراتی ہیں ؟ جس پر وکیل انور منصور نے جواب دیا کہ بالکل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تیار کرتا ہے اور وہ بھی پورا پراسس ہوتا ہے۔ اس سے قبل میں نے دیکھا کبھی پارٹی سربراہ نے یہ دستخط نہیں کیے۔ ہمارے کیس میں پارٹی سربراہ نے یہ دستخط کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کو ایسا ڈیکلریشن دینے کا اختیار نہیں، وکیل پی ٹی آئی

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے صادق و امین نہ ہونے کا کوئی ڈیکلریشن تو نہیں دیا۔ آخر میں الیکشن کمیشن نے صرف ایک نتیجہ اخذ کیا ہے۔ جس پر وکیل نے عدالت کو دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن نے دراصل ڈیکلیریشن ہی دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں تھا کہ وہ ایسا ڈیکلیریشن دے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے جو کہا وہ محض آبزرویشن ہے۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ’’ہولڈ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو شوکاز دیے بغیر وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی کہیں وہ ایسا کرنے نہیں جا رہے، شوکاز نوٹس کرنے ہی پر اکتفا کیا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو یہ خدشہ ہے کہ وہ آپ کو نااہل کردیں گے؟۔ جس پر وکیل انور منصور نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ عمران خان کا ڈیکلریشن غلط ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو فارن ایڈڈ پارٹی قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کے پاس یہ ڈکلیئریشن دینے کا اختیار نہیں تھا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کوئی ڈکلیئریشن تو دیا ہی نہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے شوکاز نوٹس جاری کرنے سے پہلے کسی نتیجے پر تو پہنچنا تھا۔ الیکشن کمیشن اس نتیجے پر پہنچے بغیر شوکاز نوٹس جاری نہیں کر سکتا تھا۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی کے کیا؟ اس کے بجائے آپ مکمل نام (عمران خان) لے سکتے ہیں، جس پر وکیل انور منصور نے جواب دیا کہ معمول کے مطابق آئی کے ہی نکل جاتا ہے۔ میری مراد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔

آپ کے عمران خان سے اچھے تعلقات ہونگے، ہمارے لیے وہ درخواست گزار ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے مزید کہا کہ آپ کے ان سے تعلقات اچھے ہوں گے، ہمارے لیے تو وہ درخواست گزار ہی ہیں۔ جس پر وکیل انور منصور نے عمران خان کیلیے آئی کے کی اصطلاح استعمال کرنےپر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ عمران خان سے متعلق الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا۔

وکیل نے مزید کہا کہ عمران خان اس کیس میں فریق تھے ہی نہیں فریق پی ٹی آئی بطور جماعت تھی۔ عمران خان سے متعلق فیصلہ دینے سے متعلق انہیں نوٹس ہونا چاہیے تھا۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری ہی نہیں کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھی شاید اتنا کچھ کرنے نہیں جا رہا جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ اس کو فیصلہ کہیں گے کیوں کہ اس کے بعد شوکاز نوٹس جاری ہوا۔ عدالت نے کہا کہ آپ نے شوکاز اس لیے کیا ہے کہ ثابت ہونے پر اس کے تحت آپ نے فنڈز بحق سرکار ضبط کرنے ہیں۔اگر نتائج کسی پارٹی کے خلاف ہوں تو آپ وہ فنڈز ضبط کر لیں گے۔

اس کارروائی میں حتمی نتیجے میں صرف فنڈز ہی ضبط ہو سکتے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن

جسٹس میاں گل حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ شوکاز تو آپ نے صرف فنڈز کی ضبطی پر دیا ہے، اس کے حتمی نتیجے میں صرف فنڈز ہی ضبط ہوں گے ناں؟، جس پر وکیل الیکشن نے بتایا کہ جی اس کارروائی کے حتمی نتیجے میں صرف فنڈز ہی ضبط ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا ضرورت محسوس ہوئی پھر معاملہ حکومت کو ریفر کرنے کی؟، جس پر وکیل نے کہا کہ ہم ریگولیٹر ہیں۔ ہمارے علم میں جو بات آئی وہ آگے بتائی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اپنے فیصلے میں آپ نے آخری دو لائنیں open ended چھوڑ دیں ان کا کیا مطلب ہے ؟، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ہم نے حنیف عباسی فیصلے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو صرف معلومات بھیجیں۔ معلومات دیکھ کر کابینہ اس پر آزادانہ رائے دے سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر آپ کے فیصلے میں نہ لکھا ہوتا تو کیا پھر بھی وفاقی حکومت اس پر ایکشن لے سکتی ہے؟۔ جس پر وکیل نے بتایا کہ بالکل وہ معاملہ پبلک میں آچکا ہے پھر بھی حکومت ایکشن لے سکتی تھی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس ریفر کا اختیار کہاں ہے ؟ یہ تو ایک جماعت کے خلاف اپنا زہر نکالنے جیسا ہوا کہ حکومت کو بھیج دیا۔جس پر وکیل نے کہا کہ میرے پاس ایک انفارمیشن آئی، میں نے آگے وفاقی حکومت کو بھیج دی۔ اس کے تناظر میں مزید ایکشنز بھی پٹیشنر کے خلاف ہونے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وفاقی حکومت کو معاملہ نہ بھی بھیجتے تو فرق نہیں پڑنا تھا۔ آپ تو رولز کے تحت صرف فنڈز ضبط کرنے کی کارروائی کر سکتے تھے۔

