الطاف شکور نے پٹرولیم نرخوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

کراچی: پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

پاسبان کی آئینی درخواست کی سماعت 9جنوری 2020ئ کوسندھ ہائیکورٹ میں ہوگی۔ پی ڈی پی کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ کی توسط سے دائر کردہ درخواست میں مو ¾قف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ پی ٹی آئی حکومت کا غیر آئینی اقدام اور عوام پر سنگین ظلم ہے۔

عوام پہلے ہی روز مرہ استعمال کی اشیائ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بدترین معاشی مسائل کا شکار ہیں، ایسی صورتحال میں حکومت کا اپنے عیش و عشرت کا بوجھ عوام پر ڈالنا ملک میںمزید انتشار کی صورتحال کو جنم دے گا۔

حکومت ٹیکس لگانے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام کومسلسل لوٹتی آ رہی ہے۔درخواست میں یہ بھی مو ¾قف اختیار کیا گیا کہ 30 نومبر ، 2019 کو حکومت نے پٹرولیم پر 25 پیسے فی لیٹر کمی کرکے غریب عوام کے ساتھ مذاق کیا۔

ملک میںپہلے ہی گیس اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ گھریلو صارفین کے لئے گیس کی سپلائی نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے ، جبکہ ہزاروں فیکٹریاں بند ہورہی ہیں اور ان کے کارکن بے روزگار ہورہے ہیں۔

ان حالات میں حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اپنی اور اپنے وزرائ کے غیر ضروری اخراجات کو کم کرتی اس کے بجائے حکومت نے مہنگائی کے مارے مظلوم عوام پر اپنا بوجھ ڈال دیا ہے۔درخواست میں مو ¾قف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستانی عوام کی معاشی حالت کو بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ آئین پاکستان نے معاشی اور سیاسی انصاف کے تحفظ کے تمام اصول مہیا کیے ہیں اور ان حالات میں جہاں پاکستان کے عوام کو مالی و معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وفاقی حکومت کو عوام کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کرنا چاہئے تھا۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ عوام نے عوامی مفاد میں پارلیمنٹ کے لئے اپنے ممبروں کا انتخاب کیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے اور کمی کا فارمولا پارلیمنٹ میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا ؟جہاں پر عوام کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو کالعدم قرار دیکر عوام کو مزید معاشی بدحالی سے بچائے ۔

شیئر کریں

Top