چیف جسٹس کا نلتر روڈ کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں ایک ہفتہ میں دور کرنے کا حکم

img_1557338374.jpg

بجلی کے کھمبے اور لوگوں کی عمارتوں کی وجہ سے کام بند ہے نومل سے نلتر پائین تک روڈ پر ڈرائی ورک ہو رہا ہے،این ایل سی
ابھی تک نلتر پائین سے نلتر بالا تک روڈ کا ڈیزائین ہی منظور نہیں ہوا ہے جس سے ہمیں کام میں مشکلات کا سامنا ہے،پراجیکٹ منیجر
گلگت(بادشمال نیوز) چیف جسٹس گلگت بلتستان جسٹس سید ارشد حسین شاہ اور سینئر جج جسٹس وزیر شکیل پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے مختلف مقدمات کی سماعت کی اور متعدد مقدمات میں فیصلہ سنایا اور کئی مقدمات میں فریقین کو نوٹسز جاری کیے نلتر روڈ کی خراب صورتحال پر از خود نوٹس کیس کی سماعت (باقی صفحہ7بقیہ نمبر3)
کے دورانپراجیکٹ منیجر این ایل سی نے معزز عدالت کو بتایا کہ اکتوبر کے آخر تک نومل تک روڈ مکمل ہو گا نومل میں بجلی کے کھمبے اور لوگوں کی عمارتوں کی وجہ سے کام بند ہے نومل سے نلتر پائین تک روڈ پر ڈرائی ورک ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ابھی تک نلتر پائین سے نلتر بالا تک روڈ کا ڈیزائین ہی منظور نہیں ہوا ہے جس سے ہمیں کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے معزز عدالت نے کہا کہ روڈ کا ٹینڈر ہوئے دو سال مکمل ہونے کو ہیں ابھی تک ڈیزائین کا منظور نہ ہونا تعجب کی بات ہے یہ کون کرتا ہے معزز عدالت نے کہا کہنلتر روڈ کی خراب صورتحال کی وجہ سے وہاں کے لوگوں ملکی اور غیرملکی سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے عدالت روڈ میں تاخیری حربے برداشت نہیں کرے گی معزز عدالت نے حکم دیا ہے کہ این ایل سی پلاننگ کمیشن ڈی سی گلگت، چیف انجینئر سب مل کر نلتر روڈ میں حائل تمام رکاوٹیں ایک ہفتے کے اندر دور کریں اور نلتر پائین سے نلتر بالا ر وڈ کا ڈیزائین فوری طور پر تیار کر کے اس پر کام شروع کریں معزز عدالت نے کیس کوایک ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے حکام بالا کو تفصیلی رپورٹ کے ساتھ اگلی پیشی پر حاضر ہونے کا حکم دیا۔

شیئر کریں

Top