قومی اسمبلی میں  تینوں فوجی قوانین میں ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور،دینی جماعتیں احتجاجاً واک آؤٹ کر گئیں

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں منگل کو عسکری سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے تینوں فوجی قوانین میں ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور کر لئے گئے۔

دینی جماعتیں احتجاجاً واک آؤٹ کر گئیں، پی ٹی ایم کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ فوجی قوانین میں ترامیم پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ پندرہ منٹ میں منظوری کے مرحلے کو مکمل کر لیا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی ترامیم سے دستبردار ہو گئی۔  منگل کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے تینوں ترمیمی بلز ایوان میں پیش کئے۔

اجلاس میں سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ وزیر دفاع نے پاکستان پیپلزپارٹی سے درخواست کی کہ وہ اپنی ترامیم سے دستبردار ہو جائے۔ حکومتی درخواست پر پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے ترامیم واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ پرویز خٹک نے پہلے مرحلے میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا تو متحدہ مجلس عمل کے رہنما اسعد محمود اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور بولنے کے لئے فلور مانگنے لگے۔ دینی جماعتوں کے ارکان نے احتجاج شروع کر دیا۔

سپیکر اسد قیصر نے متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی رہنما کو نظرانداز کر دیا اور کارروائی کو آگے بڑھایا۔ اجلاس گیارہ بج کر چالیس منٹ پر شروع ہوا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے ارکان بولنے کی اجازت نہ ملنے پر بل کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ پرویز خٹک نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔

بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بعدازاں وزیر دفاع نے پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل 2020ء پیش کیا۔ اس دوران پشتون تحفظ موومنٹ کے ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر نے سپیکر ڈائس کے سامنے آ کر احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور واک آؤٹ کر گئے۔ ایوان میں موجود ارکان نے اتفاق رائے سے پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء منظور کر لیا جس کے بعد وزیر دفاع نے پاکستان نیوی آرڈیننس 1961ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔

سپیکر اسد قیصر نے ارکان سے منظوری لی۔ قبل ازیں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین امجد علی خان نے تینوں متذکرہ بلز کے بارے میں قائمہ کمیٹی کی رپورٹس پیش کیں۔ تینوں بلز کی منظوری پر چیف آف آرمی سٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کی مدت ملازمت میں قانون کے مطابق توسیع ہو سکے گی۔ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا۔ فوجی قوانین میں ترامیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور ترامیم 27 نومبر 2019ء سے نافذ العمل ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے۔ فوجی قوانین میں ترامیم پر ایوان میں کسی قسم کی بحث نہیں ہوئی۔ منظوری کے مرحلے کو پندرہ منٹ میں مکمل کر لیا گیا اور اجلاس 12 بج کر پانچ منٹ پر بدھ کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ بل کو اب ایوان بالا ارسال کیا جائے گا۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر پاکستان کو بھیجا جائے گا۔ صدر پاکستان کی منظوری سے تینوں فوجی قوانین میں ترامیم کا اطلاق ہو جائے گا۔ فوجی قوانین میں ان ترامیم سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی باقاعدہ پارلیمنٹ سے منظوری ہو جائے گی۔

شیئر کریں

Top