گلگت بلتستان انتخابات پیپلزپارٹی نے 17امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دئیے

download-1.jpg

حلقہ ایک گلگت سے امجد ایڈووکیٹ ، حلقہ 2گلگت جمیل احمد، حلقہ تین گلگت آفتاب حیدر، حلقہ 6ہنزہ ظہور کریم، حلقہ 7سکردوایک مہدی شاہ، حلقہ8سکردو 2محمد علی شاہ، حلقہ9سکردو 3 وزیر وقار ، شگر عمران ندیم،استورایک عبدالحمید
دیامر ایک سے بشیر خان، دیامر 2 حاجی دلبر، دیامر 3سے عبدالغفار خان، حلقہ 19غذر 1 پیر سید جلال شاہ، حلقہ 21غذر 3 ایوب شاہ، جبکہ ضلع گانچھے غلام علی حیدری ، انجینئر اسماعیل اور محمد جعفر امیدوار ہوں گے
سات انتخابی حلقوں کے امیدواروں کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائیگا، گلگت بلتستان کا فیصلہ گلگت بلتستان کی عوام نے کرنا ہے ہم اپنے 2018کے منشور کے مطابق انتخابات میں جائیں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس
گلگت(بادشمال نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے آمدہ انتخابات کیلئے امیدواروں کی نامزدگی کا باضابطہ اعلان کر دیا بلاول ہاؤس سے میڈیا کو جاری لسٹ کے مطابق حلقہ
گلگت سے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ امیدوار ہونگے حلقہ 2 گلگت سے جمیل احمد، حلقہ تین گلگت سے آفتاب حیدر حلقہ 6 ہنزہ سے ظہور کریم ،حلقہ 7 سکردو1 سے سید مہدی شاہ، حلقہ8 سکردو 2 سے محمد علی شاہ اور حلقہ9 سکردو 3 سے وزیر وقار ، شگر سے عمران ندیم اوراستور ون سے عبدالحمید امیدوار ہونگے۔ دیامر 1 سے بشیر خان اور دیامر 2 سے حاجی دلبر، دیامر 3 سے عبدالغفار، حلقہ 19 غذر 1سے پیر سید جلال شاہ، حلقہ 21 غذر 3 سے ایوب شاہ، جبکہ ضلع گانچھے سے غلام علی حیدری ، انجینئر اسماعیل اور محمد جعفر امیدوار ہوں گے۔ ضلع نگرکا حلقہ 4 اور نگر 5 ، جی بی اے 10 سکردو 4 روندو، جی بی اے 11 کھرمنگ، جی بی اے 18 دیامر 4 اور جی بی اے 20 غذر کے امیدواروں کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا جس کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ گلگت بلتستان کا فیصلہ گلگت بلتستان کی عوام نے کرنا ہے ہم اپنے 2018 کے منشور کے مطابق الیکشن میں جائیں گے ہم اپنے منشور کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی بات پر پہلے کی طرح آج بھی قائم ہیں اور اس میں کوئی کومہ نہ کوئی فل سٹاپ لگے گا اور وہاں کے لوگوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے ویژن کے مطابق صوبائی تنظیم عوام کے درمیان رہ کر باقاعدہ عوامی حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کے لیے جواقدامات اٹھائے ہیں وہ ایک تاریخ ہے جس کا تسلسل پارٹی بنیادوں پر انتخابات سے لیکر 2009 کے گورننس آرڈر تک ہے جبکہ موجودہ صورتحال پر بھی اصلاحات ہم ہی کریں گے کیونکہ دیگر جماعتوں کا گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی ویژن اور واضح پالیسی نہیں ہے۔

شیئر کریں

Top