گلگت بلتستان ریاست کا معتبر حصہ اور ناقابل تقسیم وحدت ہے مشتاق ایڈووکیٹ

n00735286-b.jpg

پاکستان، ہندوستان اور اقوام عالم اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا وعدہ کیا ہے اور تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے
ہر پانچ سال کے بعد وفاق ایک نئے نعرے کیساتھ لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے حالیہ وزیر امور کشمیر کا اعلان بھی ایک لولی پاپ ہے
گلگت (بادشمال رپورٹ ) سابق وزیر قانون و جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مشتاق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا ایک معتبر حصہ ہے ریاست ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے اور پاکستان، ہندوستان اور اقوام عالم اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا وعدہ کیا ہے اور تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے گلگت بلتستان کو آزادی کے بعد پاکستان کی بیوروکریسی نے بری طرح لوٹا ہے اور پاکستان میں نافذ ہر حکومت (باقی صفحہ7بقیہ نمبر21)
نے بیوروکریسی کی دی گئی لائن کے مطابق گلگت بلتستان کے ساتھ سلوک کیا ہے اور اختیارات کا مرکز ہر دور میں اسلام آباد ہی رہا ہے،ان خیالات کااظہار انہوں نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کو آج تک دئیے گئے تمام پیکیج اور آرڈرز میں وزارت امور کشمیر کی بالادستی نمایاں ہے ہر پانچ سال کے بعد وفاقی حکومت ایک نئے نعرے کے ساتھ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بیوقوف بناتی ہے انہوں نے کہاکہ حالیہ وزیر امور کشمیر کا اعلان بھی ایک لولی پاپ ہے جس کو عبوری پاکستانی صوبے کی کوٹنگ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس کی حکومتی پارٹی کے سوا تمام با شعور جماعتوں نے مسترد کیا ہے گلگت بلتستان اور تمام سٹیک ہولڈرز گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کے نظام حکومت پر متفق ہیں لہٰذا حکومت پاکستان مودی کے ایجنڈے تقسیم کشمیر کو نا کام کرنے کے لئے تقسیم کشمیر کے عمل سے باز آجائے ورنہ گلگت بلتستان کے لوگ اپنی 70 سالوں سے زیادہ عرصے کی محرومیوں کا حساب پاکستان کے حکمرانوں اور خاص طور سے موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت سے لینے حق بجانب ہوں گے۔
مشتاق ایڈووکیٹ

شیئر کریں

Top