عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام کی مشکلات کو فوری طور پر ادراک کرے:سردار عتیق

logo.png

مکہ مکرمہ: آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد وسابق وزیراعظم سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام کی مشکلات کو فوری طور پر ادراک کرے اور وہ ہندوستان کو مجبور کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں156دن سے نافذ کرفیو اٹھائے کشمیریوںکو انسانی حقوق دیتے ہوئے انہیں بھی جینے اور آزادی حق دے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فورسز نے کشمیری عوام کا جینا محال کر رکھا ہے اور ماورائے عدالت قتل عام کا سلسلہ جاری ہے اس طرح نو عمر کشمیریوں کو اٹھا کر جیلوں اور نامعلوم مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے جو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے چارٹر کیخلاف ہے اس کا نوٹس لیناضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرنے کے بعد کشمیری کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری او ر اقوام متحدہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے اندرونی حالات پر فوری اقدام اٹھائے بلکہ سیز فائر لائن پر مختلف مقامات پر ہندوستانی افواج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا بھی نوٹس لے اور اس قتل وغارت کو فوری بند کرنے میں اپناکردار ادا کرے۔ ہندوستان کو پابند کیا جائے کہ عالمی قوانین کا احترام کرے۔

انہوں نے مزید کہا مقبوضہ کشمیر کے عوام کا جینے اور عام انسانی ضروریات پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں بسنے والے انسانوں کا ہے ۔ عالمی طاقتوں کو اس حوالے سے سنجیدگی کامظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ کشمیری مسلمانوں کو انسانی حق حاصل ہوسکے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری ہوگیا ہے کہ امن کو لاحق خطرات کا ادارک کیا جائے اور ایساطرز عمل اختیار کیا جائے جس کی مدد سے عالمی براداری میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو باوقار حق  حاصل ہوسکے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج نے اسرائیل طرز کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ ہندوستانی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں نے مقبوضہ کشمیر کو قتل گاہ بنادیا ہے مقبوضہ کشمیر کے عوام آج 156روز سے ہندوستانی فوج سے نبردآزما ہیں۔ صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے ۔ عالمی برادری کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے حوالہ سے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری اور عالم اسلام کو مقبوضہ کشمیر کے معاملات کو اولین ترجیح کے طور پر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مسلمان دنیا کا اتحاد واتفاق ناگزیر ہے اور یہی ان کی موجودہ مشکلات اور مسائل کا حل بھی ہے ۔  عالم اسلام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ۔

اتحاد واتفاق کی جتنی ضرورت آض ہے اس سے پہلے کبھی نہیں  تھی ۔ علمائے کرام،دانشوروں اور سکالروں کو آگے بڑھ کر مسلمانوںکے اندر  ہر قم کی تفریق کے خاتمے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں نے اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو جنوبی ایشیاء کا امن کسی ایٹمی تصادم کی نذر ہوسکتا ہے ۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈائون ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولرازم کے منہ پر طمانچہ ہے ۔اب دنیا کو آگے بڑھ کرمودی کے سفاقی عزائم کے آگے بندھ باندھنا ہوگا۔مودی کا ظلم وجبر اب ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔خواتین ،طلبہ اور طالبات بھی ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی امید کی کرن ہے۔اس موقع پر عبدالطیف عباسی،سردار محمد اشفاق خان،کامران انور بیگ، سردار ذوالفقار خان،ملک ظفر اقبال، اخلاق بیگ، رضوان افتخار اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔

شیئر کریں

Top