نااہل حکومت سے عوام مایوس دوبارہ جیل جانا پڑا تو فرق نہیں پڑیگا شہباز شریف

news-1600765871-8335.jpg

2 سال میں سلیکٹڈ ‘ نالائق حکومت سے 22کروڑ مایوس ہو گئے ہیں ‘تحریک انصاف کے منی لانڈرنگ بارے پارٹی اکاؤنٹ کے کیس واضح مثال ہیں
الیکشن کمیشن حقائق سامنے لائے تو عمران نیازی ایک سیکنڈ بھی حکومت میں نہیں رہ سکتا‘ غیر ملکی اکاؤنٹس کیس فیصلہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے نہیں کیا ، پریس کانفرنس
لاہور (آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پہلے بھی ان گلیوں میں گزر چکے ہیں‘مجھے دوبارہ جیل جانا پڑا تو کوئی بڑی قیمت نہیں ‘موجودہ حکو مت کے 2 سال میں سلیکٹڈ ، نالائق حکومت سے ملک 22کروڑ(باقی صفحہ7بقیہ نمبر16)
مایوس ہو گئے ہیں ‘تحریک انصاف کے منی لانڈرنگ بارے پارٹی اکاؤنٹ کے کیس واضح مثال ہیں‘ الیکشن کمیشن حقائق سامنے لائے تو عمران نیازی ایک سیکنڈ بھی حکومت میں نہیں رہ سکتا‘ غیر ملکی اکاؤنٹس کیس فیصلہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے کیا ‘انتقام کی سیاست کر کے جو ہوس بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ابھی تک نہیں بجھ رہی ہے‘ نیب نیازی گٹھ جوڑ نے بے بنیاد کیسز بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے‘ شاہد خاقان اور رانا ثناء اللہ پرجھوٹے مقدمے بنائے گئے جبکہ علیمہ باجی کے غیر ملکی، غیر قانونی جائیدادوں پر کوئی سوال نہیں ہوا‘ہم کوئی دودھ کے دھلے نہیں نا تواں انسان ہیں، لیکن نواز شریف کی ٹیم نے دن رات محنت کر کے ملک کی تقدیر کو بدلا‘مجھے بتایا جائے کہ مالم جبہ کا کیس کیوں نہیں کھلا، ہیلی کاپٹر انکوائری کا کیا بنا، چینی، گندم، سکینڈل کا کیا بنا، دوائیوں کے سکینڈل کا کیا ہوا ۔بدھ کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے کہا کہ آج دو سال ہو گئے ہیں اور سلیکٹڈ ، نالائق حکومت سے ملک 22کروڑ مایوس ہو چکے ہیں اور بے زاری کی انتہاء پر ہیں، آر ٹی ایس کے خراب ہو جانے سے بنانے والی حکومت نے سوادو سالوں میں ملک کا کیا سنوارہ اور بگاڑا آج دیواروں پر لکھی ہے،عوام کیا کیا سہانے خواب دیکھائے گئے، 3سو ارب ڈالر خان لائے گا اور آئی ایم ایف کے منہ پر دے مارے گا، قوم کی ترقی و خوشحالی اور دودھ، شہد کی نہریں بہائیں گی، لیکن آج مجھے پھر غریب عوام کی آواز بن کر بات کرنی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں چینی 50روپے فی کلو تھی آج 100روپے پر ہے، گندم اور آٹا آسانی سے اور کم قیمت پر ملتا تھا، آج نایاب ہے اور گندم غائب ہو گئی ہے، عوام کی جیب خالی ہو گئی ہے اور ڈیزل ، تیل کا انتظام نہیں کر سکتا، جبکہ سلیکٹڈ وزیراعظم ان سکینڈلز کو چھپانے پر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے منی لانڈرنگ کے حوالے سے پارٹی اکاؤنٹ کے کیس واضح مثال ہیں، ایکشن کمیشن اور سٹیٹ حقائق سامنے لائے آئے تو عمران خان نیازی ایک سیکنڈ بھی حکومت میں نہیں رہ سکتا، غیر ملکی اکاؤنٹس کیس فیصلہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے کیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ انتقام کی سیاست کر کے جو حواس بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ابھی تک نہیں بجھ رہی ہے، نیازی ، نیب گٹھ جوڑ نے بے بنیاد کیسز کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، شاہد خاقان اور رانا ثناء اللہ کے حوالے سے جھوٹے مقدمے بنائے گئے، جس پر حکومتی لوگوں نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولے جبکہ اس مقابلے میں علیمہ باجی کے غیر ملکی، غیر قانونی جائیدادوں پر کوئی سوال نہیں ہوا،انہیں پروٹوکول کے ساتھ ایف بی آر میں بلایا جاتا ہے، علیمہ خان اور عمران خان نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا اور آج ہم پر الزامات لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی دودھ کے دھلے نہیں نا تواں انسان ہیں، لیکن نواز شریف کی ٹیم نے دن رات محنت کر کے ملک کی تقدیر کو بدلا۔ شہباز شریف نے کہا کہ مجھے بتایا کہ مالم جبہ کا کیس کیوں نہیں کھلا، ہیلی کاپٹر انکوائری کا کیا بنا، چینی، گندم، سکینڈل کا کیا بنا، دوائیوں کے سکینڈل کا کیا ہوا چینی سکینڈل میں کاروباری حضرات کو حراساں تو کیا جاتا ہے لیکن اس کے اصل ذمہ دار عمران خان نیازی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ہیں، دونوں کے نام بھی عین سے شروع ہوتے ہیں جبکہ آج کسی نے پوچھا نہیں آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے اور یہ ہے وہ مثال کہ کیس کو نہیں فیس کو دیکھتے ہیں اور اگر فیس نہیں کیس تو دیکھتے ہیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری کی طرح حادثہ ہمارے معیشت کے ساتھ ہونے جا رہا ہے، اگر بہتری نہ آئی تو پاکستان کی معیشت کو کوئی نہیں بچا سکے گا، اس کیلئے آواز اٹھاتے رہیں اور مجھے دوبارہ جیل جانا پڑا تو کوئی بڑی قیمت نہیں ہے، ہم پہلے بھی ان گلیوں میں گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ قوم کی ماؤں بیٹیوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ ثاقب نثار نے 56کمپنیوں کی تحقیقات کا کہا تھا لیکن آج تک میری اور میاں نواز شریف کے دور کے حوالے سے سوا دو سالووں میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکے ہیں اور اگر میرے مرنے کے بعد بھی ایک دھیلا کرپشن عوام کے پیسوں پر ثابت کر دیں تو مجھے قر سے نکال کر پول پر لٹکا دیں۔

شیئر کریں

Top