آزادی اظہار کا دہرا معیار ! محمد عنصر عثمانی

جواب بڑا حیرت انگیز تھا۔ لندن میں گرفتاری کے بعد رات کے اندھیرے میں کمبل ڈال کر اسے لے جایا جارہا تھا۔ کہنے والے نے کہا:’’ اتنے خوف زدہ کیوں ہو، یہ تو ایک صنف نازک ہے،جسے تم نے زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے،پولیس کے چاک و چوبند دستے اسلحہ سے لیس تمہارے ساتھ ہیں، اسے تو ہوا بھی نہیں ہلا سکتی، اس نازک اندام جارجٹ سی معصوم کلی جس کی عمر کے درخت پر انسانی خواہشات کے پھول کھلنے والے ہیں،تم اس بے مدد جسم سے ڈرتے ہو‘‘؟ جواب ملا اسے چھوڑ دیا تو پورا لندن جل کر خاک ہو جائے گا۔یہ خوف آج بھی اس کے نام سے قائم ہے۔ یہ وہی بے خوف لیلیٰ خالد ہے جس نے بیسویں صدی کے ساتویں عشرے میں دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی اور پھر ایک ایسی تاریخ رقم کی جو صدیوں کوئی نہ لکھ سکے گا۔لیکن، لگتا یہ ہے اس کا خوف آج بھی مسلم دشمن طاقتوں کے سروں پہ سوار ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کمزور سی لیلیٰ پھر سے بندوق بردار ہو کر کسی ہوائی جہاز کے پائلٹ سے کہہ رہی ہے :’’ جہاز کو ’’حیفہ‘‘ کے اوپر سے لے کر چلو،مجھے اپنے وطن کو آخری بار دیکھنا ہے، معلوم نہیں اسے دوبارہ دیکھ سکوںگی یا نہیں‘‘۔ لیلیٰ خالد بے خوف تھی،کیوں کہ اس نے چاسال کی عمر میں فلسطین کے ایک سکول کے بچوں کے تڑپتے لاشے دیکھے تھے ،تب سے وہ نڈر ہوچکی تھی ،مگر اس نے جو دنیا پہ اپنا ’’خوف ‘‘طاری کیا ،اس نے تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ دیے۔
آج کی لیلیٰ خالد ستر سال کی ہوچکی ہے لیکن اس کی شیرنی ایسی آوازسے مغرب کے کلیجے کو منہ کو آنے لگتے ہیں۔ اس لیے یہ خول میں چھپے نام نہاد بہادرکوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیتے کہ جس سے اس مجاہدہ و فلسطین کی آزادی کی عاشق کا درد دنیا تک پہنچے ،تاکہ کل کو کوئی اور لیلیٰ خالد پیدانہ ہو ۔ آزادی اظہار کے علمبردار سوچتے ہیںکہ کل کی ایک نوجوان لیلیٰ خالد نے چار جہاز ہائی جیک کرلیے تھے اورہم ا سے نہ روک سکے تھے ، ایک نٹ کھٹ سی لڑکی نے ساری دنیا کو گھٹنوں پر بٹھا دیا تھا۔ اگر وہی لیلیٰ خالد دنیاکے کسی فورم پر فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی مظالم پر کوئی آواز اٹھاتی ہے تو یہی خوف کے مارے لوگ اس کی آواز دبانے کی کوششوں میں جت جاتے ہیں۔ اپنے ہر حربے کو ازماتے ہوئے کسی بھی پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی نمائندگی کو دنیا کے سامنے پہنچنے نہیں دیتے۔ جس پریہ خو ف کے مارے لوگ جواز پیش کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ دہشت گردی کا ہے ،لہذا مسلم دنیا کو ہمارے داخلے معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہے۔
