گلگت بلتستان 20بہترین سیاحتی مقامات میں شامل ہو چکا ایڈونچر ٹورآپریٹر

download-26.jpg

سیاحتی شعبہ دنیا میں سب سے زیادہ روزگار دیتاہے ،کئی ممالک اپنی قومی آمدنی کا 80 فیصد سیاحت سے حاصل کر رہے ہیں
گلگت بلتستان کے مشہور کوہ پیماؤں کو قومی ایوارڈ دینے اور نیشنل ٹورازم بورڈ میں نمائندگی دی جائے،وزیرشمشادکاتقریب سے خطاب
سکردو(بیورو رپورٹ )بلتستان اسوسی ایشن آف ایڈونچر ٹور آپریٹرز کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان دنیا بھر کے 20 بہترین سیاحتی مقامات میں شامل ہوچکا ہے یہاں کی تہذیب و ثقافت، قدیم تاریخی مقامات اور یہاں پائے جانے والے دنیا کے بلند ترین پہاڑ اس خطے کو پوری دنیا کے سیاحوں کے لیے پر کشش بناتے ہیں لیکن بنیادی سہولیات اور حکومتی پالیسز نے خطے کو سیاحوں کی پہنچ سے دور کر رکھا ہے، فاطمہ جناح ویمن کالج سکردو میں (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر62)
سیاحت کے عالمی دن کے مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف ٹور آپریٹر وزیر شمشاد حسین نے کہا کہ یہ شعبہ دنیا میں سب سے زیادہ روزگار دینے والی صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی آمدنی کا 80 فیصد سیاحت سے حاصل کر رہے ہیں، دنیا بھر میں سب سے زیادہ سیاح ہمارے ہمسایہ ملک چین سے آتے ہیں، وزیر شمشاد نے کہا کہ ایڈونچر ٹوریزم کے لیے پہاڑ، دریا اور ہوا موجود ہے اور یہاں کا منفرد تہذیب و تمدن اور صدیوں پرانے تاریخی مقامات کلچر ٹوریزم کے لیے پرکشش وسائل ہیں لیکن مواقع، وسائل اور سیاحتی مصنوعات قدرتی طور دستیاب ہونے کے باوجود سیاحت کی کل آمدنی میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہے، انھوں نے گلگت بلتستان کے مشہور کوہ پیماؤں کو قومی ایوارڈ دینے اور نیشنل ٹوریزم بورڈ میں نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا، انھوں نے کہا کہ سیاحتی شعبے میں درکار ہنرمند افرادی قوت کے لیے یونیورسٹی آف بلتستان میں ٹوریزم کا قیام اور شارٹ کورسز کا اجرا انتہائی مفید ثابت ہوگا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایاز شگری نے کہا کہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد معاشی بد حالی کے شکار ہے ہوٹل بند ہے، کوہ پیما بے روزگار ہیں اور ٹور آپریٹرز پریشان ہیں وفاقی حکومت نے کرونا سے متاثر تمام صنعتوں کو بیل آوٹ پیکچ دیا لیکن سیاحت کی صنعت کو بلکل نظر انداز کیا انھوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت سہولت کار ادارہ بننے کی کوشش ہی نہیں کر رہاہے خیبرپختون خواہ میں محکمہ سیاحت بڑے ویژن کے ساتھ انفراسٹریکچر اور سروسز کے شعبے پر بھرپور توجہ دے رہا ہے اور سیاحتی مقامات کی تشہیر کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے لیکن گلگت بلتستان کیمحکمہ سیاحت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے کے پی کے نے ٹور آپریٹرز کی فیس تک معاف کر دی لیکن یہاں مراعات دینے کے بجائے رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں، تقریب میں طلبہ و طالبات سمیت سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی، تقریب سے کالج کے طلبہ نے بھی خطاب کیا جبکہ کالج کے پرنسپل منظور حسین نے اس اہم تقریب میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
ایڈونچر

شیئر کریں

Top