کسی ممبراسمبلی کو بجٹ نہیں ملے گا اپوزیشن کو برابر کا شیئر کیوں دیں حفیظ غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے: وزیراعلیٰ

g6.jpg

کسی بھی صوبے میں اپوزیشن کو بجٹ نہیں ملتا ہم نے شیئررکھا اس کے باوجوداپوزیشن عدالت چلی گئی،اپوزیشن کو کیوں برابر بجٹ دیا جائے ماضی میں حکومتوں نے ہوائی اعلانات کئے
سابق وزیر اعلی نے گندم سبسڈی ختم کرنے کیلئے وفاق کو باقاعدہ خط لکھا تھا،تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف گندم سبسڈی برقرار رکھی بلکہ دو ارب روپے کا اضافہ بھی کیا،پریس کانفرنس
گلگت(سپیشل رپورٹر)وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ اس بار کسی ممبر اسمبلی کو بجٹ نہیں ملے گا بجٹ حکومت کی مرضی سے خرچ ہوگااور مینڈیٹ حکومت کے پاس ہے اپوزیشن بجٹ میں شیئر رکھنے کے باوجود عدالت چلی گئی اس لئے فیصلہ کیا ہے اس بار کسی ممبر اسمبلی کو ترقیاتی بجٹ نہیںملے گا ملک کے کسی بھی صوبے میں اپوزیشن کو بجٹ نہیں ملتا اس کے باوجود ہم نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن ممبرا ن کو بجٹ میں جتنا شیئر رکھا تھا وہ ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ تھا اس اپوزیشن کو کیوں برابر بجٹ دیا جائے جس نے گلگت بلتستان کے عوام کو آج تک بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ماضی میں حکومتوں نے ہوئی اعلانات کئے عملی طور پر کسی بھی حکومت نے بجٹ فراہم نہیں کیا ہے پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت نے تاریخ ساز ترقیاتی پروگرام دیا اور منصوبوں کو متعلقہ فورمز سے منظوری کے بعد ہم نے اعلانات کئے ان منظور شدہ منصوبوں کے جلد ٹینڈرکرائے جائیں گے گلگت بلتستان کا بجٹ حکومت کی مرضی سے خرچ ہوگا صوبائی حکومت نے اپوزیشن کو جتنا بجٹ دیا ہے ماضی میں کسی بھی حکومت نے نہیں دیا اس اپوزیشن کو حکومت کیوں بجٹ دے جن کے دور اقتدار میں عوام پانی ‘ بجلی اور تعلیم جیسے بنیادی سہولیات سے محروم رہے ہم نے اپوزیشن کو بجٹ کا شیئر دیا تھا جو کہ سابقہ ادوار سے زیادہ تھا۔ اس کے باوجود عدالت چلے گئے اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس دفعہ ممبر اسمبلی کے لئے بجٹ ہی نہیں رکھتے ہیں تمام بجٹ حکومت خرچ کرے گی اور مینڈیٹ بھی ان کا ہے وز یر اعلی نے کہا کہ سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان نے گندم سبسڈی ختم کرنے کیلئے وفاق کو باقاعدہ خط لکھا تھا تحریک انصاف کی حکومت نے حفیظ الرحمان کے خط کو مسترد کر کے نہ صرف گندم سبسڈی برقرار رکھی ہے بلکہ سبسڈی میں دو ارب روپے کا اضافہ بھی کیا میگا ترقیاتی پیکیج کے تحت جی بی میں جاری پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کیلئے بھی رقم رکھی گئی ہے سابق وزیر اعلی وفاقی منصوبوں کے حوالے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے حالانکہ تمام وفاقی منصوبے پی ایس ڈی پی کی کتاب میں شائع ہو چکے ہیں اور باقاعدہ ان پر کام شروع ہو گا عبوری آئینی صوبے کے حوالے سے جولائی میں اسلام آباد میں میٹنگ ہوگی گلگت بلتستان میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپوزیشن ،دینی جماعتیں بار کونسل اور صحافیوں سے مشاورت کے بعدمکمل ڈرافت بنے گا وہ ڈرافٹ وفاق میں جمع کرایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کا عہدہ گلگت بلتستان میں منتقل کیوں نہیں ہوا اور کتنے میگا منصوبوں کے ٹینڈر گلگت میں ہوئے ہینزل پاور پراجیکٹ جب چار سال قبل منظور ہوا تو اس پر ٹینڈر کیوں نہیں کرایا گیا اور گلگت سکردو شاہراہ کا بجٹ جاری کیوں نہیں کیا گیا اب تک اس منصوبے کیلئے دس ارب روپے تحریک انصاف کی حکومت نے جاری کئے اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بقیہ رقم بھی فراہم کریں گے وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لئے پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے لئے ایلوکیشن دو ارب سے بڑھا کر دس ارب کر دی ہے۔
خالد خورشید

شیئر کریں

Top