کٹھ پیلی راج نے استور دیامر کے سیاحتی مقامات پر حملہ کردیا نیشنل پارک عوام کو مزید محکوم اور پسماندہ رکھنے کی سازش ہے:اپوزیشن لیڈر

گلگت بلتستان مستقبل میں سیاحتی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہوگا،یہاں سے اربوں روپے کی سالانہ آمدن ہوگی مگر عوام کو مزید پسماندہ اور محکوم رکھنے کیلئے اہم مقامات پرنیشنل پارک کے نام پر قبضہ جمایا جارہا ہے
تحریک انصاف اور سہولت کاروں کو ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مسلط کیا گیا،مافیانے پاکستان کے بعدگلگت بلتستان کارخ کرلیا،عبوری صوبے کاخواب دکھاکرعوام کاکچومرنکالاجارہاہے،امجدایڈووکیٹ
گلگت(پ ر)قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے کٹھ پتلی راج نے استور اور دیامر کے سیاحتی مقامات پر پہلا حملہ کر دیا گلگت بلتستان کے مستقبل کے سیاحتی مراکز پر نیشنل پارک کے نام پر قبضہ عوام کو مزید محکوم اور پسماندہ رکھنے کی سازش ہے زمینوں پر قبضے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں گلگت بلتستان کے عوام اپنی زمینوں پر کرایہ دار ہوں گے راما، فیری میڈو، روپل، منی مرگِ،دیوسائی،قمری،میر ملک، نانگا پربت اور ہمالیہ نیشنل پارک کے نام پر چراگاہوں پر قبضہ کر لیا گیا گلگت بلتستان میں تحریک انصاف اور سہولت کاروں کو ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مسلط کیا گیا فاق میں پیٹرولیم، آٹا، چینی اور مہنگائی مافیاز کی سرپرستی کرنے والے گلگت بلتستان میں بھی قبضہ مافیا بن چکے نیشنل پارک قرار دینے کے بعد ان تمام علاقوں پر محکمہ جنگلات اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرے گا ان تمام علاقوں میں گھاس چرائی، ہینزم سوختنی، کاشتکاری اور تعمیرات پر پابندی عائد ہوگی جبکہ گلگت بلتستان 28000 مربع کلومیٹر میٹر میں سے صرف دو فیصد رقبہ زیر کاشت ہے گلگت بلتستان کے عوام مطلوبہ وسائل کی عدم دستیابی اور کالے قوانین کے نفاذ کی وجہ اپنی بنجر زمینوں کو زیر کاشت لانے اور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ستم ظرفی کا یہ عالم ہے کہ بنجر زمینوں کو خالصہ سرکار کے نام پر آباد کاری اور کاشت کاری سے روکا جارہا ہے۔ چراگاہوں کو نیشنل پارک کے نام پر فوائد حاصل کرنے سے روکا جارہا ہے۔ محض مقامی باشندہ ہونے کی بنیاد پر اعلی عہدوں پر فائز ہوئے سے روکا جارہا ہے۔ معدنیات اور قیمتی پتھروں کو ریاست اور حکومت کی ملکیت قرار دیکر عوام کو تصرف سے روکا جارہا ہے۔ جنگلات پر ایف سی تعینات کر کے مفاد حاصل کرنے سے روکا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے قوانین راتوں رات نافذ ہوتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان عوام کو سہولیات فراہم کرنے والے قوانین کے نفاذ کے لئے صدیاں درکار ہیں۔ استور کے آدھے سے زیادہ رقبے پر نیشنل پارک کے نام پر قبضہ کر لیا گیا گلگت بلتستان مستقبل میں سیاحتی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہوگا اور ان علاقوں سے اربوں روپے کی سالانہ آمدنی ہوگی مگر عوام کو مزید پسماندہ اور محکوم رکھنے کے لئے منصوبہ بندی کے تحت اہم ترین سیاحتی مقامات پر نیشنل پارک کے نام پر قبضہ جمایا جارہا ہے۔ نیشل پارک بننے کے بعد ان علاقوں کے عوام سیاحتی مقامات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے عبوری صوبے کا خواب دکھانے والوں نے عوام کا کچومر نکال دیا تحریک انصاف اور سہولت کاروں کو جس مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مسلط کیا گیا تھا عملی طور پر اسکی تکمیل کے لئے شروعات کردی گئی ہیں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے حقِ ملکیت کی جو تحریک شروع کی تھی وہ دراصل گلگت بلتستان کے عوام کی بقا کی ضمانت ہے۔
امجدایڈووکیٹ

شیئر کریں

Top