قومی اسمبلی میں پاک فوج کے سربراہان کی مدت میں توسیع کے تین الگ الگ بلز پیش

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں پاک فوج کے سربراہان کی مدت میں توسیع کے تین الگ الگ بلز پیش کر دیئے گئے، بڑی تعداد میں حکومت اپوزیشن کے ارکان ایوان میں موجود تھے۔

ترمیمی بلز پیش کرنے کی تحریک منظور کی گئی تو زبردست ڈیسک بجائے گئے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس 45 منٹ کی تاخیر سے پونے بارہ بجے سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات اور دیگر ایجنڈا موخر کر دیا گیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایجنڈا موخر کرنے کی تحریک پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی تاریخ کی اہم قانون سازی ہو رہی ہے۔

قید ارکان شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، سید خورشید شاہ اور دیگر کو ایوان میں موجود ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آپ کا پوائنٹ آ گیا ہے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے بالترتیب پاکستان آرمی ایکٹ 1952ئ، پاکستان ایئرفورس آرڈیننس 1953ئ، پاک بحریہ آرڈی نینس 1961ء ترمیمی بلز پیش کئے۔

پندرہ منٹ کی کارروائی کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس ہفتہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔ ترمیمی بلز کے تحت پاک فوج کے سربراہان کی مدت میں توسیع کی جائے گی۔ قومی اسمبلی سینیٹ سے بلز کی منظوری کے بعد صدر پاکستان کی توثیق کے بعد قوانین نافذ العمل ہو جائیں گے۔ پاک فوج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا اور وہ صدر پاکستان کو ایڈوائس کر سکیں گے۔آرمی ایکٹ کے بیان اغراض و وجوہ میں کہا گیا ہے کہ یہ بل پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کے احکامات میں ترمیم کا متقاضی ہے تاکہ صدر مملکت کو وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف سٹاف کمیٹی کی سروس کی مدت اور قیود و شرائط بشمول چیف آف آرمی سٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو توسیع عطا کرنے اور دوبارہ تقرر کرنے اور معزز عدالت عظمیٰ کے 28 نومبر 2019ء کو آئینی پٹیشن نمبر 39 بابت 2019ء کو صادر کردہ فیصلے کی روشنی میں دیگر متعلقہ امور کا اہتمام کیا جائے۔ اس بل کا مقصد مذکورہ بالا مقاصد کا حصول ہے۔

پاک فضائیہ کے ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اس ایکٹ اور کسی بھی فی الوقت نافذ العمل دیگر قانون کے احکامات کے درمیان کسی بھی تصادم کی صورت میں اس ایکٹ کے احکامات عدم یکسانیت کی حد تک رائج رہیں گے۔ بیان اغراض و وجودہ میں کہا گیا ہے کہ اس بل کا منشاء معزز عدالت عظمیٰ کے 28 نومبر 2019ء کے فیصلے، جو آئینی پٹیشن نمبر 39 بابت 2019ء کی روشنی میں پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء کے احکامات میں ترمیم کرنا ہے تاکہ صدر مملکت کو بااختیار بنایا جائے کہ وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف ایئرسٹاف یا چیئرمین، جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی مدت اور ملازمت کی قیود و شرائط کی صراحت کر سکے جس میں چیف آف ایئرسٹاف یا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کو توسیع عطا کرنا اور دوبارہ تقرری کرنا اور دیگر منسلکہ معاملات کا انتظام کرنا شامل ہے۔ بل مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

پاک بحریہ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اس بل کا منشا معزز عدالت عظمیٰ کے 28 نومبر 2019ء کے فیصلے جو آئینی پٹیشن نمبر 39 بابت 2019 کی روشنی میں پاکستان نیوی آرڈی ننس 1961ء کے احکامات میں ترمیم کرنا ہے تاکہ صدر مملکت کو بااختیار بنایا جائے کہ وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف نیول سٹاف یا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی مدت اور ملازمت کی قیو د وشرائط کی صراحت کر سکے جس میں چیف آف نیول سٹاف یا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کو توسیع عطا کرنا اور دوبارہ تقرری کرنا اور دیگر منسلکہ معاملات کے انتظام کرنا شامل ہے۔ بل مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

