کشمیریوں کو حق استصواب رائے دلانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام عالم کے کشمیریوں کے ساتھ کئے وعدے کو71 سال ہو گئے ہیں لیکن افسوس مقبوضہ وادی کے باسیوں کو ان کا حق آج تک نہیں مل سکا۔

یوم حق خودارادیت کے موقع پر  انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے تنازعہ جموں وکشمیر حل، کشمیریوں کو حق استصواب رائے دینا تھا،

جو تمام بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کا سرچشمہ ہے۔ا نہوں نے کہا  کہ کشمیری بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں بدترین مصائب، ظلم اور جبرواستبداد کا شکار ہیں، سات دہائیوں بعد بھی روزانہ کشمیریوں کی بنیادی انسانی عزت و وقار پامال ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو حق استصواب رائے دلانا، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے، 5 اگست 2019 کو بھارت نے یکطرفہ غیرقانونی، غیرآئینی اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی غاصبانہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور کشمیریوں کے جائز حق خودارادیت کو نقصان پہنچانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا مذموم ارادوں پر مبنی بھارتی غیرقانونی اقدامات مسترد کر چکی، مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر بلاروک ٹوک جاری ہے اور روز نئی حدیں چھو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لاک ڈان اور محاصرے کو 153 روز ہوچکے ہیں، کرفیو کلاک پر ایک بھی اضافی لمحہ دنیا کے اجتماعی ضمیر پر بوجھ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت اقوام متحدہ فوجی مبصر گروپ کو زیرقبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اتنا صاف، سچا اور شفاف ہے تو عالمی میڈیا، سول سوسائٹی کو مقبوضہ علاقوں تک رسائی دے۔وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد، حق خودارادیت کی فراہمی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کیساتھ ہے جب تک انسانی وقار کیلئے ان کی جائز جدوجہد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوجاتی، ہم کشمیریوں کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔

شیئر کریں

Top