اسلام غیر مسلموں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتا ہے:مسعود خان

logo.png

مظفرآباد: آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے جو غیر مسلموں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔

کرسچن کمیونٹی آزادکشمیر کے معاشرے کا لازمی حصہ ہے جسے ہم اپنے سے جدا نہیں سمجھتے ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باوجود صدیوں سے ہندو، سکھوں، عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کا بھی وطن ہے جبکہ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے وجود کو ختم کر کے اسے ہندو ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر روز ایوان صدر مظفرآباد میں مسیحی برادری کے اعزاز میں دی گئی چائے پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں مسیحی برادری کے رہنما ڈاکٹر شان، پاسٹر فیضان، سونیا بھٹی سمیت کمیونٹی کے سرکردہ نمائندہ اراکین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں صدر ریاست نے کہا کہ آج وطن عزیز پاکستان اور آزادکشمیر میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور رواداری کی ضرورت پہلے سے کئی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرسچن کمیونٹی نے آزادکشمیر میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور لوگوں کے دل جوڑنے میں یہاں کی اکثریت کے ساتھ مل کر ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا۔ انہوںنے کہا کہ اگرچہ مسیحی برادری کی تعداد آزادکشمیر میں کم ہے لیکن ان کی موجودگی کو مسلمان قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان دین اسلام کے احکامات اور نبی مہربان حضرت محمد مصطفی کی تعلیمات کی روشنی میں بین المذاہب بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دیں اور اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کریں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ انہوںنے کہا کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو نہ صرف سماجی و معاشی حقوق حاصل ہوتے ہیں بلکہ ہر شخص کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل حق بھی حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نبی اکرم نے جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تو اس میں تمام مذاہب کے احترام کو لازمی قرار دیا۔ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں بین المسالک ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دینے پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور ان اعلیٰ اصولوں کو سامنے رکھ کر اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آزادکشمیر میں مسیحی کمیونٹی کے عبادت گاہوں کے قیام ، تعلیم اور ملازمت کے حوالے سے مطالبات جائز ہیں۔ انہوںنے کہا کہ حکومت ان تمام مسائل کو بتدریج ترجیحی بنیاد پر حل کرے گی۔ انہوں نے کرسچن کمیونٹی کو یہ بھی یقین دلایا کہ آزادکشمیر میں ریاستی باشندہ کا سڑٹیفکیٹ کے حصول میں حائل مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔ صدر آزادکشمیر نے کرسچن کمیونٹی کے اراکین کو کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایوان صدر کے دروازے مسیحی برادری سمیت تمام اقلیتوں کے لئے کھلے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کرسمس کے علاوہ دوسرے تہواروں کے موقع پر بھی مسیحی برادری کو ایوان صدر میں مدعو کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ ریاست کے مسلمانوں کو ان کی مسلم شناخت کی بنیاد پر ظلم وستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی زندگی کو اپنی ہی سرزمین پر اجیرن بنادیا گیا ہے۔ بھارت کے سیکولرزم کے نظریہ کو ایک ڈھونگ اور فراڈ قرار دیتے ہوئے صدر سردا ر مسعود خان نے کہا کہ نریندر مودی کی انتہاء پسند حکومت بھارت میں ہندو بالا دستی کے نظریے پر عمل پیرا ہو کر غیر ہندو مذہبی اقلیتوں پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے شہری حقوق غصب کرنے کے لئے شہریت کا نیا قانون لایا گیا ہے جس کا مقصد بھارت کو مکمل طورپر ہندو ریاست بنا کر دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے پاک کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے برعکس پاکستان اور آزادکشمیر میں اقلیتیں مسلم معاشرے کا لازمی حصہ ہیں جنہیں تمام حقوق کے علاوہ مسلم اکثریت اور حکومت کی طرف سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ #

شیئر کریں

Top