کے آئی یوکے اساتذہ بھی دیگرجامعات کی طرح ملک گیراحتجاج میں شامل

12345-47.jpg

گلگت(بادشمال نیوز)قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سمیت پاکستان کی 97 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے40 ہزار سے زائد بی پی ایس اساتذہ نے اپنے اپنے جامعات میں یکم مارچ 2022 سے مطالبات کی عدم منظوری پر ملک گیر احتجاج کا آغاز کردیا۔یکم مارچ سے شروع ہونے والا احتجاج کئی مراحل پر مشتمل ہوگا جس میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے ساتھ 10 مارچ کو اسلام آباد میں ایچ ای سی کے مرکزی دفتر کے باہر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہم نے حکومت کو آگاہ کردیا ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والے تمام تر نقصانات کی ذمہ داری ایچ ای سی اور حکومت پرعائد ہوگی۔تفصیلات کے مطابق اپوبٹا کے قائدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ 17 مہینوں میں ایچ ای سی سے 17 میٹنگز ہوئیں ہیں لیکن سب بے سود نکلیں۔ حکومت اساتذہ کو اب تعلیمی اداروں سے نکال کر سڑکوں پر آنے پر مجبور کر رہی ہے۔ملک بھر کی جامعات میں مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔آل پاکستان یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن (اپوبٹا) کے رہنماں کا مزید کہنا ہے کہ ملک بھر میں بی پی ایس ٹیچرز کا واحد نمائندہ فورم ہے جس کا مقصد یونیورسٹیوں میں تدریس اور تحقیق کے معیار کو بلند کرنا اور یونیورسٹیوں میں بی پی ایس اساتذہ کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنا ہے۔ ہم کچھ حقائق ارباب اختیار کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ پچھلے بیس سالوں میں پاکستان میں یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن معیار کے لحاظ سے صورتحال تشویشناک ہے ، ملک میں اعلی تعلیم کا معیار گر رہا ہے، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹس گواہ ہیں کہ ملک میں اعلی تعلیم کا معیار بہت گرچکا ہے۔ امیدواروں کے، پاس ہونے کی شرح 12فیصد سے کم ہو کر محض 2 فیصد رہ گئی ہے، خیبر پختونخواہ میں تناسب صرف ایک فیصد رہ گیا ہے،جو ہمارے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔آل پاکستان یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن(اپوبٹا) کے راہنماں نے مزید کہا ہے کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں بی پی ایس اساتذہ کے قانونی و بنیادی حقوق کا استحصال بھی معیار تعلیم گرنے کی بڑی وجہ ہے۔ ملک بھر کی جامعات میں سالانہ بڑی تعداد میں تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں لیکن اس تحقیق کا ہمارے معاشرے پر کوئی اثردکھائی نہیں دیتا۔ ہائیرایجوکیشن کمیشن شاید جواب نہ دے پائے لیکن جامعات کے بی پی ایس اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ تحقیق کا معیار اس لیے گر رہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات کے اساتذہ کو بی پی ایس اور ٹی ٹی ایس میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایچ ای سی، جامعات کے اساتذہ کی تقرری اور پروموشن کیلئے کم از کم معیار اور اہلیت فراہم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس حوالے سے ایچ ای سی آرڈیننس 2002 کے سیکشن (کیو۔10) میں اس اختیار کی وضاحت موجود ہے لیکن بد قسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اپوبٹا ایچ ای سی کے بنائے گئے آرڈیننس کی خلاف ورزی کو انتہائی تشویشناک سمجھتا ہے۔ جامعات میں بی پی ایس فیکلٹی مکمل نظر انداز ہو رہی ہے۔

شیئر کریں

Top