اتنےدن پارلیمنٹ کو بند رکھنااورسینیٹ کوتالا لگا کے رکھنے سے اچھی روایت قائم نہیں ہوئی حکومت نے آئینی مسئلہ بھی پیدا کیا ہے، قائدحزب اختلاف

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اتنے دن پارلیمنٹ کو بند رکھنا اور سینیٹ کو تالا لگا کے رکھنے سے اچھی روایت قائم نہیں ہوئی حکومت نے آئینی مسئلہ بھی پیدا کیا ہے ،حکومت کی طرف سے سینیٹ کااجلاس بلانے کے پیچھے منفی سوچ ہے اس لیے ہمارے ایجنڈے کے بجائے اپنا ایجنڈا رکھا ہے ،

اگر احتسا ب کرناہے توایک ادارے وقانون کے تحت عدلیہ فوج سمیت سب کااحتساب کریں کوئی مقدس گائے نہ ہو،نیب سے سرمایہ کاراور بیوروکریسی کونکال دیافوج اور عدلیہ کااپنانظام ہے صرف سیاست دان رہے گئے ہیںہم نے ان ترمیم کانہیں کہاتھا ، نئے سال کی مبارک بادقبول کرتے ہیں مگر ہماراسال محرم سے شروع ہوتاہے،نیب میں ترمیم نہیں نیب ہی ختم ہوناچاہیے ،جمہوریت میں جمہوری ادارے فعال ہوتے ہیں مگر آج جمہوری ادارے مفلوج ہیں جس طرح فالج ہواہو۔

ان خیالات کااظہار قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفرالحق ،سابق چیرمین سینیٹ میاں رضاربانی ،جمعیت علماء اسلام کے سینیٹرمولاناعبدالغفورحیدری  نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفرالحق نے کہاکہ سینیٹ کا اجلاس بلانے میں بہت تاخیر کی گئی اپوزیشن نے اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کروائیریکوزیشن جمع کرنے کے دو دونوں کے اندر ہی جلدی میں حکومت نے اجلاس بلایااپوزیشن کی ریکوزیشن میں چھ نکات شامل تھے آرڈیننسز کے بارے میں سینیٹ کو اندھیرے میں رکھ کر صرف قومی اسمبلی میں پیش کیے جا رہے ہیں

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈان کو 144دن گزر گئے ہیںخواتین اور بچوں سمیت کشمیریوں کو بیدردی سے شہید کیا جا رہا ہے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر فوری طور پر اجلاس بلانا چاہئے تھاملک میں سیاسی انتقام اپنی عروج پر ہیان ایشوز پر ایوان میں سیر حاصل بحث ہونا ضروری تھافوری طور پر اجلاس بلانے کا مقصد منفی سوچ ہیاجلاس جے ایجنڈے میں اپوزیشن کی بجائے حکومت کے ایجنڈے کو لانا تھااتنے دن پارلیمنٹ کو بند رکھنا اور سینیٹ کو تالا لگا کے رکھنے سے اچھی روایت قائم نہیں ہوئی اس سے ایک آئینی مسئلہ بھی پیدا کیا ہے اجلاس بلانے کے پیچھے منفی سوچ ہے اس لیے ہمارے ایجنڈے کے بجائے اپنا ایجنڈا رکھا ہے ۔سینیٹر میاں محمد رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آ ئین موجود بھی ہے اور نہیں بھی آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہاشائد جنرل ضیا کی شوری کی اہمیت اور فوقیت زیادہ تھی

دو سیشن کے درمیان آئین کے تحت 120دن سے زیادہ وقت نہیں گزرنا چاہئے حکومت کی جانب آخری بار 3ستمبر کواجلاس بلایا گیااجلاس بلائے ہوئے121واں دن گزر چکے آئین میں معین دورانیے سے بھی تجاوز کیاگیاچیرمین سینیٹ کومخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آپ کے کہنے پر بھی حکومت نے اجلاس نہیں بلایاکھیل کود کیلئے اجلاس بلانے کیلئے نہیں کہا جا رہا۔حکومت نے پارلیمنٹ کے استحقاق کو مجروح کیا گیااکتوبر سے دسمبر کے آخر تک 16آرڈیننسز لائے گئے ایوان صدر کو آرڈیننس میں تبدیل کیا گیاکوئی صدر سے پوچھ سکتا ہے کہ آپ نے سینیٹ کا اجلاس کیوں نہیں بلایا؟کیا آپ صرف آرڈیننسز پر دستخط کرنے کیلئے بیٹھے ہیںکیاحکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے؟

