وزیراعظم پاکستان کا عبوری صوبے کا عندیہ کھلی کچہری (وزیر جعفر )

ہمارے معاشرے میں ایک پرانی روایت ہے کہ اگر کسی کا بچہ یا بچی بہت زیادہ روتے ہیں تو سیانے مشورہ دیتے ہیں کہ اس بچے کا نام تبدیل کرو تو زیادہ رونے کی شرح میں کمی ہو گی اسی طرح وفاقی حکومت بھی گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور اصلاحات کا نام تبدیل کر کے عوامی جذبات کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے اور الیکشن میں حکومتی پارٹی کیلئے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی روایتی کوشش کرنے کی خبر ہے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان نے ’’گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے ساتھ معاشی پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘اور انہوں نے کہا ہے کہ جی بی کے عوام کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ بھی کیا جائے گا جس کیلئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے بلا تعطل فنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے سابق وفاقی حکومتیں بھی 1994 سے ابھی تک ہر الیکشن سے پہلے جی بی کو صوبہ بنانے اور میگا پراجیکٹس کی خوش خبری سناتی رہی ہے اور اس جھوٹ کو مزید پھیلانے کیلئے وفاقی وزراء طوفانی دورے بھی کرتے رہے ہیں اور عمران خان بھی اس آزمودہ روایت کو دھرا رہا ہے تاکہ حکومتی امیدواروں کو عوامی رابطہ مہم میں اس کھوکھلے نعرے سے مدد ملے اور الیکشن کے بعد پھر متنازعہ ہی رہنا ہے کیونکہ ’’عبوری صوبہ ‘‘ دینے کا عندیہ دیا ہے صوبے کا پورا سیٹ اپ 2009 سے موجود ہے لیکن دیگر صوبوں کی طرح آئینی حقوق اور اختیارات سے محروم ہے صرف حقوق اور اختیارات و مراعات منتقل کرنے کی ضرورت ہے یہ کہاوت مشہور ہے کہ ’’سانپ کا ڈرا دھاگے سے بھی ڈرتا ہے‘‘ سابق حکومتوں کے کھوکھلے وعدوں کا جی بی کے عوام کو بہت زیادہ تجربہ ہے اس کے علاوہ عمران خان نے 126 دنوں کے دھرنوں میں پاکستانی قوم سے جتنے وعدے کیے تھے وہ سب ابھی ہوا میں ہیں صرف مہنگائی کو ہی لے لیں تو عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے لہٰذا جی بی کے عوام کو سوبار سوچنا پڑے گا یہاں کے عوام وفاقی حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ اگر وہ عبوری صوبہ دینے میں مخلص ہے تو مندرجہ ذیل شقوں کو شامل کریں تب یہاں کے عوام کی محرومیوں کاازالہ ممکن ہے۔
1۔سٹیٹ سبجیکٹ رول کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
2۔این ایف سی ایوارڈ میں نمائندگی اور حصہ دیا جائے۔
3۔دیگر چار صوبوں کے برابر حقوق و اختیارات منتقل کریں۔
4۔قومی اسمبلی میں عوامی رائے دیہی کے ذریعے نمائندگی کا حق دیا جائے براہ راست چند افراد کو نامزد نہ کیا جائے۔
5۔سینٹ میں بھی نمائندگی دی جائے۔
6۔مذکورہ بالا حقوق اور جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی صورت میں جی بی میں انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ منعقد کئے جائیں۔
7۔یہاں کے قابل احترام ججز کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر نمائندگی ملنی چاہیے جس طرح دوسرے صوبوں کو حق دیا گیا ہے۔
8۔یہاں کے بیوروکریٹس کو دیگر صوبوں میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع دیا جائے۔
9۔جی بی کے لوگوں کو بھی وزیراعظم اور صدر مملکت کے عہدے کیلئے بحیثیت امیدوار اپنے آپ کو پیش کرنے کا حق بھی دیا جائے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے عبوری صوبے کے ضمن میں مذکورہ حقوق اور مراعات اگر دیدیں تو یہ ایک تاریخی اقدام ہو گا اور یہاں کے عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح عمران خان کا بھی شیدائی بنیںگے اختیارات اور حقوق کے بغیر صوبے کی تشکیل کی صورت میں پھر پرانی تاریخ دہرانے کے مترادف ہو گا یہ خبر بھی ہے کہ اس دفعہ جی بی کو آئینی حقوق اور ا صلاحات دینے میں عسکری قیادت کی بھی دلچسپی نظر آرہی ہے اس لیے ممکن ہے کہ عبوری صوبے کی شکل میں کچھ نہ کچھ جی بی کے عوام کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے میں مدد ملے آنے الا وقت ہی بتائے گا عبوری صوبہ کس قدر بااختیار ہو گا؟۔

شیئر کریں

Top