کشمیر پر بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

امریکا آج بھی اس کو ایک تسلیم شدہ تنازع سمجھتا ہے جو حل طلب ہے، کورونا وبا چیلنج کے بعد دنیا کی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں، عالمی سطح پر ایک معاشی بحران دیکھنے میں آیا ہے،، دنیا بھر میں ایئرلائن بزنس بحران کا شکار ہوا، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس لاک ڈاون پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہوئے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر پر بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، امریکا آج بھی اس کو ایک تسلیم شدہ تنازع سمجھتا ہے جو حل طلب ہے۔ جمعہ کو شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ٹوئٹ سامنے آئی جس کا ہم نے نوٹس لیا اور فوری اپنا موقف پیش کیا، خوشی ہے بائیڈن انتظامیہ کے ترجمان نے اس کی وضاحت کر دی، کشمیر پر ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، وہ آج بھی اس کو ایک تسلیم شدہ تنازع سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کورونا کے حوالے سے کہا کہ کورونا وبا چیلنج کے بعد دنیا کی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں، عالمی سطح پر ایک معاشی بحران دیکھنے میں آیا ہے، خلیجی ممالک کی معیشتیں بھی خاصی متاثر ہوئیں۔ وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ملازمتوں میں کمی واقع ہوئی اور بہت سے لوگوں کو واپس آنا پڑا، دنیا بھر میں ایئرلائن بزنس بحران کا شکار ہوا، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس لاک ڈاون پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہوئے، کنسٹرکشن انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی۔ شاہ محمود نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل یواے ای گیا، وہاں کے وزیرخارجہ سے تفصیلی نشست ہوئی، واضح کر دوں کہ یوایای کے تحفظات پاکستان سے متعلق مخصوص نہیں ہیں، ہم ان کے تحفظات کو دور کررہے ہیں، ہماری گفتگو جاری ہے انشااللہ بہتری کے امکانات ہیں۔ اپنے بیان میں وزیرخارجہ نے فوجی مشقوں سے متعلق بھی اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشق امن21بہت بڑی کامیابی ہے، مشق امن 21میں 40 ممالک کی بحریہ حصہ لیرہی ہیں، عنقریب نیول چیف کی دعوت پر کراچی جا رہا ہوں۔

شیئر کریں

Top