چھوٹے چور جیلوں میں بند،بڑے چور این آر او مانگ رہے ہیں :وزیراعظم

کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا،چھوٹے چوروں کی چوری سے نہیں ، عمران خان
وزیراعظم اور وزراء کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے، قوم کو اوپر اٹھانا ہے تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلنا ہو گا
اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا،دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے اور قیام پاکستان کیلئے علماء و مشائخ نے قائداعظم کے ساتھ مل کر بھرپور کردارادا کیا، قائداعظم نے پاکستان کو بطور اسلامی فلاحی ریاست اور دنیا کیلئے رول ماڈل بنانا چاہتے تھے، ملک وزیر اعظم اور وزرا کی چوری سے تباہ ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے مثال لے لیں جہاں کروڑوں روپے کی کرپشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنما کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو ، ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملک سے چوری ہو کر امیر ملک جاتا ہے، وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار پیر کو علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اب بھی پاکستان کو ایک رول ماڈل بنانے کیلئے علماء کرام کا بہت اہم کردار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں ہیں، انہوں نے کہا کہ مغرب میں دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی مذموم کوشش کی گئی ہمیں مغرب کو باور کرانا ہو گا کہ دہشت گردی کااسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام سلامتی کا وہ مذہب ہے جو امن کا درس دیتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ کردار سے متاثر ہو کر لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا، وزیراعظم نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب نہیں کہ مذہبی منافرت کو ہوا دی جائے جبکہ مغرب میں لوگوں کا دین سے متعلق رویہ ہمارے معاشرے سے مختلف ہے،ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیڈر شپ کو عالمی فورم پر مغربی ممالک کے رہنماؤں کو سمجھانا چاہیے تھا کہ آزادی اظہار اور پیغمبر کی ناموس میں کیا فرق ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا،وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کردیا گیا تو سوچ کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقریق برقرار نہیں رہی اور مغرب میں تمام مسلمانوں ایک ہی نظر سے دیکھے جانے لگے،انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کوئی ایک لفظ ادا نہیں کیا جاتا،عمران خان نے کہا کہ جرمنی میں یہودی کے خلاف ہولوکاسٹ کا ظلم ہوا اور اب آزادی اظہار کے نام پر کوئی اس پر بات نہیں کرسکتا،انہوں نے کہا کہ چار یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر جیل کی سزا ہوجاتی ہے وہاں آزادی اظہار نہیں ہے، مسلم ملکوں کے سربراہان کا فرض ہے کہ دین اسلام پر ہونے والے حملوں کو روکیں، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی خطاب میں بھی کہا تھا اور تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو خطوط بھی لکھے ہیں کہ ہمیں مل کر مغربی دنیا میں موجود اسلام مخالف نظریات کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی مثال لے لیں جہاں کروڑوں روپے کی کرپشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنما کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو،انہوں نے کہا کہ گائے، موٹرسائیکل اور دیگر چھوٹی چوری کرنے والے جیلوں میں ہیں جبکہ ملک کے وسائل چوری کرکے بیرون ملک لے گئے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو۔
وزیراعظم

شیئر کریں

Top