ہم پولیٹیکل ایشو حل کرنے نہیں بیٹھے، صرف قانون کو دیکھیں گے، چف جسٹس

پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ جس طرح پروسیڈنگ الیکشن کمیشن میں چل رہی ہیں وہ فیئر نہیں ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم پولیٹیکل ایشو حل کرنے کے لیے یہاں نہیں ہیں، ہم نے صرف قانون کے مطابق دیکھنا ہے۔ آپ خدشے کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہولڈ کر دیا ایک بندے کے لیے وہ سچا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ کل کوئی اس پر 62 ون ایف کی کارروائی شروع کر دے تو کیا ہو گا؟اس دوران پی ٹی آئی نے شوکاز کا کامیاب دفاع کر لیا تو کیا ہوگا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دفاع کر لیا تو معاملہ خود ختم ہو جائے گا۔

ہم اوپن مائنڈ کے ساتھ پی ٹی آئی کو شوکاز میں سنیں گے، وکیل الیکشن کمیشن

پی ٹی آئی وکیل انور منصور نے عدالت سے کہا کہ یہی میں کہہ رہا تھا جب دفاع کا حق باقی ہے تو اور کوئی کارروائی کیسے ہو سکتی ہے، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہم اوپن مائنڈ کے ساتھ پی ٹی آئی کو شوکاز میں سنیں گے۔ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا جس طرح سے الیکشن کمیشن میں کارروائی چل رہی ہے میں جانتا ہوں۔

عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے جن اکاؤنٹس کی حد تک مطمئن کردیں گے ہم ڈیلیٹ کردیں گے ، جس پر وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اور کسی پارٹی کی اسکروٹنی نہیں کی، صرف پی ٹی آئی کی اسکروٹنی کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود کہا ہے 2 سی تھری کے تحت وہ کچھ نہیں کر رہے۔

الیکشن کمیشن آپ کو موقع دے رہا ہے تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟، چیف جسٹس

وکیل پی ٹی آئی انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ سے آخری دو لائنیں حذف کر دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن آپ کو موقع دے رہا ہے تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے جن پوائنٹس پر آپ مطمئن کریں گے وہ چیزیں حذف کر دیں گے۔ آپ دوبارہ فیصلے سے نہ مطمئن ہوئے تو پھر عدالت آسکتے ہیں۔

انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن صرف فنڈنگ سے متعلق حذف کرنے کا کہتا ہے۔ میرا پوائنٹ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے قانون کی غلط تشریح کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو تو اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ کے بعد بھی سنا گیا۔ اصولاً تو آپ کو شوکاز والا مرحلہ بھی پہلے ہی گزر چکا۔ ابھی الیکشن کمیشن آپ کو سننے کے لیے پھر تیار ہے۔ آپ کو آخری دو سطور پر اعتراض ہے اسے ہم دیکھیں گے۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ آج لگتا ہے الیکشن کمیشن کے وکیل نئی ہدایت لے کر آئے ہیں۔ آج انہیں بتایا گیا کہ عدالت کو کہیں ہم نے جو فیصلہ کر لیا اسی پر رہنا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مائی لارڈ جو کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا وہی فیصلہ ہے؟، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی ہم اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کر سکتے۔

الیکشن کمیشن فیئر ٹرائل نہیں دے گا تو مناسب نہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا پھر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟۔ پھر تو پی ٹی آئی کو ہم یہاں ہی سن لیتے ہیں الیکشن کمیشن کے خلاف۔آپ کے پاس فیصلہ بدلنے کا اختیار نہیں مگر نئے حقائق سامنے آجائیں تو؟ آپ کو پتا چل جائے فندز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ تو بدلنا ہو گا۔ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے۔ اگر وہ فیئر ٹرائل نہیں دیں گے تو مناسب نہیں۔ حتمی فیصلہ وہ ہو گا جو شوکاز کارروائی کے بعد ہو گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

شیئر کریں

Top