قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی دفاع میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت سے متعلق ترامیمی بلزدوبارہ منظور

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے متفقہ طور پر سروسز چیفس (مسلح افواج کے سربراہان) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت سے متعلق تینوں بلز کودوبارہ اتفاق رائے سے منظور کرلیا  ،

وزیر دفاع پرویز خٹک نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلز آج منگل کو قومی اسمبلی میں پیش  کئے جائیں گے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی دفاع نے چیف سیکرٹری بلوچستان کی اجلاس میں عدم شرکت پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا انتباہ کردیا، چھائونی کے علاقوں کو محاصل میں حصہ داری کیلئے وزارت خزانہ کو ہدایت جاری کردیں،

فوجی قوانین میں ترامیم کے جائزہ  کے دوران  ذرائع ابلاغ کو آئینی کمیٹی روم سے باہر نکال دیا گیا۔ وفاقی سیکرٹریز کے نہ آنے پر داخلہ اور آئی ٹی کے جوائنٹ سیکرٹریز کو بھی کمیٹی روم سے باہر نکال دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی وفاع  نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع  کی عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے اظہار ناپسندیدگی کیا ہے ۔ ڈی جی ایف آئی اے کو وارننگ جاری کی گئی ہے ۔ پیر کو قائمہ کمیٹی  برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین امجد خان نیازی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔

سائبر سیکورٹی پر متعلقہ حکام اجلاس سے غیر حاضر تھے ۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت وزارت دفاع سے مل کر چھائونی کے  علاقوں کے جی ایس ٹی سے متعلق مسئلہ کو 6 فروری تک حل کرے۔ وزارت دفاع نے  چھائونیوں کو بھی محاصل کے حوالے سے گرانٹ ان ایڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیکرٹری دفاع اکرام الحق نے کہاکہ چھائونی کے علاقوں میں منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے گرانٹ ان ایڈ کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے  ہدایت کی کہ وزارت خزانہ  کے حکام چھائونی  بورڈز کے ساتھ بیٹھیں اور ترجیحات کا تعین کیا جائے ۔ قائمہ کمیٹی  نے اس معاملے پر اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان کی عدم شرکت پر اظہار برہمی کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں نہ آنے پر چیف سیکرٹری بلوچستان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور ان کی کمیٹی میں پیشی کا اعلان کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ سیکرٹری کو خط لکھا جائے اور چیف سیکرٹری سے متعلق  ہدایات ان تک پہنچائی جائیں۔پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ویب سائٹس کی گہرائی اور غیر مناسب مواد کا نوٹس لیا جاتا ہے ۔

اب تک 9 لاکھ سائٹس  بند کی ہیں ۔ 8لاکھ 31 ہزار  سائٹس پورنو گرافی سے متعلق ہیں۔ بعض معاملات میں پتہ نہیں چلتا کہ کوئی قابل اعتراض مواد کہاں سے آجاتے ۔ سروس پرووائیڈرز سے بھی مدد لیتے ہیں ۔فیس بک، یوٹیوب اور  موشن سے تعاون اچھا ہے۔ ٹوئٹروالے تعاون نہیں کرتے ۔ قابل اعتراض مواد پر ٹوئٹر اکائونٹس کی بندش  میں مشکل آتی ہے۔  نیکٹا حکام نے بتایا کہ وہ اپنے پاس  اعدادوشمار نہیں رکھتے۔نیکٹا کو بھی کسی سائٹ کی بندش کیلئے  پی ٹی اے کے پاس جانا پڑتا ہے۔ ہم  خود کوئی کارروائی نہیں کرتے ۔ قائمہ کمیٹی نے بار بار کی طلبی کے باوجود ان معاملات پر سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری  آئی ٹی  کے نہ آنے پر اظہار برہمی کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اجلاس سے دونوں وزارتوں کے جوائنٹ سیکرٹری کو اجلاس سے نکال دیا۔

امجد خان نے کہاکہ افسوس ہماری بیورو کریسی  ابھی تک سرخ  فیتے کا شکار ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء  بھی  اجلاس سے غیر حاضر تھے۔ بتایا گیا کہ وہ کراچی گئے ہوئے ہیں۔ تحریری طورپر سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری آئی ٹی کے حوالے سے  ناراضگی کا اظہار کیاگیا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے کو ایک موقع دیا گیا ہے کہ وہ ہرصورت آئندہ اجلاس میں شریک ہوں۔ قائمہ کمیٹی دفاع  کے ان کیمرہ اجلاس میں  فوجی قوانین  میںترامیم کے بلز پر غور کیا گیا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک ، وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم نے بریفنگ دی۔ تینوں  سروسز ایکٹس میںترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے میڈیا کے  نمائندوں کوباہرنکال دیا گیا۔بعد میں  وزیردفاع پرویز خٹک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے متفقہ طور پر سروسز چیفس(مسلح افواج کے سربراہان)اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت سے متعلق تینوں بلز کو منظور کرلیا ہے۔

میڈیا سے غیررسمی گفتگو میں وزیر دفاع نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے متفقہ طور پر ترامیم کی منظوری دی گئی، میں پورے ملک اور اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بلز منگل کو قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی ٹریک سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، ہمیں افواہوں سے گریز کرنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہونگے،واضح رہے کہ جمعے کو ایک ہنگامی اجلاس میں ان ترامیم کی منظوری کے بعد ان بلز کو دوبارہ غور کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بھیجا گیا تھا۔

شیئر کریں

Top