قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا میلہ آج سے ملتان میں شروع ہو گا

733061_7555861_multan-stadium_updates.jpg

افتتاحی میچ میںٹائٹل کا دفاع کرنیوالی ٹیم ناردرن کا مقابلہ خیبرپختونخوا کیساتھ ہو گا
ملتان(آئی این پی)پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی)کے زیر اہتمام قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا (آج)بدھ کو ملتان میں آغاز ہو گا، افتتاحی میچ میںٹائٹل کا دفاع کرنیوالی ٹیمناردرن کا مقابلہ خیبرپختونخوا کیساتھ ہو گا۔ ایونٹ میں ہر روز 2 میچز کھیلے جائیں گے، پہلا میچ سہ پہر 3 اور دوسرا شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا، ٹورنامنٹ دو مرحلوں میں کھیلا جائے گا۔30ستمبر سے 6اکتوبر تک جاری رہنے والے پہلے مرحلے کے تمام میچز ملتان میں کھیلے جائیں گے، ایونٹ کا دوسر امرحلہ 9 سے 18 اکتوبر تک راولپنڈی میں جاری رہے گا۔تفصیلات کے مطابق قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا (آج)بدھ کو ملتان میں آغاز ہو گا۔ تینتیس میچوں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ پی ٹی وی اسپورٹس پر براہ راست نشر ہوگا۔
اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے پاکستان میں تقریباً چھ ماہ بعد ایک بار پھراعلیٰ سطحی کرکٹ شروع ہوگی۔ یہ ٹورنامنٹ دو مرحلوں میں کھیلا جائے گا۔تیس ستمبر سے 6اکتوبر تک جاری رہنے والے پہلے مرحلے کے تمام میچز ملتان میں کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ کا دوسر امرحلہ 9 سے 18 اکتوبر تک راولپنڈی میں جاری رہے گا۔پاکستان دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے کورونا وائرس کے باوجود اپنے ڈومیسٹک سیزن کے مکمل شیڈول کا اعلان کیا۔ بند دروازوں کے باعث شائقینِ کرکٹ کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے مداحوں اور کرکٹ فینز کو ان کے پسندیدہ کھیل کے براہ راست مناظر دکھانے کے لیے پی ٹی وی اسپورٹس سے تین سالہ معاہدہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صرف نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کی پروڈکشن میں 14 جدید طرز کے کیمروں کا استعمال کیا جائے گا۔ایونٹ میں تقریباً 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم تقسیم کی جائے گی، جس کے مطابق ایونٹ جیتنے والی ٹیم چمچماتی ٹرافی کے ساتھ ساتھ 50 لاکھ روپے کی حقدار ٹھہرے گی جبکہ رنرزاپ کو 25 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ایونٹ کے بہترین کھلاڑی، وکٹ کیپر، بیٹسمین اور باؤلر کو ایک ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق، قومی کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ وقار یونس، ہیڈ آف ہائی پرفارمنس کوچنگ گرانٹ بریڈ برن اور ہیڈ آف انٹرنیشنل پلیئرز ڈویلمپنٹ ثقلین مشتاق نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی غرض سے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے میچز دیکھیں گے۔ناردرن کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ہیاورعماد وسیم کی عدم موجودگی میں اِس ٹیم کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ نوجوان آلراؤنڈر نے کہا کہ حیدر علی اور ذیشان ملک کے علاوہ ناردرن کا تقریباً پرانا اسکواڈ ہی برقرار ہے، انہیں ہر کھلاڑی سے بہترین کارکردگی کی امید ہے۔ گزشتہ سال ایونٹ کی فائنلسٹ ٹیم بلوچستان کے کپتان حارث سہیل کا کہنا ہے کہ وہ اس ایونٹ کے لیے بہت پرجوش ہیں اور اس مرتبہ وہ ایونٹ کی رنرزاپ ٹیم کی بجائے فاتح کہلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔انہوں نیکہا کہ گزشتہ ایڈیشن میں بلوچستان کرکٹ ٹیم نے متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، اس سال بھی ان کے اسکواڈ میں اچھے باؤلر اور بہترین بیٹسمین موجود ہیں۔سندھ کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی فارمیٹ بہت مشکل ہے، یہاںہمیں بہت جلد فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فارمیٹ میں آپ کسی ایک کھلاڑی پر بھروسہ کرکے میدان میں نہیں اترسکتے مگر ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو یکطرفہ طور پر میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل خان کی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں اور ان سے ایونٹ میں شاندار کارکردگی کی امید ہے۔خیبرپختونخوا کے کپتان محمد رضوان کا کہنا ہے کہ جارحانہ حکمت عملی ہی ہماری ٹیم کی پہچان اور اسی سوچ کے ساتھ ہم نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 2020 میں شرکت کررہے ہیں، خوش آئند عمل ہے کہ ایونٹ میں شریک تمام ٹیمیں بہترین ہیں لیکن ہماری ٹیم ٹورنامنٹ جیتنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔سدرن پنجاب کے کپتان شان مسعود کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں ہر ٹیم دو مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے گی لہٰذا ضروری ہے کہ ہماری ٹیم ایونٹ میں اپنی بہتر کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھے کیونکہ ڈبل لیگ پر مشتمل اس ایونٹ میں جو ٹیم لیٹ موممنٹم حاصل کرتی ہے وہ حیران کن نتائج دیسکتی ہے۔ شان مسعود نے کہا کہ بلاشبہ ہمارے پاس بڑے نام نہیں ہیں مگر ہماری ٹیم میں ایسے سینئر اور جونیئر کھلاڑی ہیں جو ایک دوسرے کو مکمل اسپورٹ کرکے بہترین کارکردگی دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سعد نسیم نے کہا کہ بلاشبہ گزشتہ سال سنٹرل پنجاب کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی تاہم اس مرتبہ اسکواڈ میں نئے کھلاڑیوں خصوصاً انڈر 19 کے ٹاپ پرفارمرز کی شمولیت کی وجہ سے بہتر کارکردگی کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل پنجاب کے موجودہ اسکواڈ میں بہترین آلراؤنڈرز سمیت سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کا ایک اچھا کمبی نیشن ہے۔سنٹرل پنجاب کے نائب کپتان کا کہنا ہے کہ کامران اکمل اور عابد علی جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں سمیت نسیم شاہ ، رضوان حسین اور قاسم اکرم سے بھی ایونٹ میں بہتر کارکردگی کی امید ہے۔

شیئر کریں

Top