کشمیر ! حق خود ارادیت ……تحریر……ڈاکٹر تصور حسین مرزا

کشمیر دنیا میں اپنی خوبصورتی اور افادیت کی بناپر جنت کہلاتا ہے۔
کشمیر، سبز علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہے،(رانا محمد قاسم نون) نارنجی بھارت کے انتظام میں ہے جبکہ اسکائی چن پر چین کا کنٹرول ہے.کشمیر کوئی چھوٹا زمین کا ٹکرا نہیں بلکہ بڑا علاقہ ہے جس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ بھی شامل ہے۔ پاکستانی کشمیر میں گلگت اور بلتستان کے علاقے شامل ہیں۔ کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے۔
کشمیر تنازعات کے باعث تین ممالک میں تقسیم ہے جس میں پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر)، بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم علاقہ) کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتا کم اونچے پہاڑوں پر موجود ہے۔
کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے اور اس تنازعے کا واحد حل اقوام متحفہ کی قرار دادوں کے تناظر میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہے. پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں جو کشمیر کے آزادی اور خود مختاری کو بامسئلہ کشمیر دنیا کے خطرناک ترین علاقائی تنازعات میں سے ایک شمار کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں 1971ء کی جنگ بنگال کی وجہ سے ہوئی تھی۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ سولہ مارچ 1846ء انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کیا. امرتسر معاہدہ.پھر اس کا بیٹا زنبیر سنگھ جانشین بنا.پھر پرتاب سنگھ جانشین بنا.افیون کا نشئہ کرتا تھا۔ کرکٹ کھیلنے کا شوقین تھا..بے اولاد تھا۔
پھر امر سنگھ کا بیٹا ہری سنگھ سازش سے جانشین بنا. حکیم نور دین جو مرزا قادیانی کا دست راست اور سرکاری حکیم تھا اس سازش میں پیش پیش تھا۔ یہ قادیانی سازش کی پہلی فتح تھا۔ قادیانی کشمیر میں الگ ریاست کے خواہاں تھے۔
ہری سنگھ 1925ء میں گدی نشین بنا جسے قادیانی حمائت حاصل تھی. مسلمانوں پر ظلم و استبداد شروع ہوا. 1929ء میں شیخ عبد اللہ نے ریڈنگ روم تنظیم اور اے آر ساغر نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بنائی.
1931ء میں پہلی مسجد ریاسی میں شہید ہوئی. کوٹلی میں نماز جمعہ پر پہلی بار پابندی لگائی گئی۔ ایک ہندو کانسٹیبل نے قرآن کی بے حرمتی کی. عبدالقدیر نامی مسلمان نے بے مثال احتجاجی جلسے کیے. جو گرفتار ہوا پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ 13 جولائی کو شہدائے کشمیر ڈے اسی قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس طرح تحریک آزادی کشمیر 1931ء میں مکمل شروع ہوئی۔
25 جولائی 1931ء میں فئیر ویو منزل شملہ میں ایک میٹنگ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کی صدارت قادیانی مرزا بشیرالدین محمود نے کر ڈالی.یہ مرزا قادیانی کا بیٹا تھا.. یہ پھر قادیانی فتح تھی. اس نے سازش کر دی کہ تمام مسلمان قادیانی کے نبی ہونے کو مان چکے ہیں اسی لیے مرزا بشیر کو صدر منتخب کیا. یاد رہے اس کمیٹی میں علامہ اقبال بھی شامل تھے۔ سب مسلمان فورا اس کمیٹی سے دستبردار ہوئے. عطائاللہ شاہ بخاری فورا کشمیر بھیجے گئے۔ بڑی مشکل سے مسلمانوں کو اس سازش سے نکالا. علامہ اقبال مجلس احرار کے سرپرست بنے اور بشیر قادیانی کی سازش ناکام کی.اور 14 اگست 1931ء پہلی بار کشمیر ڈے منایا گیا۔اکتوبر 1931ء میں علامہ اقبال کی سرپرستی میں مسلمان وفد مہاراجا ہری سنگھ اور اس کے وزیر اعظم ہری کرشن کول سے مذاکرات کے لیے ملے. مذاکرات ناکام ہوئے. سیالکوٹ سے کشمیر چلو کشمیر چلو تحریک چلی. یوں تحریک آزادی باقاعدہ 1931ء میں شروع ہوئی. مسلمانوں کا دوسرا مجاہد دستہ جہلم سے میر پور کی طرف روانہ ہوا. تیسرا دستہ راولپنڈی کے تیس نوجوانوں پر مشتمل تھا جو قرآن پر قسم اٹھا کر نکلے کہ کوہالہ پل بند کر کے رہیں گے.پھر اس جنگ کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نومبر 1931ء میں سر بی جے گلینسی کی صدارت میں کمیشن بنا۔
1933ء میں سری نگر پتھر مسجد میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی۔ شیخ عبد اللہ اس کے صدر اور چوہدری غلام عباس اس کے جنرل سیکرٹری بنے.اس وقت بھارت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر جبکہ پاکستان 85،846 اور چین 37،555 مربع کلومیٹر پر حکمرانی ہے۔
کشمیر اور کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا۔سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کشمیر ایک جسم ہے جس کے تین ٹکرے ہوگئے ہیں ایک بھارت دوسرا چین اور تیسرا پاکستان کے پاس ہے. جب گولہ بارود بھارت پاکستان یا چین کی طرف پھینکتاہیں تو مرتے (شہید کشمیری چین والے، یا پاکستانی کشمیری ہوتے ہیں) جوابی کارروائی چین کی ہو یا پاکستان کی مرتے انڈیا میں (بھارتی انڈین شہید ہوتے ہیں) واحد اور مستقل حل اقوام متحفہ کی قرار دادوں کے تناظر میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہیں ۔

شیئر کریں

Top