گلگت کے تینوں حلقوں میں تین پارٹی صدور کی اپنی نشت جیتنے کیلئے سر توڑ کوشش

PTI-vs-PMLN-vs-PPP.jpg

[L:3]دیدارعلی کے آنے کے بعدحلقہ ون میں پی پی کی مستحکم پوزیشن کودھچکا،سلطان رئیس کے نشست چھوڑنے سے سلطان رئیس اورحمایت اللہ کوفائد ہ پہنچ سکتاہے
حفیظ الرحمن تجربہ کار سیاستدان لیکن مشکلات کاسامناکرناپڑسکتاہے، جگلوٹ میں قبائلی تقسیم کی وجہ سے تحریک انصاف کو سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے
گلگت(بیورورپورٹ) گلگت کے تینوں حلقوں میں تین پارٹیوں کے صوبائی صدور کی نشست جیتنے کیلئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں پہلی بار بڑی تعداد میں امیدوار سامنے آنے سے صورتحال غیر واضح ہے حلقہ ون گلگت میں پیپلز پارٹی کی مستحکم پوزیشن کواسلامی تحریک کے دیدار علی کے آنے سے دھچکا لگا ہے تاہم اسلامی تحریک سے سے قبل کے انتخابات میں ون ٹوون مقابلے کے بعد معمولی اکثریت سے(باقی صفحہ7بقیہ نمبر7)
کامیاب ہوتی رہی ہے اس لئے اس کے حلقے میں جیتنے کے امکانات فی الحال نظر نہیں آرہے دیدار علی اپنی شخصیت بچانے کیلئے نومل سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو ٹکٹ دے سکتے ہیں چونکہ انہوں نے وحدت مسلمین اور پیپلز پارٹی کی طرح انتخابی مہم نہیں چلائی دیدار علی کے امیدوار بننے کی صورت میں پیپلز پارٹی کو معمولی بالادستی حاصل ہو گی جو کسی بھی وقت کمزور پڑ سکتی ہے تاہم حلقے کے رحجانات اور ووٹرز کی اکثریتی ترجیح کے مطابق دیدار علی پیپلز پارٹی اور وحدت مسلمین کے مضبوط امیدواروں میں ووٹ تقسیم ہونے سے مولانا سلطان رئیس اور حمایت اللہ کو اس کا فائدہ ہوگا دیدار علی کے دستبردار ہو کر ٹکٹ کسی دوسرے رہنما کو دینے سے پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری ہوجائیگا جبکہ الیاس صدیقی کے دستبردارہونے کی صورت میں اسلامی تحریک کو کم اور پیپلز پارٹی کو زیادہ فائدہ ملے گا چونکہ کارکن اور ووٹر سطح پر دونوںجماعتوں میں اختلافات موجود ہیں ادھر سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے حامی ووٹروں میں اختلاف اور کئی امیدواروں کے سامنے آنے سے ان کی مشکلات بڑھ گئی ہے تاہم دیگر امیدواروں میں بھی اسی طرح کے اختلافات اور گلی محلوں میں متعدد امیدوار سامنے آنے سے ووٹ پول زیادہ مگر کم تعداد میں ووٹ لیکر جیتنے کے ا مکانات پیدا ہو گئے پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ شہری حدود میں لیگی ووٹروں اور وہ طبقے جن سے لیگی رہنماؤں سابقہ دور حکومت میں عہدے دینے کے معاہدے کر کے نظرانداز کیا گیا ہے وہ سب پیپلز پارٹی کے حامی بن گئے ہیں تاہم حفیظ الرحمن تجربہ کار سیاستدان ہونے کی وجہ سے اپنے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں حلقے کی شہری آبادی میں تحریک انصاف کااثر ورسوخ کم ہونے اور جگلوٹ کے علاقے میں قبائلی تقسیم کی وجہ سے تحریک انصاف کو سخت محنت کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اسی طرح شہری حدود میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد کو جگلوٹ کی حدود میں تبدیلی لانے کی صورت میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی امید کی جا رہی ہے جہاں حافظ حفیظ الرحمن کا قابل ذکر اثرورسوخ تھا جسے برقرار رکھنیکی صورت میں لیگی رہنما سیٹ بچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ادھر حلقہ تھری میںس یدجعفر شاہ کو بھی پیپلز پارٹی اور ڈاکٹر اقبال جیسے امیدواروںکا سامنا ہے جہاں جعفر شاہ بہتر پوزیشن میں ہونے کی اطلاعات ہیں مگر قومیت کاکارڈ استعمال ہونے کی صورت میں جعفر شاہ کو مشکلات ہونگی۔
پارٹی صدور

شیئر کریں

Top