(١) قانون کے تحت یہ ایکٹ پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020ء کہلائے گا۔ (٢)۔ یہ فی الفور نافذ العمل ہو گا اور 27 نومبر 2019ء سے موثر باعمل سمجھا جائے گا۔ ایکٹ نمبر39 بابت 1952ء کی دفعہ 8 کی ترمیم:۔ پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء (نمبر 39بابت 1952ئ) میں جس کا بعدازاں مذکورہ ایکٹ حوالہ دیا گیا ہے دفعہ 8 میں۔ (الف) ذیلی دفعہ (٢) میں الفاظ ”پاکستان آرمی” کے بعد وقفہ اور الفاظ ” اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 243 کی مطابقت میں صدر مملکت کی جانب سے باضابطہ طور پر تقرر کردہ کو دفعہ 8 الف کے ساتھ پڑھا جائے گا” کا اندراج کیا جائے گا۔ (ب) ذیلی دفعہ (٢) کے بعد حسب ذیل نئی دفعہ کا اندراج کیا جائے گا۔ یعنی (٢ الف) ”چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی” سے مراد ایک آفیسر جسے صدر کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 243 کی مطابقت میں بطور چیئرمین چیفس آف جوائنٹ اسٹاف کمیٹی تقرر کیا گیا ہو دفعہ 8کے ساتھ پڑھایا جائے۔ ایکٹ نمبر 39 بابت 1952ء میں نئے باب کا اندراج:۔ مذکورہ ایکٹ میں باب ا کے بعد حسب ذیل نئے باب کا اندراج کیا جائے گا یعنی باب١۔ الف۔ چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر ۔8الف۔ چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر: (١) صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر ایک جرنیل کو (٣) سال کی مدت کے لئے بطور چیف آف آرمی سٹاف تقرر کرے گا۔ (٢) چیف آف آرمی سٹاف کے قیود و شرائط کا تعین صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے کرے گا۔ 8۔ ب چیف آف آرمی سٹاف کا دوبارہ تقرر یا توسیع:۔ (١) اس ایکٹ یا فی الوقت نافذالعمل دیگر کسی قانون میں شامل کسی بھی شے کے باوصف صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف آرمی سٹاف کو اضافی تین (٣) سال کی مدت تک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی عمر اور حدود ملازمت پاکستان آرمی سے ایک جرنیل کی بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تقرری کی صورت میں اس ایکٹ  کے تحت وضع کردہ قواعد و ضوابط کے تحت مقررہ کردہ ملازمت یا ریٹائرمنٹ کی عمر مذکورہ جرنیل  پر اس کی تقرری کے درمیان لاگو نہیں ہوگی دوبارہ تقرری یا توسیع زیادہ سے زیادہ 64 سال کی عمر سے مشروط ہوگی۔مذکورہ تمام تر مدت کے دوران بلکہ اس ایکٹ کے  تحت تقرر کردہ چیئرمین  جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی پاکستان آرمی میں بطور  ایک جرنیل  خدمات  جاری رکھے گا۔بل کی بحث ایکٹ نمبر 39 بابت 1952ء کی دفعہ 76 الف کی ترمیم  مذکورہ ایکٹ میں  دفعہ 76 ایف میں لفظ (آرمی) کے بعد الفاظ اور وقفے بشمول چیف آف آرمی اور/ یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری،دوبارہ تقرری،توسیع یا ریٹائرمنٹ کا اضافہ کیا  جائے گا ۔اس ایکٹ کے احکامات  اور فی الفوقت نافذ العمل دیگر کیس قانون کے درمیان کسی بھی تنازعے کی صورت میں اس ایکٹ کے احکامات عدم یکسانیت کی حد تک رائج ہونگے۔

شیئر کریں

Top