عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف اور اتحادی  جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

اسلام آباد :قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی  جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

پارلیمانی پارٹی کے تمام ارکان نے سروسز ایکٹ میں ترمیم کے حوالہ سے تینوں بلز کی متفقہ منظوری دی۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ترقیاتی فنڈز کا  مطالبہ کر دیا  گیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی  کہانی سامنے آگئی ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہونا چاہیئے۔ جبکہ وزیر قانون بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ  وزیر اعظم کے اختیار کو پارلیمنٹ سے مشروط کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

پارلیمانی پارٹی کے تمام ارکان نے سروسز ایکٹ میں ترمیم کے حوالہ سے تینوں بلز کی متفقہ منظوری دی۔ وزیر قانون کی طرف سے آرمی ، ایئرفورس اور نیوی  ایکٹ میں ترامیم کے حوالہ سے شق وار تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو ان بلز پر رائے اور ترامیم کے لئے ہم نے پورا موقع دیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ قومی مفاد کی اہم قانون سازی ہے اور امید ہے کہ اپوزیشن اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ترقیاتی فنڈز کا  مطالبہ کیا گیا۔ اس پر وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایم این یز کو ترقیاتی فنڈز دینے کی مخالفت کی ۔ اس پر ایم این ایز کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے اپنے علاقہ کے لئے نہر منظور کروا لی ہے ہم اپنے ووٹرز کو کیا منہ دکھائیں، لہذافواد چوہدری صاحب آپ مہربانی کریں

اور ہمارے مطالبات میں نہ بولیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام شروع ہونے سے ارکان اسمبلی کے تحفظات دور ہوجائیں گے اور آپ کے جو ووٹرز ناراض ہیں اس سے اپنے ووٹرز کو راضی کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے یوٹیلٹی اسٹورز پر سستی اشیاء کی فراہمی کے لئے چھ ارب روپے سبسڈی دے دی ہے اس سیغریب آدمی کو فائدہ پہنچے گا۔ یوٹیلٹی اسٹورز سے غریب آدمی فائدہ بھی اٹھائے گا اور آپ کے ووٹرز بھی مطمئن ہوں گے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا میں آج خود بھی اسمبلی میں جارہا ہوں اور آپ سب بھی اسمبلی آئیں اور قانون سازی کے عمل میں پورا کردار ادا کریں۔

شیئر کریں

Top