کونسل انتخابات کروڑوں کمانے کیلئے کرائے جا رہے ہیں :پیپلز پارٹی

g13-2.jpg

کونسل کا کردار محض مشاورتی ہے قانون سازی اور ترقی میں کردار نہیں،پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا اوپن بیلٹ کے ذریعے کونسل انتخابات کرانے کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان
مخصوص لوگوں کو نوازنے کیلئے ہتھکنڈے استعمال کر نا صوبائی حکومت کی نو ماہ کی کارکردگی ہے ، اب حق ملکیت تحریک لیکر میدان میں آئیں گے،امجد ایڈووکیٹ ودیگر کی مشترکہ پریس کانفرنس
گلگت(بیورو رپورٹ)پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے اوپن بیلٹ کے ذریعے کونسل انتخابات کرانے کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا پارٹی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے خفیہ رائے دہی کے ذریعے سینیٹ کے الیکشن کرانے کا قانون گلگت بلتستان پر بھی لاگو ہوتا ہے اس لئے اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابات کا قانون سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے ایسا ہوا تو یہ توہین عدالت ہوگی گزشتہ کونسل الیکشن بھی خلاف قانون تھے اور آ نیوالے انتخابات بھی غیر قانونی کہلائیں گے جسے روکنے کے لئے پیپلز پارٹی عدالت سے رجوع کریگی اور سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق خفیہ رائے دہی کے ذریعے کونسل الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے پٹیشن دائر کی جائے گی۔ کونسل کا کردار محض مشاورتی ہے قانون سازی اور ترقی میں کوئی کردار نہیں اس کے باوجود الیکشن محض چھ نشستوں کو فروخت کر کے کروڑوں کمانے کی غرض سے کرائے جارہے ہیں۔
کونسل الیکشن
گلگت(سپیشل رپورٹر) پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر واپوزیشن لیڈر امجد حسین ایڈووکیٹ،محمد علی اختر،جمیل احمد، رکن اسمبلی سعدیہ دانش،انجینئر اسماعیل ودیگر نے پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں نظام مفلوج ہوکررہ گیا ہے انصاف کیلئے عدالت موجود نہیں،قانون سازی روکنے کیلئے اسمبلی پر تالے لگادیئے گئے ہیں عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کیا طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخونزدہ کو پکارا جائے؟پیپلزپارٹی کے قائدین نے کہا کہ ستمبر تک اگر 2 الیکشن ٹربیونلز نہ بنائے گئے تو حالات کے ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر ہوں گے پھر ہمیں کوئی گلہ نہ کیاجائے یہ کیسی ریاست ہے جہاں انصاف کیلئے ہمیں عدالت فراہم نہیں کی جارہیں کون لوگ ہیں جو الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کو روک رہے ہیں اگر گلگت بلتستان میں جنگل کا قانون ہے تو ایسے قانون اور ایسے نظام کو ہم نہیں مانتے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کیلئے چیف سیکرٹری کو خط لکھنے کی ڈرامہ بازی بند کی جائے کیا الیکشن کمیشن آزاد ادارہ نہیں اگر الیکشن کمیشن آزادادارہ نہیں تو اسے فوری بند کیاجائے پیپلزپارٹی کے صدر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کا نظام کابل سے بھی بری طرح مفلوج ہے اسمبلی ڈمی ادارہ بن کررہ گئی جہاں کوئی اجلاس نہیں ہورہا اسمبلی کے سیکرٹری اور سپیکر ماہانہ ایک لاکھ روپے اضافی مراعات کیلئے اسمبلی کو مفلوج کرکے رکھ دیا حق ملکیت بل ایوان میں پیش کرنے کیلئے اسمبلی کے سیکرٹری اور سپیکر رکاوٹ ہیں جو ممبران کو ریاستی اداروں کی مخالفت کے نام پر گمراہ کررہے ہیں حق ملکیت بل میں ریاست رکاوٹ نہیں اگر ریاست رکاوٹ ہوتی توہم سے بات کرتے ہم سے مخالفت کرتے مگر یہاں اسمبلی کے سیکرٹری اور سپیکر اس بل میں رکاوٹ بن گئے 9ماہ سے اسمبلی میں سٹینڈنگ کمیٹیاں نہیں بنائی گئیں مخصوص لوگوں کو مراعات سے نوازنے کیلئے چند اجلاس بلائے گئے اس کے بعد اسمبلی پر تالے لگے ہیں اداروں کو مفلوج کرکے رکھ دیاگیا ایک ریٹائرڈ جج کو چیف کورٹ کے چیف جج کے برابر مراعات اور پنشن کے لئے دو دفعہ پٹیشن مسترد ہونے کے باوجود پھر سماعت کے لئے منظور ہوئی تحریک انصاف کی حکومت کی نو ماہ کی کارکردگی یہ ہے کہ مخصوص لوگوں کو نوازنے کے لئے ہتکھنڈے استعمال کئے جارہے ہیں صدر پیپلزپارٹی نے اعلان کیا کہ اب حق ملکیت تحریک لیکر میدان میں آئیں گے انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چھ ماہ میں گلگت بلتستان کے اندربہت بڑا فساد برپا ہونے والا ہے جسے حکومت کیلئے سنبھالنا مشکل ہوجائیگا اگر اس فساد کوروکنا ہے تو حق ملکیت بل اسمبلی سے منظور کرنا ہوگا گلگت بلتستان میں فساد برپا ہونے کے حوالے سے اداروں کی رپورٹس موجود ہیں اس سے پہلے حکومت ہوش کے ناخن لے عبوری صوبے کا چپٹر بندہوگیا وزارت داخلہ نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر نکالنے پر تلی ہوئی ہے اسی کے ساتھ کونسل کے انتخابات کرائے جارہے ہیں پیپلزپارٹی اس ڈمی کونسل کو مسترد کرتی ہے اگر کونسل کے انتخابات کرانے ہیں تو کونسل کوفعال کیاجائے گلگت بلتستان میں حکومت نام کی کوئی شے نظر نہیں آرہی ہے ہر ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔
پیپلز پارٹی

شیئر کریں

Top