آرمی ایکٹ سے بہت سے مسائل اور آئینی و قانونی سقم پیدا ہوجائیں گے: مشتاق احمد خان

 پشاور :امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ سے بہت سے مسائل اور آئینی و قانونی سقم پیدا ہوجائیں گے۔

عجلت اور بے ہنگم انداز میں قانون سازی کرنے کی صورت میں وہی مسائل پیدا ہوں گے جو نوٹیفیکیشن کی صورت میں پیدا ہوئے۔ خدشہ ہے کہ حکومت کے اناڑی پن اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے معیاری قانون سازی نہ ہوسکے۔ حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ کرکے عوام کو بجلی کا جھٹکا دے دیا ہے۔

نئے سال پر خوشخبریوں کے دعوے کرنے والے وزیر اعظم نے قوم کو بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں خوشخبری دے دی ہے۔ حکومت نے ڈیڑھ سال میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ناکامیوں کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں۔ ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حوالے کردیا ہے۔ حکومتی اقدامات سے ملک کا ہر فرد متاثر ہورہا ہے۔

حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ مفتاح العلوم شیر گڑھ میں جماعت اسلامی کی صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں شوریٰ اراکین، امراء اضلاع اور برادر تنظیمات کے ذمہ داران شریک ہوئے۔ اجلاس میں گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور رپورٹس پیش کی گئیں ۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ حکومت نے ضم اضلاع کو مستقل نظر انداز کردیا ہے۔

ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر ، سڑکیں، سکول ، کالجز اور ہسپتال تباہ ہیں، حکومت نے ضم اضلاع کو تعلیم، صحت، بجلی اور دیگر سہولیات دینے کی بجائے ان کے وسائل پر قبضہ جمانا شروع کردیا ہے۔ حکومت ضم اضلاع کے مسائل حل کرنے کے لئے فوری اور نظر آنے والے اقدامات اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک خیبر پختونخوا کو بجلی کا خالص منافع نہیں دیا،اسی طرح گیس اور پٹرول کی رائلٹی بھی صوبے کو نہیں دی جارہی جبکہ این ایف سی ایوارڈمیں صوبے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ دشمنی کررہی ہے، صوبے کے حقوق میں حصہ ملنا عوام کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے والے عوام سے جینے کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی، عوام کے مسائل کے حل کے لئے ہر فورم پر اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اس سے قبل جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی صوبائی مجلس شوریٰ کا دوروزہ اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان کی صدارت میں دارالعلوم مفتاح العلوم شیر گڑھ مردان میں شروع ہوگیا   ۔ اجلاس میں شوریٰ اراکین، امراء اضلاع اور برادر تنظیمات کے ذمہ داران شریک ہیں۔ اجلاس میں گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور رپورٹس پیش کی گئیں ۔اجلاس میں سال 2020ء کے لئے منصوبہ بندی کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں جماعت اسلامی کی پالیسی اور حکمت عملی زیر بحث آئے گی۔ اجلاس میں ممکنہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں اور اس میں بھرپور انداز سے حصہ لینے کے حوالے سے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

شیئر کریں

Top