گھوٹکی کے قریب 2 مسافر ٹرینوں میں تصادم سے 36 افراد جاں بحق، 50 زخمی

ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جاگریں، امدادی کارروائیوں میں پاک فوج اور رینجرز کے جوان شریک،پاک فوج کے 2 ہیلی کاپٹر ز بھی ریسکیو آپریشن میں شامل
وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے پر نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں انکوائری کا حکم
گھوٹکی (آئی این پی ) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب دو مسافر ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں 36 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوگئے،ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جاگریں، امدادی کارروائیوں میں پاک فوج اور رینجرز کے جوان شریک،پاک فوج کے 2 ہیلی کاپٹر ز بھی ریسکیو آپریشن میں شامل، وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے پر نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں انکوائری کا حکم دے دیا ۔ ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثہ رات 3 بج کر 45 منٹ کے قریب ہوا، ملت ایکسپریس حادثے کے فوری بعد سرسید ایکسپریس ٹریک پر گری بوگیوں سے جاٹکرائی، ملت ایکسپریس کے ڈرائیور کو کمیونیکیشن سسٹم دستیاب ہے، سرسید ایکسپریس نے ولہار سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر کراس کیا، ملت ایکسپریس نے ڈہرکی کو 3 بج کر 30 منٹ پر چھوڑا، ماچھی گوٹھ سے ڈہرکی تک ٹریک بوسیدہ اور مرمت کرنے والا ہے ۔ حادثے کے نتیجے میں اب تک 36 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر ملت ایکسپریس میں سوار تھے جبکہ سرسید ایکسپریس کے زیادہ مسافر زخمی ہوئے ہیں۔ ایس ایس پی میرپور ماتھیلو عمر طفیل کا کہنا ہے کہ حادثے میں 7 بوگیاں متاثر ہوئی ہیں جن میں 3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 6 سے 8 بوگیاں ایک دوسرے میں پھنسی گئیں ، ان بوگیوں میں پھنسے متعدد مسافر وں کو بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا جب کہ مقامی ریسکیو رضاکار کے علاوہ رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار بھی امدادی کاموں میں مصروف رہے ۔ ۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی 6 بوگیاں ٹریک اتر کر دوسری ٹریک پر چلی گئیں، اسی اثنا میں مخالف سمت سے آنے والی سر سید ایکسپریس بھی پہنچ گئی اور ملت ایکسپریس کی اتری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے حوالے سے عینی شاہد کے مطابق ملت ایکسپریس میں لگائی گئی بوگی نمبر 10 کا ہک خراب تھا، ڈرائیور نے 10 نمبر بوگی کو گاڑی میں شامل کرنے سے انکار کیا تھا لیکن مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے زبردستی 10 نمبر بوگی کو گاڑی میں ڈالا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا، 10 نمبر بوگی ہی رونتی اسٹیشن کے قریب آ کر پٹری سے اتر گئی جس کی وجہ سے حادثہ ہوا 11 اور 12 نمبر ہوگی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی ہے۔ ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پہلے زخمیوں کو نکال کر بوگیوں کو ہٹایا جائے گا، اس کے بعد ہی ٹرینوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جاسکے گا۔ وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے پر نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

شیئر کریں

Top