جنرل سلیمانی کے قتل پر رد عمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے،ایران

تہران:ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل پر رد عمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے،

دوسری طرف قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی تہران پہنچ گئے ہیں جبکہ ایرانی صدر نے جاں بحق جنرل کے اہلخانہ سے ملاقات کی ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایرنی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے گھر کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے جنرل کو مار کر امریکا نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے قتل پر ایران امریکا کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا نے بہت بڑی غلطی کی، جنرل سلیمانی کے قتل پر ردعمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی بلیک میلنگ اورسازشی مہم سے مغلوب نہیں ہوں گے اور یہ کہ ایران کسی بھی وقت جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکا نے تین سنگین غلطیاں کیں، عراق کی خودمختاری اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی،

پورے خطے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، طاقت اور جرائم کے ذریعے پالیسیوں پرپیش رفت دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گردی کی کارروائی تھی ، ایران عالمی سطح پر امریکا کو قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے کئی قانونی اقدامات کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے معاملے پر سوئس سفیر نے بہت احمقانہ بیان دیا جس پر انہیں دو مرتبہ وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔دوسری طرف میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی ایران پہنچ گئے ہیں

جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کا اعلی سطحی کا سفارتی عملہ ایران پہنچا، جس کی قیادت قطری وزیر خارجہ کر رہے ہیں۔ دورے کے حوالے سے قطری حکام کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔قطری وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ دو راونڈ کے مذاکرات کیے تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہ آ سکی۔ ان کی ایرانی صدر حسن روحانی کیساتھ ملاقات بھی متوقع ہے

شیئر کریں

Top