مجلس قائمہ دفاع کی طرف سے آرمی ایکٹ کی توثیق کی رپورٹ قومی اسمبلی کو بھجوا دی گئی

اسلام آباد : پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ہفتہ کو طلب کردہ اجلاس اپوزیشن کے اعتراض پر ملتوی کر دئیے گئے۔

آرمی ایکٹ اور دیگر فوجی قوانین میں ترامیم کے لیے غیر معمولی طور پر چھٹی کے روز ہفتہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس دن گیارہ اور سینیٹ کا اجلاس سہہ پہر تین بجے طلب کیا گیا تھا ۔ مجلس قائمہ دفاع کی طرف سے آرمی ایکٹ کی توثیق کی رپورٹ قومی اسمبلی کو بھجوا دی گئی ہے ۔ حکومت گزشتہ روز ترمیمی بلز قومی اسمبلی سے منظور کروانا چاہتی تھی بعد ازاں سہہ پہر سینٹ میں پیش کیا جاتا ۔

بڑی اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی جلد بازی پر اعتراضات اٹھا دئیے تھے اس بارے میں اسپیکر چیمبر کو اپنے اعتراضات سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ہفتہ اور اتوار کو ارکان اپنے حلقوں میں ووٹرز کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ چھٹی کے ایام میں اجلاس نہ کئے جائیں ۔ اپوزیشن کے اعتراض پر سینٹ قومی اسمبلی اور پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس پیر تک ملتوی کرنے کے لیے شیڈول میں رد و بدل کر دیا گیا ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو چار بجے شام ہو گا ۔

اسی طرح سینٹ کا اجلاس تین بجے سہہ پہر ہو گا ۔ حکومت کی طرف سے فوجی قوانین میں عسکری سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ترامیم پر دیگر جماعتوں کو آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ یاد رہے کہ جمعیت علماء اسلام ( ف ) ، جماعت اسلامی پاکستان ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے فوجی قوانین میں ترامیم کی مخالفت کی ہے باقاعدہ طور پر بیانات جاری کئے گئے ہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ مجلس قائمہ دفاع کثرت رائے سے ترمیمی بلز کی توثیق کر چکی ہے ا ور رپورٹ قومی اسمبلی کو بھجوا دی گئی ہے ۔

شیئر کریں

Top