خلیجی ریاستوں اور اسرائیل معا ہدوں سے مسجد اقصیٰ کی تقسیم ممکن ہوگئی ماہرین قانون

istockphoto-1141044903-612x612-1.jpg

Stunning gold and blue tiles of Al Aqsa Mosque on Jerusalem Temple Mount

معاہدوں کی زبان سے مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہونے کی راہ نکلتی ہے،فلسطینی وکیل خالد زبرقا کی بات چیت
القدس(آئی این پی) قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے خلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجد اقصی کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیریسٹریئل یروشلم(ٹی جی)نامی این جی او کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں میں استعمال کی گئی زبان سے مسجد اقصی کے احاطے پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہونے کی راہ نکلتی ہے۔1967میں 35ایکڑ پر محیط الحرم الشریف یا الاقصی مسجد کے احاطے سے متعلق اسرائیل نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ یہاں غیر مسلموں کو آنے کی اجازت تو ہوگی تاہم وہ عبادت نہیں کرسکیں گے۔ 2015میں نتن یاہو نے بھی اسی حیثیت کو تسلیم کرنے کا از سر نو اعلان کیا تھا۔تاہم رپورٹ کے مطابق 13 اگست کو امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے جاری کردی مشترکہ اعلامیے میں یہ شق شامل(باقی صفحہ 6بقیہ نمبر6)
ہے کہ امن کے وژن کے تسلسل کے لیے پرامن مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے عبادت گزاروں کو الاقصی مسجد اور یروشلم کے دیگر مقدس مقامات میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے۔

شیئر کریں

Top