کیا اس سے وفاق پاکستان کے منافی نہیں؟کیاآئین توڑنے والے کو سزا نہیں ہونی چاہئے کشمیر کے معاملے پر تین ممالک نے سپورٹ کیاوزیر اعظم نے پاکستان کی بالادستی کو گروی رکھ کر سعودی عرب کے کہنے پر کولالمپور سمٹ میں شرکت نہیں کی فوج کیلئے اپنانظام،عدلیہ کیلئے اپنا قانون،نیب آرڈیننس سے بیوروکریٹ اور صنتکاروں کیلئے الگ نظام نیب صرف سیاستدانوں کا احتساب کریگاپھرسیاستدانوں کو اپنے احتساب کے بارے میں الگ نظام کے بارے سوچنا ہو گاکیسی حکومت ہے جو  آرمی چیف  کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے  چار نوٹیفکیشن جاری کیے اور وہ بھی غلط جاری کئے ۔سابق چیئرمین سینٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ 48گھنٹے کے کم نوٹس پر سینیٹ کااجلاس بلایا گیا مشرف کیس میں بھی فیصلہ آیا ہے اور وفاق کہے رہاہے کہ ہم اس کے خلاف اپیل کریں گے

اس حکومت کی قانونی ٹیم وہ ہے جس نے مشرف کا ٹرائل میں دفاع کیا تھا ۔کولالمپور سمٹ میں سعودی عرب کے کہنے پر نہیں گئے جبکہ ملائیشیا نے کشمیر پر ہماری سپورٹ کی تھی سعودی عرب میں آپ نے اختیارات سلنڈر کردیے ۔نیب کے قانون میں ترمیم کی اور دو طبقوں کو اس سے نکال دیا ہے ہم نے ان کو نکالنے کانہیں کہاتھا سرمایہ کار اور بیوروکریسی کو نکال دیا ہے عدلیہ اور فوج کا اپنا نظام ہے اب اس میں صرف سیاست دان رہے گئے ہیں اگر سب کے اپنے ادارے ہیں تو سیاست دانوں کا احتساب بھی ایون کریں ۔اگر احتساب کرنا ہے تو ایک قانون اور ایک ادارے کے تحت سب کا احتساب کریں ۔سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ ایوان کا اجلاس اتنی دیر سے بلایاہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی شکلیں بھی بھول گئی ہیں آپ کی بھی شکل بھول گئی ہے ۔

چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ میرا بھی یہی حال ہے انہوں نے کہاکہ آپ نے اجلاس شروع میں نئے سال کی مبارک باد دی ہے مگر مسلمانوں کا سال نو محرم سے شروع ہوتا ہے مگر آپ کی مبارک باد قبول کرتے ہیں سال نو کا پہلا حملہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے دیا گیا ہے سال نو کا شروعات شرم ناک صورت حال میں ہوا ہے ستمبر کے اجلاس کے بعد کوئی سینیٹ کا اجلاس نہیں ہوا۔اس دوران بڑے واقعات ہوئے اسلام آباد میں لوکھوں لوگ 15دن بیٹھے رہے سابق آرمی چیف کے خلاف فیصلہ آیا اس پر بیان بازی کا سلسلہ چلتا رہا آرمی چیف کی توسیع پر بھی ایوان میں بات نہیں ہوئی اور دنیا میں رسوائی کا سامنا ہوا۔

وزیراعظم ملائیشیا میں اجلاس میں نہیں جاسکے اس کے بارے میں ایوان کو نہیں بتایا گیا ۔ترامیم پر بات کریں گے مگر آرڈیننس آرہے ہیں جبکہ دونوں ایوان موجود ہیں صدر کی بے حسی ہے اور سوچ اور دوراندیشی کا فقدان ہے نیب کے قانون میں ترمیم نہیںہم نیب کے خلاف ہیں یہ کالے قوانین ہیں اس ادارے نے اپوزیشن کو عدالتوں میں گھسیٹا اور پگڑیاں اچھالیں۔ مگر پگڑیاں اچھالنے کے بعد کہاجاتاہے کہ اس کا کوئی جرم نہیں ہے ۔آج ملک میںڈاکٹر وکیل اور طلبہ پر تشدد ہورہا ہے اس پر بات کہاں پر کریں ۔چیرمین سینیٹ کی ذمہ داری ہے کہ اگر حکومت رکاوٹ ڈالے تو آپ کا ردعمل آنا چاہیے ۔جمہوریت میں جمہوری ادارے فعال ہوتے ہیں مگر آج جمہوری ادارے مفلوج ہیں جس طرح فالج ہو ہو۔اس لیے چیرمین سینیٹ کا بھی رول ہونا چاہیے۔

شیئر کریں

Top