آرمی ایکٹ پر عدالتی فیصلے نے مفاد پرست سیاسی لیڈروں کے چہروں سے نقاب اتار دیا:پاسبان

کراچی: پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین خلیل احمد آسی نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ پر عدالتی فیصلے نے مفاد پرست اور مصنوعی سیاسی لیڈروں کے چہروں سے نقاب اتار دیاہے۔

عمران، نواز، زرداری کو عوام کی نہیں اپنی اپنی گردن بچانے کی فکر ہے۔ مفاد پرست سیاستدانوں نے ملک کا حلیہ بگاڑ دیاہے۔ جو سیاستدان عوامی مفاد کے لئے ایک جگہ نہیں بیٹھ سکے، اپنے مفاد کی خاطر ایک پلیٹ میں کھانے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ آرمی ایکٹ کے مسئلے نے سیاسی سرمایہ کاروں کو بے نقاب کردیاہے۔

عمران، زرداری، نواز سب مفادات کی خاطر ایک پیج پر ہیں۔ ملک کو اس وقت سیاسی یکجہتی کی ضرورت ہے۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں خلیل احمد آسی نے مزید کہا کہ ملک کے اہم ایشوز میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سنجیدہ غورو فکر اور طرز عمل  اپنانے کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف کا معاملہ حکومت نے اپنی بے تدبیری سے الجھا کر افواج پاکستان کا مذاق بنا دیاہے۔ حکومت ہر مسئلے کو الجھانا کیوں ضروری سمجھتی ہے؟ بالخصوص ملکی سلامتی کے متعلقہ معاملات کو کسی بھی صورت پبلک میں تماشہ نہیں بنانا چاہیئے۔اس ایشو کی وجہ سے ساری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔

ایک معتبر ادارے کے سربراہ کو فٹبال بنا دیا گیاہے۔ حکومت کی بے تدبیری کی وجہ سے ایسا لگتا ہے جیسے آرمی چیف اپنے عہدے سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک معتبر ادارے کے سربراہ کی بے توقیری کے مترادف ہے۔پاسبان کا موقف ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کسی وقتی ضرورت یا فرد واحد کی بجائے ملکی مفاد اور ادارے کی بہتری کے پیش نظر کی جائے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک کی تمام مقتدر پارٹیاں اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر نہیں سوچتیں جس کی وجہ سے قومی معاملات میں الجھاؤ پیدا ہوتا رہتا ہے۔آرمی ایکٹ میں ترمیم سے قیامت نہیں آجائے گی لیکن یہ کسی ایک فرد یا سیاسی مفاد کے بجائے قوم کے اجتماعی مفاد میں ہونی چاہیئے۔

عدلیہ کی طرح آرمی میں بھی سب سے سینیئر شخص پر اعتماد سے فوج کا مورال بلند ہوگا اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ کسی کو بھی افواج پاکستان کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہیئے۔خاص طور پر ایسے موقعہ پر جب کہ ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے آرمی ایکٹ  میں ترمیم کو لے کر فتح اور شکست کا ماحول پیدا کرنا کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفادات میں نہیں ہے، اس سے گریز ہی کیا جائے تو بہتر ہے#

شیئر کریں

Top