ستر کی دہائی میںمسلمان ممالک خصوصا پاکستان میں لیلیٰ خالد کی حیثیت ایک رول ماڈل جیسی تھی۔ ایک زمانے میں پاکستانی اپنی بچیوں کے نام لیلیٰ خالد کے نام پر رکھنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ فلسطین کی آزادی کے لیے لیلیٰ خلاد کی جدوجہد کاسفر ابھی جاری ہے اورسرزمین انبیاء کی آزادی و اسرائیل کے نکل جانے تک یہ جدجہد جاری رہے گی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ کام اکیلی لیلیٰ خالد ایسی نوجوان لڑکیوں کا ہے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد مسلم دنیا کی نظریں ایسی بہادری کو ترس رہی ہیں،جیسے لیلیٰ خالد نے بے خوف نارِ نمرود میںکود کر انجام دی۔
فلسطین کی آزادی کی ہیرو لیلیٰ خالد کی آزادی اظہار کے حقوق جبری بند کرنا باعث شرمناک ہے۔ لیلیٰ خالد کوسان فرانسسکو سٹیٹ یونیورسٹی نے ایک لکچر کے لیے مدعو کیا تھا،جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے توسط سے نشر کیا جانا تھا،مگر نام نہاد امریکی کمپنیوں نے ان کا پروگرام نشر ہونے سے روک دیا۔ سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی زوم نے ان کی آواز کو عوام تک پہنچنے سے روکا اور ان کا آن لائن پروگرام منسوخ کر دیا۔ یاد رکھنا از حد لازم ہے کہ یہ وہی کمپنیاں ہیں جو امریکہ و اس کے اتحادیوں کے اشاروں پہ ناچتی ہیں۔ زوم کے ذریعے لیلیٰ خالد نے جس موضوع پر تقریر کرنا تھی ،وہ موضوع بھی کسی ایسے پیغام پر مشتمل نہ تھا جسے عالمی امن کے لیے خطرہ کہا جاسکے۔ موضوع تھا’’ کس کا بیانیہ؟ صنف، انصاف اور مزاحمت ‘‘۔ اس آن لائن گفتگو میں لیلیٰ خالد کے ساتھ دیگر مقررین شرکاء میں ’’لارا وائٹ ہارن ‘‘بھی مدعو تھیں ، لارا وائٹ ہارن 1983 میں امریکی سینیٹ پر بم حملوں میں ملوث رہ چکی ہیں اور اس جرم میں ان کو 14 برس کی جیل بھی ہوئی ۔اس کے علاوہ ایک اورامریکی شہری کو بھی بلایا گیا تھا، جنھیں امریکہ میں بلیک لبریشن آرمی کی اپنی رکنیت سے منسلک الزامات کی وجہ سے کئی دہائیوں تک قید میں رکھا گیا تھا۔
آج کی مغربی دنیا جس آزادی اظہار کا رَٹا مارتی ہے ،اسے بسا اوقات اپنا تھوکا چاٹنا پڑتا ہے۔اس آزادی اظہار کے حق میں بظاہر تو دنیا کے تمام ممالک کے شہری برابر کا حق رکھتے ہیںاور کسی بھی حکومت کو اس آزادی سے کنارہ کش ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے آزادی اظہار کو انسانی معاشرے کی بہتری کے لیے متعدد ریاستوں میں آئین کا حصہ بنایا گیاہے، جہاں کی ریاستیں اپنے آئین کی رو سے اس بات کے حق کو یقینی بناتی ہیں کہ کسی بھی شخص کی اظہار کی آزادی سلب نہ ہو۔ مگریہ حق اب سامراجی طاقتوں کا غلام بن چکا ہے اور آزادی اظہار کا حق دینے والوں اور اس حق کے حقوق کے لیے اپنے گلے پھاڑنے والوں نے ہی اس کو متنازع بنا دیا ہے۔ عالمی استعماری قوتوں اور دنیا پر معاشی برتری رکھنے والے اداروں ،کمپنیوںاور حکومتوں کی جانب سے کچھ مشہور اشخاص اور تنظیموں کی آرا ء کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مختلف ہتھ کنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اگر مسلم دنیا سے کوئی فلسطین کی آزادی پر بات کرے تو ان طاقتوں کو اسلاموفوبیا کے جھٹکے لگنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیاپھر انہیں اپنے ہی بنائے آزادی اظہار کے قوانین کو روندنا عار نہیں لگتا؟

شیئر کریں

Top